08:12 am
یہ ہوتی ہے حکومت کی طاقت ،نواز شریف کا اے پی سی میں ممکنہ خطاب  حکومت نے ایسا اعلان کردیا جو اپوزیشن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

یہ ہوتی ہے حکومت کی طاقت ،نواز شریف کا اے پی سی میں ممکنہ خطاب حکومت نے ایسا اعلان کردیا جو اپوزیشن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا

08:12 am

اسلام آباد (ویب ڈیسک) نواز شریف کا اے پی سی میں ممکنہ خطاب، حکومت نے بھی بڑا اعلان کر دیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ نواز شریف کا اے پی سی سے خطاب نشر ہوا تو پیمرا اور دیگر کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے۔شہباز گل کا کہنا تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ مفرور مجرم سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہواور وہ بھاشن دے؟ شریف خاندان جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتا، بیماری پر بھی غلط بیانی کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی تھی،
نواز شریف نے اے پی سی میں شرکت کی دعوت قبول کی ہے، نواز شریف آل پارٹیز کانفرنس سے ویڈیو خطاب کریں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کرے گی اور یہ کانفرنس 20 ستمبر کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہو گی، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کی طرف سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلیفون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں اور عدالت نے نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دئیے،جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے نواز شریف کی درخواستیں مسترد کر دیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حاضری سے استثنی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں ۔عدالت نے نواز شریف کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا.نوا زشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری 22 ستمبر کیلئےجاری کیےگئے، نوازشریف کو مفرور قرار دینےکی کارروائی شروع کر دی گئی نمائندے کے ذریعے پیروی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی۔ نواز شریف لندن میں علاج کے لئے گئے تھے کرونا وائرس کے آنے کے بعد نواز شریف کے علاج بارے ذاتی معالج بھی خاموش ہیں نواز شریف کے پلیٹ لٹس کے اتار چڑھاؤ بارے کوئی خبر نہیں دی جا رہی.اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، فیملی ممبران اور ڈاکٹر عدنان بھی میاں نواز شریف کی صحت بارے خاموش ہیں،میاں نواز شریف کی صحت بارے معلومات کے لئے رابطہ کیا تو جواب نہیں دیا جا رہا۔ شہباز شریف بھی نواز شریف کے ہمراہ لندن گئے تھے لیکن وہ کرونا کے پھیلاؤ کے بعد واپس آچکے ہیں، شہباز شریف کرونا کے حوالہ سے حکومت پر روزانہ تنقید تو کر رہے ہیں لیکن نواز شریف کی صحت بارے وہ بھی خاموش ہیں، مریم نواز نے بھی لندن جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن حکومت نے جانے کی اجازت نہیں دی، مریم نواز نے بھی والد کی صحت بارے ابھی تک کوئی ٹویٹ نہیں کی.اب اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی میں شرکت کے لئے بلاول نے دعوت دی تو نواز شریف نے حامی بھر لی۔

تازہ ترین خبریں