01:46 pm
عمران خان اورشریف خاندان کے درمیان دشمنی جس حد کو پہنچ چکی ہے ، اب اس کے بعد جلد یا بدیر کیا ہو گا ؟

عمران خان اورشریف خاندان کے درمیان دشمنی جس حد کو پہنچ چکی ہے ، اب اس کے بعد جلد یا بدیر کیا ہو گا ؟

01:46 pm

لاہور (ویب ڈیسک) سیاست اب ذاتی مخالفت کی حدوں میں داخل ہوچکی ہے۔ مان لیتے ہیں‘مخالفتیں پہلے بھی تھیں اور اس ملک نے ان مخالفین کی بہت بڑی قیمت چکائی‘ لیکن جو مخالفتیں عمران خان اور شریف خاندان کے درمیان پیدا ہو رہی ہیں ان کی قیمت کا اندازہ آنے والے برسوں میں ہی لگایا جا سکے گا۔اس طرح کی دشمنی 
بھٹو صاحب کے دور میں چوہدری ظہورالٰہی خاندان میں شروع ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے جب بھٹو پھانسی لگے تو چوہدری ظہور الٰہی نے وہ پین جنرل ضیا سے مانگ لیا تھا جس سے انہوں نے بھٹو کی موت کے پروانے پر دستخط کیے تھے۔ بعد میں چوہدری ظہور الٰہی کو انتقاماً الذوالفقار نے قتل کر دیا تھا۔ یہ دشمنی یہیں نہیں رکی بلکہ بینظیر بھٹو اور چوہدری پرویز الٰہی تک چلی۔ بینظیر بھٹو نے وطن واپسی سے پہلے جنرل مشرف کو جو خط لکھا تھا اس میں پرویز الٰہی کا نام بھی شامل تھا کہ اگر انہیں (بے نظیر بھٹو) کچھ ہوا تو انہیں (پرویز الٰہی) ذمہ دار سمجھا جائے۔ اعجاز شاہ اور جنرل حمید گل کا نام بھی تھا۔ بینظیر بھٹو کی جو کتاب ان کی وفات کے بعد منظر عام پر آئی‘ اس میں ایک باب تھا جس میں بینظیر بھٹو نے لکھا کہ انہیں قتل کرانے کے لیے گورنر ہائوس پنجاب میں ایک سازش تیار کی گئی تھی اور قاتلوں کو ڈھائی لاکھ ڈالرز کے قریب ادائیگی کی گئی تھی۔ ان کا اشارہ انہی پرانے دشمنوں کی طرف تھا۔ اس بات کو آصف زرداری آگے لے کر چلے جب انہوں نے بینظیر بھٹو کے سوئم کے روز نوڈیرو میں پریس کانفرنس کی۔ میں اس وقت نوڈیرو میں اس پریس کانفرنس میں موجود تھا۔ ایک انگریزی اخبار کی خاطر کوریج کے لیے گیا ہوا تھا۔ زرداری نے سیدھا ق لیگ کو قاتل لیگ کہا‘ جس کا مطلب بڑا واضح تھاکہ بینظیر بھٹو کے قتل میں کس پر انہیں شک ہے۔ یہ اور بات کہ زرداری صاحب نے بیوی کے قتل کو ایک طرف رکھا‘ سیاسی فائدوں کے لیے اس دشمنی کو دوستی میں بدلا اور اسی ق لیگ کو اپنی پارٹی حکومت میں حصہ دے کر پرویز الٰہی کو ڈپٹی وزیراعظم بنا دیا۔ اس طرح کی ذاتی دشمنی ہم نے شریف خاندان اور گورنر سلمان تاثیر کے درمیان بھی دیکھی جب نواز شریف کے دور میں سلمان تاثیر کو تھانے میں پوری رات تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کی جو تفصیلات مرحوم عباس اطہر نے اپنے کالم میں لکھیں‘ وہ دل دہلا دیتی ہیں۔ شریف خاندان اور بینظیر بھٹو کے مابین بھی دشمنی محض سیاسی نہ رہی بلکہ ذاتی شکل اختیار کر گئی تھی۔ بینظیر بھٹو نے وزیراعظم بن کر شریف خاندان کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے جہاں ان کے جہاز کو کئی ماہ تک بندرگاہ پر روکے رکھا‘ وہیں رحمن ملک نے میاں شریف کو ان کے دفتر سے اٹھوا لیا تھا۔ اس سے پہلے نواز شریف نے1988-90 کے الیکشن میں اس الائنس سے الیکشن لڑا جس کے بارے کہا جاتا ہے کہ اس نے بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی نازیبا تصویریں اخبارات کے فرنٹ پیج پر چھپوائیں اور ایسے مواد پر مبنی پرچیاں جہازوں کے ذریعے گرائی تھیں۔ یہ دشمنی کا خطرناک پہلو تھا جو سامنے آیا تھا۔ نواز شریف نے بھٹو پر سنگین الزامات لگائے اور پنڈی میں اس جیل کی جگہ پارک بنائے جانے کی مخالفت کی جہاں بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ ایک جلسے میں دعویٰ کیا کہ وہ وزیراعظم بن کر اس یادگار کو اکھاڑدیں گے۔ جلسوں میں وہ کہتے تھے کہ ان کا بینظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کا نام سن کر خون کھولنے لگتا ہے۔ وہ بینظیر بھٹو کو سکیورٹی رسک قرار دینے والوں میں شامل تھے۔ دشمنی یہاں تک بڑھ گئی تھی کہ نواز شریف نے سیف الرحمن کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ کے جج ملک قیوم کو یہ ہدایات دلوائی تھیں کہ زرداری اور بینظیر بھٹو کو سات سات سال سے کم سزا نہیں ہونی چاہیے اور تمام جائیداد بھی ضبط کرنی چاہیے۔ وہی سزا دی گئی۔ یہ تھا وہ ذاتی غصہ اور انتقام جو نواز شریف کے دل میں بینظیر بھٹو کے لیے تھا۔ بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ جب انہیں پتہ چلا کہ بینظیر بھٹو اور زرداری نے جنیوا میں منی لانڈرنگ کی ہے اور بینظیر بھٹو نے ایک پارٹی سے نیکلس بھی تحفہ لیا ہے تو فوراً اپنے اٹارنی جنرل محمد فاروق کو کہا کہ جنیوا خط لکھ کر اس میں پارٹی بنیں اور نہ صرف انہیں سزا دلوائیں بلکہ وہ لوٹی ہوئی رقم بھی واپس لائیں۔ وہی ہوا‘ بینظیر بھٹو کو جنیوا میں بہت سے عدالتی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ نواز شریف جب تیسری دفعہ وزیراعظم بنے تو دو ہزار چودہ‘ پندرہ میں جنیوا کے ایک وکیل نے حکومت کو لکھا کہ آصف زرداری نے سوئس حکومت کو اپروچ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو کا تیس لاکھ روپے کی مالیت کا جو نیکلس س