05:37 am
"پہلے سری نگر لینے کا سوچا جاتا تھا، آج مظفر آباد کو بچانے کا سوچا جا رہا ہے، موجودہ حکمران اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے"مولانا نے کیا کچھ

"پہلے سری نگر لینے کا سوچا جاتا تھا، آج مظفر آباد کو بچانے کا سوچا جا رہا ہے، موجودہ حکمران اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے"مولانا نے کیا کچھ

05:37 am

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ موجودہ حکمران اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے، پہلے سری نگر حاصل کرنے کا سوچا جاتا تھا، آج مظفر آباد کو بچانے کا سوچا جا رہا ہے، اب مارچ نہیں پاکستان بچانے کیلئے ملین مارچ کریں گے۔ انہوں نے آج یہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی محض ناچ گانوں کا نام نہیں، آزادی بازاروں منچلوں کے بھنگڑوں کا نام نہیں ہے، آنی والی نسلوں کو محسوس ہونا چاہیے تھا، کہ 73سال قبل انگریز کا زمانہ وہ تھا اور آج مسلمان اور اسلام کا زمانہ
یہ ہے۔ جس وطن عزیز کو ہم نے کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا۔پاکستان میں کوئی قانون شریعت، قرآن سنت کے منافی نہیں بن سکتا۔ہندوستان کی تقسیم ہوچکی ہے لیکن آزادی کی جدوجہد آج بھی جاری ہے، جے یوآئی ف فرنٹ لائن پر جنگ لڑ رہی ہے۔ ہم نے مغرب، امریکا، ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کیا، لوگ کہتے آپ نے سب سے جنگ چھیڑ لی ہے۔انشاء اللہ ہمارے ساتھ اللہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے ، کشمیریوں کی عزت پر حملے ہورہے ہیں تعجب کی بات یہ ہے کہ ہم نے 70سال تک کشمیریوں کی جنگ کیا لڑی ہے؟ ہندوستان نے کشمیر کی حیثیت کو ختم کردیا اور ہم پسپائی کی طرف چلے گئے۔ کل ہم سوچ رہے تھے ہم نے سری نگر کیسے لینا ہے، آج سوچ رہے ہیں مظفر آباد کیسے بچانا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے؟ فلسطین کی جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن آج ہم اسرائیل کے ناجائز قبضے کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم اپنی آزادی سے وفا کررہے ہیں، نہ ہی کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی سے وفا کررہے ہیں۔ جو حکمران مسلط ہیں، یہ ہمارے مذہب یا تہذیب سے کوئی وابستگی نہیں رکھتے۔ مجھے ایک موقع پر کہا گیا تھا کہ پختونوں کی جڑیں کاٹنے کیلئے اس سے بہتر حکومت کوئی نہیں۔ہم ان آمرانہ رویوں سے پہلے بھی لڑیں ہیں آج بھی تیار ہیں۔ہمیں کوئی خوف نہیں ہے، ہمیں بے نیاز ہوکر میدان میں لڑنا، ہمیں پارٹی، ذاتی مفادات سے بالا تر ہوکر پاکستان کے مفاد کی جنگ لڑنی ہے، موجودہ حکمران اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتا، 0.3پر شرح نمو آگئی ہے، تاجر، مزدور، زمیندار رو رہا ہے، ان کی آنکھوں کے آنسو خشک ہوگئے ہیں،تم کہتے ہو کہ مطمئن ہوگئے ہیں۔