"

حضرت لقمان کےقران پاک میں دلچسپ واقعات

شیطان جب سے راندہءِ درگاہِ الہیٰ ہوا تب سے اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا اور تو اکثر کو شکرگزار نہیں پائے گالیکن تیرے خالص بندوں پر میرا بس نہیں چلے گا۔ شیطان کی اس گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مردود کوشش تو خدا کے خالص بندوں، صالح بندوں اور انبیا کو بھی راہِ راست سے ہٹانے کی کرتا ہے لیکن وہاں اس کی دال نہیں گلتی اور عام بندوں کو یہ آسانی سے راہِ راست سے ہٹالیتا ہے۔ لیکن یہ بات سچ ہے شیطان انبیاؑ کو بھی راہ راست سے ہٹانے کی سعی میں مشغول ضرور رہا۔ آج ہم آپ کے سامنے ابلیس کی دوکارستانیوں کا ذکر کریں گے۔ ایک روپ میں یہ نبی کے پاس گیا اور دوسرے روپ میں یہ ایک عام بندے کے پاس گیا۔ شیطان ہر نبی کے پاس کئی مواقع پر گیا۔ دراصل یہ مردود ہر وقت موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ ایک دن شیطان بیت المقدس میں ”رفیق“ نامی پہاڑ پر حضرت عیسیٰ کے پاس آیا اور کہنے لگا؛ شیطان: آپ کتنے عظیم ہو کہ باپ کے بغیر پیدا ہوئے ہو۔ حضرت عیسیٰ: عظمت اس ذات سے منسوب ہے جس نے مجھے بغیرباپ کے وجود بخشا۔ شیطان: یہ آپ ہی ہو جس نے اپنی عظمت سے گہوارہ میں گفتگو کی ہے۔ حضرت عیسیٰ: عظمت وبڑھائی اسی ذات کے لیے ہے جس نے بچپنے میں مجھے قوتِ سخن دی، ورنہ چاہتا تو مجھے گونگا بنا دیتا۔ شیطان: یہ آپ ہی ہو جس نے اپنی ربوبیت سے گیلی مٹی سے پرندہ بنا کر اُڑایا۔ حضرت عیسیٰ: بزرگی اسی کے لیے ہے جس نے مجھے یہ معجزہ سکھایا۔ شیطان: یہ آپ ہی ہو جو بیماروں کو شفادیتے ہو۔ حضرت عیسیٰ: وہ خدا ہے جس کے اذن سے میں لوگوں کو شفا دیتا ہوں، وہ چاہے تومجھے بھی بیمار کردے۔ شیطان: یہ آپ ہی ہو جو مردوں کو زندہ کرتے ہو۔ حضرت عیسیٰ: میں تو اس کے اذن سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں اور جسے زندہ کرتا ہوں اسے وہ آخر کار موت دے گا اور صرف یہی نہیں بلکہ ایک دن تو وہ مجھے بھی موت کی منزل سے گزارے گا۔ شیطان: آپ ہی ہیں جو اپنی بزرگی سے پانی پر چلتے ہیں،نہ آپ کا پیر ترہوتا ہے اور نہ ڈوبتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ: یہ خدا کا کرم ہے جس نے پانی کومیرے اختیار میں دے دیا اگروہ چاہتا تومجھے غرق بھی کرسکتا تھا۔ شیطان: آپ ہی ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ جوکچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اس سے چھوٹے اور آپ بالاتر ہوں گے اورامور کی تدبیر اور رزق کی تقسیم کریں گے۔ حضرت عیسیٰ: خداوند عالم منزہ ہے، اس کے کلمات کی کشش اس کے عرش کے وزن سے زیادہ ہے اور تمام چیزیں اس کی مرضی اور مشیت کے مطابق ہوتی ہیں۔ اب شیطان مایوس ہوگیا۔ وہ اللہ کے نبی کو خودپسندی اور خودفریبی کے جال میں پھنسانا چاہتا تھا مگر حضرت عیسیٰ انکساری اور عاجزی کی عبا اوڑھے اس کے مکرو فریب کے جال میں نہیں آئے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ شیطان کی نگاہ فقط ہماری کمزوریوں پر نہیں ہوتی بلکہ ہماری نیکیوں اور کمالات کے بارے میں بھی یہ پوری واقفیت رکھتا ہے۔ اب ذرا یہ بھی سماعت فرمائیے کہ ایک عام آدمی شیطان کے چنگل میں کیسے پھنستا ہے۔ بنی اسرائیل کا ایک عبادت گزارتھا۔وہ ہروقت عبادت الہیٰ میں مشغول رہتا۔ ایک دن اسے کسی نے بتایا کہ اس بستی کے باہرایک درخت ہے جس سے سریلی آوازیں نکلتی ہیں اور اسی وجہ سے لوگوں نے اب ا س درخت کو پوجنا شروع کردیا ہے۔ اس عابد نے یہ سنا تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اس نے خدا کی خوشنودی کے لیے کلہاڑی اٹھائی اور اس درخت کو کاٹ پھینکنے کے لیے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ راستے میں شیطان اس کے سامنے آگیا۔ شیطان انسان کے روپ میں تھا۔ شیطان نے انتہائی غصے سے اُس عابد سے پوچھا کہ کدھرجارہے ہو۔ عابد کا جذبہءِ ایمانی چونکہ زوروں پر تھا، اس لیے جواب دیا کہ اندھے ہو، دیکھتے نہیں لوگ خدائے واحد کے ہوتے ہوئے درخت کی پوجا کررہے ہیں۔ شیطان نے کہا اگرخدا اس درخت کو کٹوانا چاہتا تو اس کام کے لیے وہ کسی پیغمبرکو بھیج دیتا۔ تم اس فضول کام کے لیے اپنی عبادت کو کیوں چھوڑ کرآگئے ہو اور تم وہ کام کرنے جارہے ہو جو تمہارے لیے فائدہ مند بھی نہیں۔ اس نے بڑی کوشش کی مگر عابد پر کوئی اثر نہ ہوا۔ آخر بات بڑھ گئی اور تُوتُو میں میں کے بعد نوبت دست وگریباں تک آگئی۔ ہاتھا پائی ہو ئی اور اگلے ہی لمحے عابد نے شیطان کو اٹھا کر زمین پر دے مارا اور اس کے سینے پر چڑھ کے بیٹھ گیا۔ اب شیطان جو کہ بری طرح بے بس ہوچکا تھاعابد سے کہنے لگا کہ اگرمجھے تم چھوڑدوتومیں تمہیں ایک فائدے کی بات بتاؤں اگرو ہ پسند نہ آئے تو جو دل میں آئے کرنا۔ عابد اٹھ کھڑا ہوا، کہا بتاؤ کیا بات ہے۔ شیطان نے کہا کہ اگرتم اس درخت کو کاٹنے کا ارادہ ترک کردو تو میں ہرروز تمہیں چاردینار دیا کروں گا جو تم اپنی طرف سے فقیروں اور محتاجوں پر خرچ کرنا، اس طرح لوگوں کو فائدہ بھی پہنچے گا اورتمہیں ثواب بھی مل جائے گا کیونکہ پتا نہیں تمہیں اس درخت کے کاٹنے کا کوئی ثواب ملے گایا نہیں؟ عابد نے کہا چونکہ تمہاری یہ بات میرے ثواب اور فقرا کے فائدے سے تعلق رکھتی ہے لہذہ میں مان لیتا ہوں۔ اُس نے شیطان کو چھوڑ دیا اور اپنے گھر لوٹ آیا۔ پہلی رات وہ عبادت کرنے کے بعد اپنے بسترپر سویا اور صبح جب بیدار ہوا تو اس کے بستر کے نیچے سے چاردینار برآمد ہوئے۔ اس نے سوچا اگرچار دینار مسکینوں میں بانٹ دوں گا توخود کیا کھاؤں گا۔ لہذا اس نے دو دینار فقیروں میں بانٹ دیئے اور دو اپنے پاس رکھ لیے۔ اب دوسرے اور تیسرے دن بھی چار چار دینار آتے رہے اور یہ عابد اسی طرح تقسیم کرتا رہا۔ اب آیا چوتھا دن۔ اس نے بستر اٹھایا دینار نہیں ملے۔ دینار آنا بند ہوگئے۔ اس نے پھر کلہاڑی اٹھائی اور درخت کو کاٹنے چل دیا۔ ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ پھر شیطان اسی روپ میں آگیا۔پھر بحث مباحثہ ہوا، ہاتھاپائی ہوئی لیکن اب کی بار شیطان نے عابد کو زمین پر پٹخ دیا اور اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ اب چونکہ شیطان غلبہ پاچکا تھا۔ اس لیے اس نے دھمکی دی کہ اگر تم درخت کو کاٹنے سے باز نہ آئے تو میں تمہیں جان سے ماردوں گا۔ اب عابد بے چارہ کیا کرتا۔ بری طرح پھنس چکا تھا۔ مان گیا، شیطان اس کے اوپر سے اترگیا۔ عابداٹھ کھڑا ہوا اور شیطان سے کہنے لگا کہ بھائی ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اس دن میں نے تجھے آسانی سے زمین پر دے مارا اور آج تونے مجھے زمین پر پٹخ دیا۔ اور اس قصے کا نتیجہ اور سبق بھی وہی ہے جو شیطان نے عابد کو جواب دیا۔ جب عابد نے شیطان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے اس دن میں نے تجھے گرادیا، آج تونے مجھے گرادیا تو شیطان کہنے لگا، عقل کے اندھے، اس دن میں اور آج میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس دن تو دین کے لیے نکلا تھا، آج تو دینار کے لیے نکلا ہے۔ اس دن توخدا کی رضا کے لیے نکلا تھا، آج تو اپنی غذا کے لیے نکلا ہے۔ اس دن تیری نیت میں خلوص تھا۔ آج تیری نیت میں فتور ہے۔ بس اسی لیے اس دن تیری قوت ایمانی نے مجھے گرادیا اور آج میری قوت شیطانی نے تجھے گرادیا۔ تب بے چارے کو پتا چلا یہ تو شیطان تھا۔