06:29 am
پاکستانی بہنیں بیٹیاں اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر کسی صورت شیئر نہ کریں ، 1لاکھ بچیوں کی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی گئیں 

پاکستانی بہنیں بیٹیاں اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر کسی صورت شیئر نہ کریں ، 1لاکھ بچیوں کی برہنہ تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کر دی گئیں 

06:29 am


کراچی (نیوز ڈیسک) ایک نئی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کی تصویروں سے ایک لاکھ سے زیادہ خواتین کی جعلی عریاں تصاویر تیار کرنے کے بعد آن لائن شیئر کی گئی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے خواتین کی تصاویر سے کپڑے ڈیجیٹل طریقے سے ہٹا دیے جاتے ہیں اور میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر انہیں پھیلایا جاتا ہے۔انٹیلی جنس کمپنی سینسِٹی کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں سے کچھ بظاہر ’کم عمر‘ ہیں۔لیکن یہ سروس چلانے والوں کا کہنا ہے یہ محض ’تفریح‘ کے لیے کیا گیا ہے۔بی بی سی نے
اس سافٹ ویئر کو ٹیسٹ کیا لیکن اس کے نتائج اچھے نہیں تھے۔ سینسِٹی کا دعویٰ ہے کہ اس میں جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے وہ ’ڈیپ فیک بوٹ‘ ہے۔ ڈیپ فیکس اصل ٹیمپلیٹس کی بنیاد پر کمپیوٹر سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز ہوتی ہیں اور اکثر اس کا استعمال مشہور شخصیات کی جعلی فحش ویڈیو بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔لیکن سینسِٹی کے چیف ایگزیکٹو جورجیو پٹرینی نے کہا کہ پرائیویٹ لوگوں کی تصاویر کا استعمال نئی بات ہے۔انھوں نے خبردار کیا کہ اگر آپ تصویروں کے ساتھ سوشل میڈیا اکاؤنٹ رکھتے ہیں تو آپ کو بھی اس کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت سے چلنے والا بوٹ، ٹیلی گرام پرائیویٹ میسجنِگ چینل کے اندر ہوتا ہے۔ صارف بوٹ کو عورت کی تصویر بھیج سکتے ہیں اور وہ بغیر کسی قیمت کے منٹوں میں ڈیجیٹل طریقے سے اس کے کپڑے ہٹا دے گا۔بی بی سی نے متعدد تصاویر کا تجربہ کیا اور یہ سب رضامندی کے ساتھ ہوا اور ان میں سے کسی کا بھی نتیجہ مکمل طور پر حقیقت پسندانہ نہیں تھا۔پچھلے سال اسی طرح کی ایک ایپ بند کر دی گئی تھی لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ اس سافٹ ویئر کے کریکر ورژن کام کر رہے ہیں۔اس سروس کو چلانے والے منتظم جنھیں صرف ’پی‘ کہا جاتا ہے، کا کہنا ہے ’مجھے اس کی پرواہ نہیں، یہ ایسی تفریح ہے جس میں تشدد نہیں۔‘’اس سے کوئی بھی کسی کو بلیک میل نہیں کرے گا کیونکہ اس کا معیار غیر حقیقی ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیم اس بات پر نظر رکھتی ہے کہ کونسی تصاویر شیئیر کی جا رہی ہیں اور ’اگر ہم کسی کم عمر صارف کو دیکھتے تو اسے بلاک کر دیا جاتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ تصویر کو دوسروں کے ساتھ بانٹنا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اس کا ہوتا ہے، جس نے بوٹ کو اس کی تخلیق کے لیے پہلے استعمال کیا۔ انھوں نے مزید کہا ’دنیا میں جنگیں، بیماریاں اور بہت سی بری چیزیں ہیں جو نقصان دہ ہیں‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی تمام تصاویر کو ہٹا دیں گے۔ٹیلیگرام نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔