10:37 am
تحریک انصاف اور اپوزیشن نے تحفظ بنیاد اسلام بل کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا  

تحریک انصاف اور اپوزیشن نے تحفظ بنیاد اسلام بل کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا  

10:37 am


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) تحریک انصاف اور اپوزیشن نے تحفظ بنیاد اسلام بل کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا ، سید یاور عباس بخاری نے اس حوالے سے معافی کیوں مانگی ، جانیں ۔۔۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران تحفظ بنیاد اسلام بل کا معاملہ زیر بحث آیا تو حکومتی اور اپوزیشن ارکان دونوں نے بل کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ صوبائی وزیر بھی بل کے خلاف احتجاجاً کھڑے ہوئے۔
تحریک انصاف کے رہنما سید یاور عباس بخاری نے بل کی حمایت کرنے پر معافی مانگی اور قومی اسمبلی میں کہا کہ اس بل سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گی ، اسمبلی کسی کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس کا فرقہ کیا ہو گا ۔ پنجاب اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن نے پاس ہوئے بل کو واپس لینے کا مطالبہ کر دیاہے ، پیر اشرف رسول نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل کو شہزاد اکبر کے کہنے پر اسمبلی سے منظور کرایا گیا ۔پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی سید یاور عباس بخاری نے بل کی حمایت کرنے پر معافی مانگ لی ہے ، انہوں نے کہا کہ اس بل سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو گی ، اسمبلی کسی کو یہ نہیں کہہ سکتی کہ اس کا فرقہ کیا ہو گا ۔ اراکین اسمبلی کا کہناتھا کہ بل واپس اسمبلی میں لا کر تمام مکتبہ فکر کے افراد پر کمیٹی بنائی جائے ، بل واپس لایا جائے اسے کسی صورت بھی قبول نہیں کریں گے ، ابر یہ بل حکومت کا ہے تو کابینہ کی منظوری سامنے لائی جائے ، اگر بل پرائیویٹ طور پر منظور کرایا گیاہے تو کس کمیٹی سے منظور ہواہے۔ پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسین مرتضی نے بل سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کہا گیا کہ میرا نام بھی اس کمیٹی میں تھا حالانکہ مجھے معلوم ہی نہیں ہے ۔حکومتی اراکین کا کہناتھا کہ اس بل پر ہمیں اندھیرے میں رکھ کر منظور کرایا گیا ، آئندہ ہر بل کو آنکھیں بند کر کے منظور نہیں کریں گے ۔ وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت کا کہناتھا کہ بل منظور ہونے کے بعد اس پر اعتراضات آئے تھے اور اسی وجہ سے بل کو گورنر کے پاس منظوری کیلئے نہیں بھیجا گیا ، بل پر تحفظات دور کرنے کیلئے علماءکی رائے سے ترمیم کریں گے ، جب تک اتفاق رائے نہیں ہوتا کوئی پیش رفت نہیں ہو گی ۔