11:19 am
کیا آپ جشن آزادی کے گوگل ڈوڈل پر موجود اس مقام کے بارے میں جانتے ہیں؟

کیا آپ جشن آزادی کے گوگل ڈوڈل پر موجود اس مقام کے بارے میں جانتے ہیں؟

11:19 am



اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے یوم آزادی پر گوگل نے اپنا ڈوڈل متعارف کرا دیا، مگر اس بار ڈوڈل پر موجود اس مشہور مقام کے بارے میں آپ جانتے ہیں؟۔سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے کچھ سالوں سے یہ سلسلہ شروع کیا ہے کہ مختلف ثقافتی اور سماجی طور پر اہمیت کے حامل دنوں پر اپنے ڈوڈل کے ذریعے خراج تحسین پیش کرتا ہے، آج 14 اگست پر پاکستان کو آزاد ہوئے 72 سال مکمل ہوئے تو گوگل نے پاکستان کے یوم آزادی پر اپنا ڈوڈل اپڈیٹ کر دیا۔ مگر اس بار گوگل کے
ڈوڈل میں نظر آنے والے اس تاریخی مقام کو ہر پاکستانی نہیں جانتا ہوگا۔ اس بار گوگل نے ڈوڈل میں کھوجک ٹنل کو شامل کیا ہے۔ یہ وہی کھوجک ٹنل ہے جو 5 روپے کے پرانے نوٹ کے پیچھے ہوا کرتا تھا۔ کوئٹہ کے مغرب میں 113 کلومیٹر دور واقع کھوجک ٹنل کے سامنے شیلا باغ نامی ایک قصبہ ہے۔ برطانیہ اور روس کے درمیان جاری گریٹ گیم کے دوران دونوں قوتیں اپنا اقتدار وسطی ایشیا میں پھیلانا اور اس خطے میں موجود قدرتی وسائل پر قابض ہونا چاہتی تھیں۔ 19 ویں صدی کے اختتام پر ہندوستان میں موجود برٹش راج، روس کے وسطی ایشیا میں پھیلتے اقتدار کو لے کر پریشان ہونے لگا تھا۔ اسی ڈر سے کہ روسی افغانستان سے قندھار کے ذریعے اس خطے میں داخل ہو سکتے ہیں، برٹش نے قندھار تک ریلوے پٹریوں کا جال بچھانے کا فیصلہ کر لیا، تاکہ روسی افواج کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ اپنی فوجوں کو وہاں بھیج سکیں۔ اس مقصد کے لیے برطانوی راج کو مشہور 2290 میٹر بلند درہ کھوجک کو بائی پاس کرنا تھا جو کہ صدیوں سے فوجوں، تاجروں اور فاتحوں کی گزر گاہ رہا ہے۔ 3.9 کلومیٹر طویل یہ سرنگ 1888 سے 1891 کے درمیان درہ کھوجک کے نیچے تعمیر کی گئی تھی اور اس سرنگ کا نام بھی اسی درے کے نام پر کھوجک ٹنل رکھا گیا تھا۔ ریلوے پٹری کوئٹہ سے گزرتے ہوئے کھوجک سرنگ پار کرتی ہے اور پھر سیدھا پاک افغان سرحدی شہر چمن تک جاتی ہے۔ برطانوی راج کے دور میں ریلوے لائن اس سے زیادہ آگے نہیں جا سکی۔ سرنگ کی پیشانی پر ایک چھوٹی تختی نصب ہے جس پر اس کا نام اور اس کی تعمیری مدت لکھی گئی ہے۔ یہ جگہ شیلا باغ قصبے میں سطح سمندر سے 1939.8 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ یاد رہے کہ گوگل 2011 سے پاکستان کے یوم آزادی پر ڈوڈل بنا رہا ہے، سب سے پہلے اس نے چاند ستاروں اور مینار پاکستان سے مزین سبز رنگ کے ڈوڈل کے ذریعے مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ 2012 میں دنیا بھر میں مشہور پاکستانی ٹرک آرٹ کو گوگل ڈوڈل کے ذریعے اجاگر کیا گیا۔ 2013 میں گوگل ڈوڈل بالکل ہی منفرد تھا جس میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ‘کے ٹو’ کے ذریعے شمالی علاقہ جات کو دکھایا گیا اور پس منظر میں پاکستان کے قومی جانور مارخور کو دکھایا گیا جو ایک پہاڑ پر چاند ستارے کے نیچے کھڑا تھا۔2014 میں گوگل کی جانب سے اسلام آباد میں واقع قومی یادگار یا پاکستان مونومنٹ کی تصویر کے ذریعے مبارکباد دی گئی۔ 2015 کا گوگل ڈوڈل بهی پاکستان کی تاریخ کے ایک خوبصورت گوشے کی عکاسی پر مبنی تها، جس میں لاہور کے شاہی قلعے کو دکهایا گیا۔ اسی طرح 2016 میں گوگل نے موہن جو داڑو کے نوادرات کی تصویر کے ذریعے مبارکباد دی۔ 2017 میں بھی گوگل نے پاکستانی پرچم کو ڈوڈل کا حصہ بنایا اور پہلی بار گرافکس ڈوڈل دیا گیا۔ 2018 میں بھی گرافکس پر مبنی ڈوڈل تیار کیا گیا تھا جس میں سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔ 2019 میں خیبر پاس کو اپنے ڈوڈل کا حصہ بنایا جس میں سبز ہلالی پرچم بھی موجود تھا۔