05:18 pm
 صائمہ عصمت دری کیس، پیپلزپارٹی رہنما ناصر بنگو کی ضمانت مسترد

صائمہ عصمت دری کیس، پیپلزپارٹی رہنما ناصر بنگو کی ضمانت مسترد

05:18 pm

اسلام آباد( خصوصی  نیوز رپورٹر   )  ایڈیشنل  سیشن جج اسلام آباد  ویسٹ محمد عطا ربانی نے خاتون عصمت دری  کیس کے ملزم    ناصر   بنگو  کی درخواست ضمانت مسترد  کر دی  متاثرہ خاتون کی  وکیل  نے دلائل دیتے ہوئے  کہا کہ  ناصر  بنگو  کے خلاف پہلے بھی دو سے زائد  مقدمات درج ہیں اسکا  ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں ہے  جبکہ   ملزم  کے وکیل ظفر  کھوکھر   نے  ناصر   بنگو   کی ضمانت کے لئے دلائل  دیتے ہوئے عدالت کو 
دو سے زائد ایف آئی آر ایسی پیش کیں جن کو بنیاد بنا کر کہا گیا کہ متاثرہ خاتون معصوم نہیں ہے اسکا ٹریک ریکارڈ بھی ملاحظہ کیا جائے عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا چار بجے کے بعد عدالت نے ناصر بنگو کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری خارج کر دی دلچسپ امر یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے تھانہ کراچی کمپنی میں پیپلزپارٹی کے ڈویژنل صدر ناصر بنگو کے خلاف ریپ کا مبینہ مقدمہ درج کروانے میں دو پولیس افسران کے مبینہ کردار کی بھی باز گشت سنائی دے رہی ہے پیسوں پر پیش آنے والے تنازعے کے حوالے سے ڈی آئی جی نے نکوائری کا حکم دے دیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف تھانوں سے حاصل ہونے والی ایف آئی آرز کی روشنی میں یہ بات طے شدہ ہے کہ نائیکہ حنا کنول جڑواں شہروں کے کچھ پولیس افسران کی سرپرستی میں سفید پوش لوگوں کو پھانس کر بلیک میل کرنے کا دھندہ کرتی ہے اور ہر واردات میں مختلف لڑکیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ حنا کنول کی اسلام آباد کے ایک ڈی ایس پی سے دوستی مشہور تھی اور اسی کے ذریعے حنا کنول نے پولیس میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کیا اور راولپنڈی پولیس کے افسروں سے بھی تعلقات بنائے۔ تھانہ کراچی کمپنی میں درج ہونے والے مقدمہ میں حنا کنول نے صائمہ نامی لڑکی کو استعمال کیا جبکہ تھانہ شالیمار میں درج کروائے گئے مقدمہ میں عظرم نامی لڑکی بلیک میلنگ کے لئے استعمال ہوئی اور اسی لڑکی عظرم کو حنا کنول نے تھانہ واہ کینٹ میں ایک مقدمہ درج کروا کر استعمال کیا اور اس میں شکار ہونے والے شہری کا نام یوسف اور ایک نوجوان لڑکا تھے۔ اسی طرح تھانہ روات میں اس گینگ نے رضوانہ اور ماریہ نامی لڑکی کو واردات میں استعمال کرکے خالد نامی شخص کو قربان کر دیا اور تھانہ شالیمار میں قربان نامی شخص کے خلاف یہی کارروائی کی گئی۔ تھانہ کراچی کمپنی میں ے مقدمے میں صائمہ نامی لڑکی استعمال ہوئی لیکن جب معاملات طے پانے لگے تو حنا کنول اور صائمہ کے درمیان رقم کی تقسیم پر تنازعہ پیدا ہوگیا ۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ا اسلام ااباد پولیس کے دو افسروں پر بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ بھی اس معاملے میں کسی حد تک ملوث ہیں ۔

تازہ ترین خبریں