03:23 pm
ایچ ای سی کا باوا آدم نرالا، شکایت پر وی سی گلگت بلتستان یونیورسٹی کو اپنے ہی خلاف انکوائری کا حکم دیا

ایچ ای سی کا باوا آدم نرالا، شکایت پر وی سی گلگت بلتستان یونیورسٹی کو اپنے ہی خلاف انکوائری کا حکم دیا

03:23 pm


اسلام آباد( نمائندہ خصوصی )  اعلی تعلیمی کمیشن ( ایچ ای سی ) کے انوکھے کارنامے ، جس وائس چانسلر کے خلاف وزیر اعظم پورٹل   پر فرقہ وارنہ پوسٹیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنی کی شکایت لگائی اسی وائس چانسلرکو انکوائری کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔ اس سے قبل موجودہ ڈی جی ایچ آرعائشہ اکرام اور سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر مختار کے خلاف بھی انکوائریاں بند کی جا چکی ہیں ۔ وائس چانسلربلتستان یونیورسٹی سکردو کی جانب سے فیس بک پر فرقہ وارانہ پوسٹ لگانے پر پاکستانی شہری نے سکرین شارٹ بنا کر وزیر اعظم پورٹل
پرشکایت در ج کرادی دوسری جانب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تحقیقات کی بجائے اسی وائس چانسلر کو خود اپنے ہی خلاف کارروائی کے لیے لکھ دیا جنہوں نے واقعہ کو انسانی غلطی قرار دیتے ہوئے اپنے خلاف انکوائری خود ہی بند کردی،تعلیمی حلقوں نے کسی بھی جامعہ کے سربراہ کی طرف سے فرقہ واریت کو فروغ دینے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے مقتدر حلقوں سے اصلاح احوال کامطالبہ کیاہے۔وزیر اعظم پورٹل پر شکایت کنندہ نے لکھا ہے کہ یونیورسٹی آف بلتستان کے وائس چانسلر محمد نعیم خان نے گزشتہ ماہ مبینہ طورپر فرقہ واریت پر مبنی ایک پوسٹ اپنے ذاتی فیس بک اکاؤنٹ پر لگائی جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ایسا کرنے سے منع بھی کیا اور جوابی کمنٹس بھی ان کی پوسٹ پر لگائے گئے،جس پر وائس چانسلر نے مذکورہ پوسٹ کو ڈیلیٹ کردیا تاہم شہری نے ان کی پوسٹ کے سکرین شارٹ بنا کر وزیراعظم سیل میں شکایت کردی،ذرائع نے بتایاکہ پی ایم سیکرٹریٹ سے یہ شکایت سیکرٹری وفاقی وزارت تعلیم کو بجھوائی گئی جنہوں نے اسے چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بجھوایا اس پر چیئرمین نے ڈائریکٹر جنرل ریسرچ کو بھجواتے ہوئے معاملے کی جانچ کی ہدایت کی پہلے تو اس حکم پر عمل سے ٹال مٹول کیا جاتارہا،بعد ازاں یہ شکایت اسی وائس چانسلر کو ہی بجھوادی گئی جن کے خلاف شکایت لگائی گئی تھی۔ذرائع نے بتایاکہ یونیورسٹی کے وی سی آفس سے جواب میں لکھا گیاہے کہ یہ ایک پروپیگنڈہ ہے جو وی سی کے خلاف ہورہاہے، مذکورہ پوسٹ غلطی سے ہوگئی تھی جسے بعد میں وہاں سے انہوں نے خود ہٹا دیا تھا،وائس چانسلر بین المذاہب ہم آہنگی پر عمل پیراہیں اور انسانی غلطی سے ایسا ہواہے جو جانب بوجھ کر نہیں کیا گیا تھا،لہذا ملک و قوم کے لیے کام کرنے والی ایسی شخصیت کے خلاف پروپیگنڈہ بند کیا جائے۔دوسری جانب مذہبی، تعلیمی و عوامی حلقوں نے اس عمل کو سخت ناپسند کرتے ہوئے ملک کے اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت کا سد باب کرنے کا مطالبہ کیاہے۔

تازہ ترین خبریں