07:55 am
میجر اسحا ق شہید کی کرامت ، آنکھوں سے آنسو اور شہادت کے 2روز بعد بھی تازہ خون بہتا رہا،

میجر اسحا ق شہید کی کرامت ، آنکھوں سے آنسو اور شہادت کے 2روز بعد بھی تازہ خون بہتا رہا،

07:55 am


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )میجر اسحا ق شہید کی کرامت ، آنکھوں سے آنسو اور شہادت کے 2روز بعد بھی تازہ خون بہتا رہا، شہادت سے قبل ہی قدرت کی طرف سے کیا اشارہ دیدیا گیا تھا ،۔۔ چند ماہ قبل میجراسحاق شہید ہوئے جن کی شہادت نے پاکستانی نوجوانوں میں ایک نئی روح پھونکی ، جن کی شہادت سے احساس ہوا کہ پاک فوج دنیا کی وہ بہترین فوج ہے جس کے جری نوجوان اپنے اہل و عیال ، اپنے پھول جیسے بچوں اور ٹھنڈی ہوائوں جیسے والدین پر وطن کو مقدم رکھتے ہیں
 اور جب بھی ضرورت پڑے وہ اپنے جسم کا آخری قطرہ تک وطن پر قربان کر دیتے ہیں ، قارئین کرام آج ہم آپ کو میجر اسحاق شہید سے جڑے چند وہ حیران کن واقعا ت بتائیں گے جوان کی اہلیہ نے میڈیا کو بتائے ۔ میجر شہید کی اہلیہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ ہماری شادی والدین کی مرضی سے ہوئی تھی، ہماری خوشحال زندگی کو دیکھ کر لوگ ہم پر رشک کرتے تھے۔ ہم ہمیشہ اپنی زندگی کی ہر چھوٹی خوشی کو بھرپور انداز میں جیتے تھے۔جب ہم ایک خوبصورت بیٹی فاطمہ کے ماں باپ بنے۔لگتا تھا دنیابھر کی ہر خوشی ہمارے قدموں میں آ گئی ہے ۔ یہ جنوری2017 کی بات ہے میں نے ایک رات ایک خواب دیکھا کہ اسحاق شہید ہو گئے ہں اور میں بہت تکلیف میں ہوں ۔ میں اٹھی تو پسینے میں شرابور تھی،میں نے اس خواب کا ذکر کسی سے نہیں کیا اور ذہن میں آنے والے تمام خیالات کو جھٹک دیا۔ یہ نومبر کی بات ہے ہم لاہور آئے ہوئے تھے ۔ ڈی آئی خان پوسٹنگ تھی ۔ہم شام کو ڈی آئی خان پہنچے تو ساتھ ہی اسحاق کو جیپیں لینے آگئیں۔ انہوں نے آگے مشن پر کولاچی جانا تھا ۔ مجھے بہت فکر ہوئی کہ ابھی تو آئے ہیں۔کھانا تو کھا لیں ۔ راستے میں انہوں نے ثوبت کا آرڈر دیا تھا ،یہ ڈیرہ اسماعیل خان کی مشہور ڈش ہے اور اسحاق کو بہت پسند تھی۔ مجھے کہنے لگے تم بھی آو ہم مل کر کھاتے ہیں۔ میں نے کہا نہیں آپ کھائیں ،میں آپ کی پیکنگ کر لوں۔ اسحاق کپڑوں کے معاملے میں بہت لاپرواہ تھے۔ اس لئے میں ہی ان کی شاپنگ کرتی تھی ۔ابھی بھی میں ان کے لئے نئے کپڑے لائی تھی ۔ وہ پیک کرنے لگی۔اسحاق نے کھانا کھایا اور آ کر بچی کو پیار کرنے لگے ۔پھر بولے ایک تصویر توبنا دو۔ اس سے پہلے آج تک انہوں نے کبھی تصویر کا نہیں کہا تھا۔ہم مستقل بات کرتے رہتے تھے۔ لیکن کام کے ٹائم پر میں انہں تنگ نہیں کرتی تھی ۔ اگلے دن گیزر کام نہیں کر رہا تھا تو انہوں نے مجھے سمجھایا کہ ایسے چلاو اور سیکھومیرے بنا کیسے کرو گی یہ سب ،انہوں نے ایسے پہلے کبھی نہیں کہا تھا مجھے۔ ۔ شہادت والے دن ہم میسج پر بات کرتے رہے ۔پھر میسج کا جواب آنا بند ہو گیا۔ مجھے لگا وہ مصروف ہیں۔کیونکہ ان کے واٹس ایپ کا ٹک بلو نہیں ہواتھا۔ وہ کہتے تھے کام کے درمیا ن عائشہ مجھے میسج نہ کیا کرو ۔مر ی توجہ دوسری طرف مبذول ہو جاتی ہے۔۔۔ آپریشن رد الفساد چل رہا تھا۔اس وقت اطلاع ملی تھی کہ آج مطلوب دہشت گردظاہر شاہ دو سال بعدافغانستان سے اپنے گھر آیاہوا ہے ۔ بہت دن سے یہ لوگ اس دہشت گرد کی تاک میں تھے۔سرچ آپریشن اس کی تلاش مں چلتا رہتا تھا ۔ اس دن اس کے والد سے اس کا پوچھا تو اندازہ ہو گیا کہ وہ گھر میں ہی چھپا ہے ۔ اسحاق ٹیم کے ساتھ انتظار میں تھے ۔ ظاہر شاہ افغانستان کے مشن کو ہیڈ کر رہا تھا ۔ کسی وقت کچھ بھی کر سکتا تھا ۔اسحاق اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کے ٹھکانے کے اندر داخل ہو گئے ۔وہ پچھلے کمرے میں چھپا ہوا تھا۔ اسی وقت لائٹ بھی چلی گئی ۔انہوں نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اندر لائٹ ڈالی تو اندر سے بزدل دہشت گرد نے دو فائرکئے جو اسحاق کے داہنے ہاتھ پر لگے ۔ جب داہنا ہاتھ کام نہیں کر رہا تھا تو اسحاق نے اپنے بائیں ہاتھ کی مدد سے راونڈ فائر کئے اور زخمی ہاتھ سے میگزین بھی چینج کی۔ اسی دوران دشمن نے باقی سپاہیو ں کی طرف ہینڈ گرنیڈ پھینکا جس پر اسحاق نے سپاہیوں کی جانیں بچانے کے لئے انہں دھکا دے کر گرنیڈ پر چھلانگ لگا دی ۔ اسی وقت گرنیڈان کے پیٹ پھٹ گیا۔ آخری لمحے ان کی زبان پر بار بار کلمہ کا ورد تھا ۔ شہادت سے پہلے اسحاق کا دایاں ہاتھ شدید زخمی ہو چکا تھا لیکن وہ بائیں سے لڑتے رہے ۔اپنی اس بہادری پر انہں تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ میں ان سب باتوں سے بے خبر تھی۔ اچانک فاطمہ بہت زور سے رونے لگی۔میں اسے چپ کرونے لگی لیکن آج پتا نہں کیا ہوا وہ چپ نہیں ہو رہی تھی۔ پھر اسے تھپکنے لگی اور کہا فاطمہ با با،با با تویہ سن کر وہ چپ ہو گئی ۔ اس لمحہ مجھے لگا اسحاق کو کچھ ہوگی

تازہ ترین خبریں