05:08 pm
وزیرستان کا ہزار سال پرانا شہر جسے اولیائے کرام  کا شہر بھی کہا جاتا ہے،یہ شہرکس طرح آبادہوا،جانیں

وزیرستان کا ہزار سال پرانا شہر جسے اولیائے کرام  کا شہر بھی کہا جاتا ہے،یہ شہرکس طرح آبادہوا،جانیں

05:08 pm

جنوبی وزیرستان (ویب ڈیسک )جنوبی وزیرستان کاعلاقہ کانی گرم  ڈیرہ اسماعیل خان سے  ساڑھے چار گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ علاقہ کانی گرم  تقریباً ایک ہزار سال پرانا شہر ہے جسے اولیائے کرام کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔اس شہر میں بڑے بڑے اولیا گزرے ہیں اور ان کی قبریں بھی یہیں موجود ہیں۔جب محمود غزنوی نے سومنات پر 17 حملے کیے اور وہ سومنات کو فتح نہ کر سکا تو کسی نے محمود غزنوی سے کہا کہ یمن میں ایک قوم آباد ہے جس کو بریکی کہا جاتا ہے وہ بہت بہادر اور جنگجو قوم ہے، ان کو بلاؤ۔چنانچہ محمود غزنوی نے اس قوم کو بلا کر سومنات
پر حملہ کیا اور سومنات کو فتح کیا۔ جب یہ لشکر مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا وزیرستان سے ہو کر افغانستان جا رہا تھا تو بریکی قوم کے کچھ لوگ وزیرستان کے علاقے کانی گرم میں رک گئے اور یہی آباد ہو گئے۔برکی قوم کے بارے میں بابر نامہ میں لکھا ہے کہ برکی ایک پختون قبیلہ ہے جس کا مسکن برخ  جو بعد میں بگڑ کر برک بن گیا۔یہ قبیلہ، برک، افغانستان، جنوبی وزیرستان اور پشاور میں پایاں اور بالا اور جلندھر کے علاقے بابا خیل (جہاں لیفٹیننٹ جنرل واجد علی خان برکی پیدا ہوئے جو جنرل ایوب کے دست راست تھے اور ڈاکٹر نوشیروان برکی جہنوں نے شوکت خانم کو اصل شکل دی کے والد تھے) میں آباد ہے۔برکی قوم کی اپنی ایک مشکل اور پیچیدہ زبان ہے جس کو ارمڑی زبان کہا جاتا ہے۔ یہ زبان سوائے برکی قوم کے دیگر لوگوں کے لیے سمجھنا مشکل ہے۔ وزیرستان کے باقی لوگ اس زبان کو ’جنوں‘ کی زبان کہتے ہیں کیونکہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔اس زبان کے بارے میں ایک پرانا قول ہے کہ جب برطانیہ کی حکومت تھی تو انگریز آفیسر نے اس زبان کے متعلق کہا تھا کہ ’ہر زبان سیکھی جا سکتی ہے مگر ارمڑی زبان ایسی ہے کہ جیسے ٹین میں پتھر ڈال کر اس کو بجایا جاتا ہے‘۔ مطلب اس زبان کو سیکھنا نا ممکن ہے اور ہر زبان کی گرائمر ہے جبکہ ارمڑی زبان کی گرائمر نہیں۔یہ انگریزوں کے دور کی بات ہے لیکن اب اس زبان کی گرائمر موجود ہے۔ارمڑی زبان بھی ملٹری آپریشن سے کافی متاثر ہوئی اور برکی قوم ملٹری آپریشن سے ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، ٹانک، کراچی، اسلام آباد میں رہائش پذیر ہوئے اور یہاں پر ارمڑی زبان کے ساتھ ساتھ پشتو اور اردو مکس ہو گئی اور رفتہ رفتہ یہ زبان محدود ہوگئی۔وہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ارمڑی زبان پر توجہ نہ دی تو شاید یہ زبان ختم ہو جائے۔ اس زبان کے لیے برکی قوم حکومت سے اکیڈمی بنانے اور ساتھ ساتھ ملٹری آپریشن کے بعد یہاں آبادکاری کے لیے بھی اپیل کرتے رہے ہیں۔برکی قوم کے افراد تعلیمی لحاظ سے بہت آگے ہیں اور سول، فوجی، سرکاری اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر تعینات ہیں۔اس قوم کے درمیان اتفاق کا اندازہ ان کے گھروں کو دور سے دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ ان کے گھر اس طرح سے ساتھ ساتھ بنائے جاتے ہیں جیسے تمام گھر ایک دوسرے میں گھسے ہوئے ہیں۔جہاں تک اس شہر کو اولیا کا شہر کہے جانے کی بات ہے تو یہاں مشہور اولیا سلیمان خیل قوم کے دادا سلیمان بابا کا مزار بھی ہے جو اکبر بادشاہ نے بنوایا تھا۔ اسی طرح میاں شکار جن بابا کی قبریں ہیں جن کے نام سے ظاہر ہے شکار کرنے والے۔ ان کے مزار میں ان کے شکار کیے ہوئے جانوروں کی سینگ لٹکے ہوئے تھے جو ملٹری آپریشن کے دوران آگ لگنے سے جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے۔ان کے علاوہ پشتو ادب کا مشہور نام پیر روشان کا تعلق بھی اسی علاقے کانی گرم سے ہے، جنہوں نے پشتو ادب کی بنیاد رکھی۔کانی گرم کی مٹی بہت زرخیز ہے اور یہاں پر کافی باغات وغیرہ تھے جن میں سیب، الوچہ،شہتوت،خوبانی اور اخروٹ قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ یہاں ہر قسم کی سبزیاں بھی اگتی ہیں جس میں بھنڈی، ٹماٹر، سبز مرچ، پیاز وغیرہ شامل ہیں مگر کانی گرم کا  کھیرا اور آلو کافی مشہورہے۔ ملٹری آپریشن کے دوران ان زمینوں کو بھی کافی نقصان پہنچا اور یہ زرخیر زمینیں اب بنجر نظر آرہی ہیں کیونکہ ملٹری آپریشن کے دوران ہجرت سے یہ زمینیں بے یارو مددگار رہ گئیں اور اب حالات مناسب بہتر ہونے کے بعد حکومت نے بھی ان زرخیز زمینوں کی دوبارہ آبادکاری پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ اب مقامی لوگوں کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت ان زمینوں کو آباد کر سکیں۔