03:20 pm
اصل بات تواب سامنے آئی : اے پی سی کے دوران اہم  رہنماؤں کو چٹوں کے ذریعے کیا بتایا جاتا رہا ؟ ناقابل یقین انکشاف

اصل بات تواب سامنے آئی : اے پی سی کے دوران اہم رہنماؤں کو چٹوں کے ذریعے کیا بتایا جاتا رہا ؟ ناقابل یقین انکشاف

03:20 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک) آل پارٹیز کانفرنس میں اس وقت سکوت طاری ہوگیا۔جب مولانا فضل الرحمن نے قدرے سخت لہجے میں اپوزیشن کو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے ، سندھ اسمبلی کو فوری طورپرتحلیل کرنے اوراپوزیشن جماعتوں کواپنے مطالبات کو تحریری معاہدے کی شکل میں لانے پرزور دیا۔ مولانا فضل الرحمن کی پوری تقریر میں کہیں کوئی مصلحت آمیزی انکے موقف میں تذبذب یا ابہام سننے میں نہیں آیا۔ انہوں نے اپنی تقریر ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بھی نہ دکھائے جانے پرناراضی کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے اختتام پر جب کانفرنس میں منتظمین کی حیثیت رکھنے
والی ایک پارلیمنٹرین سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو “اینگری اولڈ مین” قرار دیا۔آل پارٹیز کانفرنس کے میزبان اور مرکزی قائدین اور تمام مہمانوں کے لئے کہ یہ اطلاع خاصی غیر متوقع اور خوشگوار حیرت کا موجب تھی کہ الیکٹرانک میڈیا نواز شریف اور آصف زرداری سمیت بعض رہنماؤں کی تقاریرکو براہ راست دکھا رہا ہے ۔کانفرنس کے آغاز پر بعض شرکاء نے یہ اطلاح چٹوں پر لکھ کر ایک دوسرے کو دی۔ شرکاء کو اس بات کا یقین تھا کہ بالخصوص نواز شریف اور آصف زرداری کی تقاریر کسی صورت براہ راست نہیں دکھائی جائیں گی۔ اس لیے دونوں قائدین کی بالخصوص تقاریر کو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا آفیشل اکاؤنٹس پر براہ راست نشر کرنے کے انتظامات کر لیے تھے۔ آل پارٹیز کانفرنس کے پہلے مقرر آصف زرداری جو ویڈیو لنک پر شرکاء سے خطاب کر رہے تھے اور مولانا فضل الرحمن جو کانفرنس میں شریک تھے دونوں رہنماؤں کے چہرے پر بیک وقت اس وقت مسکراہٹ دیکھی گئی جب آصف علی زرداری نے تقریر کے دوران ایک موقع پر کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ اس تقریر کے بعد مجھے گرفتار کر لیا جائے گا۔ پھر انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے ازراہ تفنن کہا کہ مولانا صاحب ملاقات کے لیے ضرور آئیے گا ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرکے گے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔آل پارٹیز کانفرنس کے قائدین کی مشتر کہ پریس کانفرنس میں جے یو آئی کے سر براہ مولانا فضل الرحمان سے استفسار کیا گیا کہ مولانا صاحب جیسے ماضی میں اسلام آباد میں دھر نے کے دوران پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے آپ کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اب بھی آپ سے ہاتھ نہ ہو جائے جس پر مولانا فضل الرحمان کھل کھلا کر ہنس پڑے مگر بلاول بھٹو زداری نے فورا بات کو سنبھا لتے ہو ئے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) سمیت 11 پارٹیاں اے پی سی کے منظور کردہ ایجنڈے پر متفق ہیں اور متحد ہو کر ساتھ چلیں گی۔جب بلا ول بھٹو سے پو چھا گیا کہ ماضی میں آئی جی آئی اور دیگر سیا سی اتحاد اسٹیبلشمنٹ کی پشت پنا ہی سے بنے اور کامیابی سے ہم کنار ہو ئے اور آئی جی آئی کے نیتجے پی پی پی کی حکومت ختم ہو ئی اب اسٹیلشمنٹ کے بغیر اتحاد کیسے کامیاب ہو گا تو بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم کسی پرانحصارنہیں کرینگے جبکہ عوامی طارقت سے اپنا ٹارگٹ حا صل کریں گے۔