01:22 pm
 125 ارب روپے کی رقم کون دے گا؟مکمل تفصیلات جانیں اس خبرمیں

125 ارب روپے کی رقم کون دے گا؟مکمل تفصیلات جانیں اس خبرمیں

01:22 pm


کراچی (ویب ڈیسک )کراچی شہر میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی نے وفاق، صوبے اور شہر کی سیاسی اور انتظامیہ مشینری کو متحرک کردیا ہے۔شہر کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے وزیرِاعظم نے صوبائی حکومت کے اشتراک سے 1100 ارب روپے کا کراچی پیکج دیا ہے۔ اس پیکج میں رہائش، برساتی اور سیوریج کے نالوں کی ری اسٹرکچرنگ اور ری ماڈلنگ کے ساتھ ساتھ سفری سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے، بشمول گرین بس اور کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی۔کراچی پیکج کے اعلان کے ساتھ ہی سرمائے کی فراہمی سے متعلق مشکلات سامنے آنے لگ گئی ہیں مگر وہ جاننے سے پہلے کراچی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے لیا جائے۔کراچی پاکستان 
کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جس کی آبادی تازہ مردم شماری کے مطابق ایک کروڑ 60 لاکھ بتائی گئی ہے جو سندھ کی کل آبادی کا ایک تہائی سے زائد ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے شہروں میں بسا ہر پانچواں شہری کراچی میں بستا ہے۔ اس شہر کی شاید سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کی جی ڈی پی میں 12 سے 15فیصد کا شراکت دار ہے۔کراچی پاکستان کا پہلا شہر ہے جس کا باقاعدہ ماسٹر پلان تھا۔ جس کے تحت شہر میں منظم رہائشی منصوبے بنائے گئے۔ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) نے 45 رہائشی اسکیمیں دیں مگر اس کے باوجود کراچی شہر کا 60 فیصد حصہ کچی آبادیوں پر مشتمل ہے۔ شہر میں چائنا کٹنگ کی وجہ سے کھلی عوامی جگہیں ختم ہوتی جارہی ہیں جبکہ بلڈر مافیا کی وجہ سے بہت سی تاریخی عمارتیں بھی خطرے کا شکار ہیں۔ شہر کے باغات پر قبضہ ہوچکا ہے اور وہاں رہائشی اور تجارتی مراکز بن چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے اب یہاں صرف 4 فیصد رقبے پر سبزہ ہے، حالانکہ عالمی معیار کے مطابق اسے کم از کم 10 فیصد ہونا چاہیے۔کراچی شہر کی گورننس بہت ہی کمزور اور پیچیدہ ہے۔ شہر میں حکومتی اداروں کے درمیان ملکیت اور حدود کے تنازعات ہیں۔ اس کا اندازہ کراچی کی مرکزی سڑک شاہراہِ فیصل سے لگائیں جس میں جابجا کنٹونمٹ اور سندھ حکومت کی ملکیت آتی رہتی ہے اور سڑک کا حجم اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اب سڑک کس کی حدود میں داخل ہوگئی ہے۔شہر میں کوئی ایک میونسپل یا بلدیات موجود نہیں ہے۔ بلدیہ عظمٰی کراچی کے علاوہ 5 کنٹونمٹ بورڈز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور دیگر وفاقی اداروں کی زمینی ملکیت اور رہائشی کالونیاں شامل ہیں اور یہ سب اپنے اپنے طور پر بلدیاتی خدمات فراہم کرتے ہیں اور اس کے لیے کوئی مربوط منصوبہ بندی موجود نہیں۔شہر میں کچی آبادیوں میں رہنے والے افراد کے لیے بلدیاتی خدمات ناکافی ہیں جس کی وجہ سے شہر نہ صرف معاشی مسابقت کھو رہا ہے بلکہ شہر میں امیر غریب کے درمیان فرق اور خدمات کی عدم فراہمی شہر میں سماجی عدم استحکام پیدا کیے ہوئے ہیں۔ آئے دن پانی، بجلی اور دیگر سہولیات کی عدم فراہمی پر عوام سراپا احتجاج رہتے ہیں اور اب تو شہر کے سب سے مہنگے علاقے کے مکین بھی احتجاج پر مجبور ہوگئے ہیں۔ جس کی وجہ سے اگر یہ کہا جائے کہ شہر میں مجموعی معیارِ زندگی پست ہورہا ہے اور کراچی شہر اپنی معاشی مسابقت ملک کے دیگر شہروں لاہور اور اسلام آباد کے مقابلے میں کھو رہا ہے تو بے جانہ نہیں ہوگا۔عالمی بینک کے global livability index میں کراچی شہر کو 10 سب سے نچلے درجے کا قابل رہائشی شہر قرار دیا ہے۔ ایک کلومیٹر میں 20 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں اور ہر گزرتے دن یہ تناسب بڑھ رہا ہے۔ مگر شہری منصوبہ بندی، انتظامیہ اور خدمات بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔کراچی دنیا کی میگا سٹی میں شمار کیا جاتا ہے مگر شہر میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام میکرو چنگچی رکشوں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے لوگ ذاتی گاڑیاں خریدنے اور استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ ٹریفک جام اور سڑکوں پر حادثات معمول بن گئے ہیں۔ ایک بس سیٹ کے لیے 45 شہریوں میں مقابلہ ہے۔ ممبئی میں یہ شرح 12ہے۔ اس معاملے میں خواتین کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں تعلیم اور ملازمت چھوڑنا پڑتی ہے۔شہر میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کا نظام تباہ ہوچکا ہے۔ جس کی وجہ خراب انتظامیہ ہے۔ اس سیکٹر میں کی جانے والی سرمایہ کاری بے سود رہی ہے۔ شہر میں پانی کی ضروریات کا صرف 55 فیصد دستیاب ہوتا ہے۔ شہری ٹینکر مافیا کے رحم وکرم پر ہیں جبکہ استعمال شدہ پانی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے سمندر برد کردیا جاتا ہے۔ جس میں خطرناک کیمیک