05:23 pm
کرونا کی تباہ کاریاں بڑھ گئیں ، پاکستان میں ایک بار پھر مکمل لاک ڈائون کی خبر

کرونا کی تباہ کاریاں بڑھ گئیں ، پاکستان میں ایک بار پھر مکمل لاک ڈائون کی خبر

05:23 pm


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر اسد عمر نے ایک بار لاک ڈاؤن کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا ایس او پیز پر غیر ذمہ داری کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں،یہ رویہ نہ بدلا تو جان کے ساتھ روزگار بھی کھو دیں گے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ہفتے کورونا سے یومیہ اموات کی تعداد 12 رہی۔ کورونا وبا سے اموات کی شرح چند ہفتے پہلے کے مقابلے میں 140 فیصد زیادہ ہے۔
اس تناظر میں ہم کورونا کے تمام ایس او پیز کو نظر انداز کر کے غلطی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اسد عمر نے مزید کہا کہ ہم موجودہ راستے تبدیل نہیں کریں گے تو زندگی اور معاش سے محروم ہو جائیں گے۔ اس سے قبل اسد عمر نے کہا تھا کہ مظفر آباد میں کورونا وائرس سب سے زیادہ ہے۔ کراچی میں بھی کورونا وایئرس بڑھا ہوا ہے۔جب کہ اسلام آباد اور لاہور میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ہمیں کورونا ایس او پیز کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔بد قسمتی سے سخت ایکشن لینا ہوں گے۔جو معمولات زندگی متاثر کر سکتے ہیں۔ کورونا ایس او پیز کو نظر انداز کرنے کے نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔ کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 14 افراد جاں بحق ہوگئے، عالمی وباء سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 6 ہزار 673 ہو گئی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی و سی) کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 625 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ، جس کے ساتھ ہی ملک میں مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 24 ہزار 84 تک پہنچ چکی ہے ، جہاں اس وقت پاکستان میں کورونا کے 9 ہزار 461 مریض زیرعلاج ہیں ، جب کہ مجموعی طور پر 3 لاکھ 7 ہزار 950 صحتیاب ہوچکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث صوبہ پنجاب میں 2 ہزار 298 ، صوبہ سندھ میں 2 ہزار 581 اموات ہو چکی ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد ایک ہزار 265، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 195، صوبہ بلوچستان میں 148، ‏گلگت بلتستان میں 90 اور آزاد کشمیر میں جاں بحق ہونے والی کی تعداد 82 ہو گئی ہے ، مزید یہ کہ اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 18 ہزار 69 ہوچکی ہے ، صوبہ پنجاب مجموعی طور پر ایک لاکھ ایک ہزار 760، صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 42 ہزار 134، صوبہ خیبر پختونخوا میں یہ تعداد 38 ہزار 708، صوبہ بلوچستان میں 15 ہزار 704، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 84 اور آزاد کشمیر میں 3 ہزار 507 کیسز سامنے آچکے ہیں۔