01:20 pm
نوازشریف سے ملاقاتبیروزگار نوجوان تیاری کرلیں ،سرکاری ملازمتوں کے شاندار مواقع : حکومت نے 25 ہزار نوکریوں کا اعلان کردیا

نوازشریف سے ملاقاتبیروزگار نوجوان تیاری کرلیں ،سرکاری ملازمتوں کے شاندار مواقع : حکومت نے 25 ہزار نوکریوں کا اعلان کردیا

01:20 pm

پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختون خوا کے وزیرِ تعلیم اکبر ایوب خان نے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں کہا ہے کہ تمام بند مکتب و اسکولز کھول دیئے جائیں گے جبکہ مزید 25 ہزار اساتذہ کو بھرتی کیا جائے گا۔دوسری جانب اپوزیشن اراکین نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی تو لگائی گئی لیکن تعلیمی نظام وہی پرانا ہے۔خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں شعبۂ تعلیم کے حوالے سے بحث ہوئی۔صوبائی وزیرِ تعلیم اکبر ایوب خان نے اپوزیشن اراکین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے 12 ہزار اساتذہ بھرتے کیئے، جس پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا، جبکہ
مزید 25 ہزار اساتذہ اور 3 ہزار اے ای ڈی اوز بھرتی کیئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی ادارہ ایٹا کی استعدادِ کار بڑھا کر اس کے ذریعے ٹیسٹ کرائے جائیں گے، صوبائی کابینہ اسکولوں میں سیکنڈ شفٹ کلاسز کی منظوری دے گی۔اکبر ایوب نے کہا کہ ایک ہزار کمیونٹی اسکولز قائم کیئے جا رہے ہیں جبکہ 3 سال میں تمام تباہ شدہ اسکولوں کو بھی تعمیر کیا جائے گا۔اس سے قبل اپوزیشن اراکین نے محکمۂ تعلیم کی کارکردگی پر تنقید کی۔اے این پی کے رکن سردار حسین بابک نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھرتیوں کے لیے ٹیسٹنگ ادارے کروڑوں روپے کما رہے ہیں، ان کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے۔مسلم لیگ نون کے رکنِ صوبائی اسمبلی سردار محمد یوسف زمان نے کہا کہ وفاقی وزیرِ تعلیم یکساں نظامِ تعلیم کا جو ڈھول پیٹ رہے ہیں وہ سچ ہی ہو، مختلف ادارے جو ٹیسٹ لے رہے ہیں وہ شفاف نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے علاقے میں مساجد میں بنائے گئے اسکولز بند کر دیئے گئے جبکہ 7 سال سے زلزلے سے تباہ حال اسکولز بحال نہیں کیئے گئے۔اے این پی کے رکن خوش دل خان نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی تو لگائی گئی لیکن تعلیمی نظام وہی پرانا ہے، فنی تعلیمی اداروں کا تو بیڑا غرق ہو گیا ہے۔اے این پی کے رکنِ صوبائی اسمبلی نثار احمد مہمند نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں انٹرنیٹ نہیں ہے اور کورونا کی وباء کے دوران قبائلی اضلاع کے 15 ہزار طلباء آن لائن کلاسز سے محروم رہے۔جے یو آئی ف کے رکنِ اسمبلی اعصام الحق نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز سے مدارس متاثر ہوئے، تاہم ان کو معاوضہ نہیں دیا گیا، ان کی تعمیرات کے لیے معاوضہ دیا جائے۔