05:38 pm
محترم جناب وزیر اعلی محمود خان صاحب! 

محترم جناب وزیر اعلی محمود خان صاحب! 

05:38 pm

السلام علیکم!
آج میں نہ صرف اپنے ہوم ٹاؤن تحصیل درگئی بلکہ تحصیل بٹ خیلہ اور #TheSwitzerlandofEast سوات کےGate way مالاکنڈ کے غیور عوام کی طرف سے مخاطب ہوں. 
جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ضلع مالاکنڈ انتہائی خوبصورت لیکن بنیادی سہولتوں سے محروم پسماندہ علاقہ ہے.میں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا کہ  زمین کا یہ حسین ٹکڑا  پہلے ایجنسی اور پھر  ضلعی انتظامیہ کے بیچ ایک ایسا بدقسمت علاقہ رہا کہ نہ ہم  FATA یا PATA کے مراعات سے مستفید ہوئےاورنہ ہمیں سن اسی کی دہائی میں ایجنسی کی حیثیت ختم ہونے کے بعد باقاعدہ  ضلع کا کوٹہ اور  اختیارات نصیب ہوئے.میں اس تفصیل میں بھی جانا نہیں چاہتاکہ کس نے،کن وجوہات کی بناء پر، کیونکر اس علاقے کو محروم رکھا لیکن جس طرح عوامی نمائندے اپنے اپنے Constituencies میں سکول،روڈ،ہسپتال، یونیورسٹی اور کئ دوسرے ترقیاتی کام منظور کراتے ہیں اس طرح ہمارے ہاں کوئی رواج نہیں رہا.
 
وزیر اعلی صاحب! باقی تفصیل تو ہمارے منتخب نمائندے آپ کے سامنے رکھیں گے کیونکہ ہم نے اپنے علاقے کے مسائل ایم این اے جنید اکبر صاحب اور ڈیڈک کمیٹی کے چیئرمین پیر مصور خان غازی صاحب کو تفصیلاً تحریر کئے ہیں. ابھی یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کس حد تک آپ کو Convince کرنے میں کامیاب ہوں گے اور آپ کس حد تک ایک بڑے کی حیثیت سے صوبے کی تمام اضلاع کو برابری کی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم کو یقینی بنائینگے اور مالاکنڈ کو بھی ان ترقیاتی منصوبوں میں شامل کریں گےکیونکہ اکثر دیکھا گیا ہےکہ بیشتر وزراءاعلیٰ صرف اپنے علاقے کو پورا صوبہ تصور کرتے ہیں اور باقی اضلاع کو دوسرے حکومتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں. میں یہاں پر انہی مسائل کو آپ کی خدمت میں پیش کر تا ہوں.امید ہے کہ آپ Provincial Subject کےحوالے سے اس میں اپنا کردار ادا کریں گے. 1. گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے گاؤں سمیت ضلع مالاکنڈ کے ذیادہ تر سرکاری سکولوں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی لہذا ہر گاؤں کی سطح پرکم از کم ایک ایک ماڈل سکول بنایا جائے اور باقی سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے. 2. گاؤں کی سطح پر بیسک ہیلتھ یونٹ کو بنیادی سہولیات دی جائے. تحصیل ہسپتال درگئی کوکیٹیگری B کا درجہ دیا جائے. درگئی اور بٹ خیلہ ہسپتال کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے. 3.تحصیل لیول پر یونیورسٹی کیمپس کے منظوری دی جائے عجیب بات یہ ہے کہ مالاکنڈ کے نام پر یونیورسٹی تو بنی ہے لیکن اس کا بلڈنگ چکدرہ ضلع دیر میں ہے. ضلع دیر کے لوگ بھی ہمارے بھائی ہیں لیکن ہمارے ہاں بھی کم ازکم ایک ایک کیمپس کا ہونا ضروری ہے. 4. گورنمنٹ ووکیشنل سینٹر خارکئ درگئی کو ٹیکنیکل کالج کا درجہ دیا جائے.اس میں ڈپلومہ کلاسزکا آغاز کیا جائے اور اس کالج میں مقامی لوگوں کو بھرتی کیا جائے. 5. سوات موٹر وے صوبائی حکومت کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے لیکن اس کی وجہ سے ہمارے صوبے کے وزیراعلیٰ محمود خان صاحب ، وزیر مواصلات مراد سعید صاحب اور ہمارے ایم این اے جنید اکبرصاحب نے نوشہرہ مردان تا درگئی، بٹ خیلہ روڈ کو استعمال کرنا چھوڑ دیا اسلیے صوبائی حکومت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس روڈ کو بلکل نظر انداز کر دیا لہٰذا اس روڈ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. مزید یہ کہ پلئ انٹرچینج تا درگئی روڈ کو موٹر وے لنک روڈ کا درجہ دیا جائے اور اسے از سر نو تعمیر کیا جائے تاکہ یہاں سے پشاور اسلام آباد اور ملک کے دوسرے علاقوں تک رسائی آسان ہو جائے. فضل سبحان سبحانی (خارکئ) درگئی مالاکنڈ حال اسلام آباد