04:14 pm
کیپٹن صفدر کی گرفتاری، حکومت نے ایک ماہ میں کون سی بڑی غلطیاں کی ہیں؟ رؤف کلاسرا کے انکشافات

کیپٹن صفدر کی گرفتاری، حکومت نے ایک ماہ میں کون سی بڑی غلطیاں کی ہیں؟ رؤف کلاسرا کے انکشافات

04:14 pm


اسلام آباد ((مانیٹرنگ ڈیسک ) سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ ایک ماہ میں کئی ایسی بڑی غلطیاں کی ہیں جن کی وجہ سے اپوزیشن کو تقویت ملی ہے اور حکومت کو بار بار بیک فٹ پر جانا پڑا ہے۔ اپنے وی لاگ میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جس طرح غیرسنجیدگی سے معاملات ہینڈل کرتے ہیں،
اس کی وجہ سے خود مدعی سے ملزم بن جاتے ہیں۔ یہ جارحانہ انداز میں پریس کانفرنسز اور ٹویٹس شروع کرتے ہیں اور اگلے دن جواز بھی پیش کر رہے ہوتے ہیں اور معافیاں بھی مانگ رہے ہوتے ہیں۔ رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ حکومت نے پچھلے ایک ماہ میں صرف ردعمل دیا ہے اور اس کا فائدہ مسلم لیگ ن نے اٹھایا ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اس وقت ملک بھر میں مہنگائی اور دیگر اہم موضوعات کی جگہ اس پر بات ہو رہی ہے کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کیوں ہوئی؟ کس کے کہنے پرہوئی اور اس میں سندھ پولیس کا کیا کردار تھا؟ سینئر صحافی نے کہا کہ کیپٹن صفدر والے معاملے کو جس طرح مس ہینڈل کیا گیا اس کے نتائج یہ نکلے کہ بلاول بھٹو نے

پریس کانفرنس کی جبکہ آرمی چیف کو بلاول اور آئی جی سندھ سے رابطہ کرنا پڑا۔ حکومت کی غلطیاں گنواتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور میں نوازشریف، وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور 3 ریٹائرڈ جنرلز کے خلاف غداری کا پرچہ دے کر اپوزیشن کو بہترین موقع دیا گیا اور انہوں نے اس معاملے کو اٹھا لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پرچہ ختم کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے گوجرانوالہ میں تقریر کی تو حکومتی وزراء اور مشیر شروع ہو گئے، انہوں نے عوام کو اپنا ردعمل دینے کا وقت ہی نہیں دیا گیا اور اب کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر آرمی چیف سب کو فون کر رہے ہیں جبکہ یہ کام وزیراعظم کو کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن صفدر نے

جب مزار قائد پر نعرے لگائے تھے تو میڈیا اور عوام میں اس عمل کو ناپسندیدگی سے دیکھا گیا تھا لیکن جس طرح اس معاملے کو حکومت نے ہینڈل کیا ہے، اس کے کا تمام تر فائدہ اپوزیشن کو اور مریم نواز کو ہوا ہے جبکہ حکومت وضاحتیں دے رہی ہیں۔ رؤف کلاسرا نے سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن نے پوری طرح حکومت کو اور تحریک انصاف کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، حکومتی وزراء اور مشیر اتنی زیادہ پریس کانفرنسز کرتے ہیں کہ عوام کا جو ردعمل اپوزیشن کی غلطیوں کی وجہ سے ان کے خلاف جانا چاہیے اس کا رخ بھی اپنی طرف کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت فوج کو بطور ادارہ خود کو پیچھے ہٹانے کی

ضرورت ہے، سیاسی محاذ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کو سنبھالنا چاہیئے۔ رؤف کلاسرا نے آئی جی سندھ مشتاق مہر پر بھی تنقید کی کہ ان پر جب کیپٹن صفدر کے خلاف پرچہ کاٹنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا تو انہیں اسی وقت ڈٹ جانا چاہیے تھا اور انکار کر دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے طارق کھوسہ اور دیگر اعلیٰ پولیس افسران کی مثالیں دیں جنہوں نے مشرف کے مارشل لا میں بھی دباؤ میں آنے اور احکامات لینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنے وی لاگ میں کہا کہ آئی جی سندھ کو بھی پرچہ

کاٹنے سے انکار کر دینا چاہیئے تھا، یہ غیرمناسب طریقہ ہے کہ پہلے دباؤ میں آ گئے اور پھر چھٹی کی درخواستیں دے کر کام کرنے سے انکار کر دیا۔ رؤف کلاسرا کے مطابق مریم نواز کو کابینہ کو شکریے کا خط لکھنا چاہیئے کہ انہوں نے کیپٹن صفدر کو ملزم سے ہیرو بنا دیا ہے اور خود مدعی سے مجرم بن گئے ہیں۔