10:03 am
اور کوئی آپشن نہیں اب خود کو بچانے کے لیے یہ کام کرنا  پڑے گا ؟ اقتدار کے ایوانوں کے بااختیار ترین لوگ کس نتیجے پر پہنچ چکے  ہیں ؟

اور کوئی آپشن نہیں اب خود کو بچانے کے لیے یہ کام کرنا پڑے گا ؟ اقتدار کے ایوانوں کے بااختیار ترین لوگ کس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں ؟

10:03 am


لاہور (ویب ڈیسک) اسلام آباد کی خبریں رکھنے والوں نے بتایا ہے کہ اب حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ معاشی محاذ پر نئے چہرے لانے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ معاشی محاذ پر نئے چہرے لانے سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے نئی سوچ نظر آ سکتی ہے لیکن بنیادی سوال اپنی جگہ پر موجود ہے آج بھی حکومت صرف چہروں کے بدلنے کو تبدیلی سمجھ رہی ہے تو یہ ایک اور ناکامی کو خوشدلی سے گلے لگانے والی بات ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کیسے لائی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے صوبوں اور مرکز کے پاس کوئی 
واضح اور جامع پلان ہی موجود نہیں ہے۔ مہنگائی کا طوفان ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کی تیاری پر اٹھنے والے اخراجات میں بے پناہ اضافے کے بعد حکومت صرف دوکانوں پر چھاپے مار کر قیمتیں کم نہیں کروا سکتی۔ سب سے پہلے ملک بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مناسب کمی کے لیے ایک ہزار ارب روپے کی ضرورت ہے اگر حکومت اس پر تیار ہے تو بات آگے بڑھے گی۔ اس مقصد کے لیے دیگر کئی سیاسی منصوبوں کو بند یا ان کا بجٹ کم کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب ملک بھر میں سب کے لیے بلا تفریق ارزاں نرخوں پر کھانے پینے کی اشیاء دستیاب ہوں تو اس بجٹ سے کروڑوں لوگ فائدہ اٹھائیں گے جبکہ مختلف سیاسی منصوبوں سے ناصرف مخصوص افراد کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ جو رقم غریبوں کو ماہانہ دی جاتی ہے اس سے ان کی زندگیوں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا البتہ اس پیسے کو اگر ملک بھر پھل، سبزیاں، دالیں،

آٹا، چینی اور ادویات سستی کرنے پر خرچ کیا جائے تو اس سے ملک بھر میں ناصرف مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ اس کے ساتھ عام آدمی کی زندگی میں ہر پہلو سے سہولت پیدا کی جا سکتی ہے۔اس کے بعد سب سے اہم پہلو حکومت میں شامل یا حکومت کی حمایت کرنے والے ان افراد کا ہے جو اس کاروبار سے منسلک ہیں۔ ارب پتی وہ خاندان جو ملک کے بڑگ بڑے شہروں میں بڑے بڑے سٹوروں کے مالک ہیں اور وہ اعلانیہ اپنے سٹوروں پر حکومتی نرخوں کا مذاق اڑاتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کسی کا ڈر خوف نہیں ہے وہ اپنی مرضی کی قیمتیں مقرر کرتے ہیں اور پوری مارکیٹ کا نظام خراب کرتے ہیں۔ ان کی پہنچ بہت دور تک ہے اور یہی وجہ ہے کہ تمام تر غیر قانونی کاموں کے انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے اگر حکومت مافیاز کے خلاف کام کرنے کا اعلان کرتی ہے تو انہیں سب سے پہلے تو اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے اگر حکومت انہیں کچھ نہیں کہتی اور چھوٹوں کی پکڑ دھکڑ جاری رہتی ہے تو پھر کبھی مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ حکومت اب مہنگائی پر سنجیدگی سے سوچ رہی ہے اور اس کی ایک وجہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے ہونے والے جلسے ہیں چونکہ پی ڈی ایم کی قیادت اپنی تقریروں میں مہنگائی کو بیان کر رہی ہے اس وجہ سے حکومت پر اچانک دباؤ بڑھنا شروع ہوا ہے اور سیاسی حکومت کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ سیاسی تحریکوں میں اٹھنے والی آوازوں پر ردعمل دیتی ہے۔ پی ڈی ایم اسی طریقے سے آگے چلتی ہے تو یقیناً حکومت کے لیے مسائل ہوں گے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس وزیراعظم عمران خان یا ان کی جماعت کے خلاف کوئی سکینڈل نہیں ہے۔اپوزیشن کے پاس حکومت کے خلاف مہنگائی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس لیے حکومت یہ مت سمجھے کہ مہنگائی پر قابو پائے بغیر اسے سکون کی نیند آئے گی۔ اپوزیشن کا دباؤ بڑھے گا

تو حالات بدلیں گے اس سے پہلے کہ حالات بدلیں حکومت خود کو بدل لے تو بہتر ہو گا۔حزب اختلاف افواجِ پاکستان کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے یہ بھی حکومت کی ناکامی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا اور ان کے سخت بیانیے کو بہتر بیانیے میں تبدیلی کے لیے قائل کرنا پاکستان تحریکِ انصاف کی ذمہ داری ہے۔ اگر حکومت اس طرف توجہ نہیں دے رہی تو وہ ایک اہم پہلو کو نظر انداز کر رہی ہے۔ حزب اختلاف سے بات چیت کا آغاز حکومت نے کرنا ہے لیکن کیا حکومت کے پاس ایسے چہرے موجود ہیں جو ذاتی حیثیت میں کسی سے بات کر سکتے ہوں یا اپوزیشن جماعتوں میں ان کی کوئی اہمیت ہو یا اپوزیشن جماعتیں ان سے بات کرنا پسند کرتی ہوں۔ تنخواہ دار ترجمانوں کی وجہ سے نفرت تو پھیل سکتی ہے انتشار تو پیدا ہو سکتا ہے لیکن اصلاح اور اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکتا۔ حکومت کے پاس صرف شبلی فراز، شہباز گل، فیاض الحسن چوہان اور ایک صاحب خیبرپختونخوا اور ایک بلوچستان میں ہیں انہیں کون جانتا ہے انہیں کون پوچھتا ہے۔ ان کا کوئی سیاسی قد کاٹھ ہے نہ کوئی سیاسی خدمات ہیں نہ انہیں بات کرنے کا سلیقہ ہے نہ انہیں تہذیب ہے۔ یہ کسی کے گھر جانا چاہیں تو کوئی ان کی میزبانی نہیں کرے گا۔(تحریر:اکرم چوہدری)