"

اسٹیٹ بینک نے کرونا وائرس کے پیش نظر تمام آن لائن ٹرانزیکشنز پر چارجز ختم کر دئے

کرونا وائرس کے پیش نظر پورے ملک میں حکومت کی جانب سے حفاظتی تحریک چل چکی ہیں جن میں عوامی جگہوں پر رش کم کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی میل جول کو ممنوعہ قرار دیا گیا ہےتاکہ کرونا کے پھیلاؤ کو روکا جاسکا۔ اسی طرح کرونا کی روک تھام کے لئے حفاظتی اقدامات میں حکومت نے عوام کو ایک بڑا ریلیف بھی دے دیا ہے۔ وہ خوشخبری اور ریلیف کیا ہے آئیے آپکو بتاتے ہیں۔ ناظرین اسٹیٹ بینک نے کرونا وائرس کے پیش نظر تمام آن ٹرانزیکشنز پر چارجز ختم کر دئے ہیں۔۔۔ حکومت کے ان اقدامات کا مقصد بینک برانچز یا اے ٹی ایمز جانے کی ضرورت کو کم کرنا اور انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل فون بینکنگ وغیرہ جیسی ڈیجیٹل ادائیگی سروسز کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کرونا وائرس سے لڑنے اور عوام کو سہولت پہنچانے کے لئے اسٹیٹ بینک نے تمام آن لائن بنکنگ ٹرانزیکشنز پر چارجز ختم کر دئیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کی جانب سے اس قدم کا مقصد وائرس کے پھیلاؤ کے دوران بینک اسٹاف اور صارفین کے درمیان نقد کے استعمال کو کم سے کم کرنا ہے۔ اسکےعلاوہ ایس بی پی کی جاری کردہ گائیڈ لائنز کے تحت بڑی رقم کی منتقلی کے لیے اے ٹی ایمز کا استعمال کرنے والے یا بینک کی برانچز کا دورہ کرنے والے صارفین کو کوئی رقم نہیں ادا کرنا ہوگی۔ مرکزی بینک کی جانب سے مالیاتی شعبے کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ ‘انٹرنیٹ بینکنگ یا موبائل ڈیوائسز کے ذریعے تعلیمی فیس اور قرض کی دوبارہ ادائیگی کی سہولت بھی فوری فراہم کرے’۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کے بیان میں کہا گیا کہ ان اقدامات کا مقصد بینک برانچز یا اے ٹی ایمز جانے کی ضرورت کو کم کرنا اور انٹرنیٹ بینکنگ، موبائل فون بینکنگ وغیرہ جیسی ڈیجیٹل ادائیگی سروسز کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ ساتھ ہی مرکزی بینک نے بینکوں کو یہ بھی تجویز دی ہے کہ وہ صارفین کے لیے ہر وقت اے ٹی ایمز، پی او ایس، انٹرنیٹ بینکنگ، پیمنٹ گیٹ ویز، موبائل بینکنگ اور کال سینٹرز سمیت متبادل ڈیلوری چینلز کی دستیابی یقینی بنائیں۔ دوسری جانب اس وقت جہاں کرونا وائرس کے پیش نظر دکاندار ہینڈسینٹائزرز اور ماسک بلیک میں فروخت کررہے ہیں۔ اورچند سو روپے کا سینٹائزر ہزاروں روپے میں فروخت ہورہا ہے۔ وہیں اس تمام صورتحال کے پیش نظر وزارت سائنس وٹیکنالوجی نے سستا ہینڈ سینیٹائزر مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہےتاکہ یہ عام عوام کو سستے نرخوں پر دستیاب ہو اور بلیک میں فروخت کرنیوالے مافیا کی حوصلہ شکنی ہو۔ اپنے ٹویٹ میں فواد چوہدری نے بتایا کہ مہنگے سٹینٹائزر سے چھٹکارا دینے کے لئے پی سی آئی ایس آر نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے منظور کردہ معیار کے مطابق اپنا ہینڈ سینیٹائزر بنالیا ہے اور تمام صوبوں کو مشورہ ہے کہ وہ اسے عوام تک پہنچانے کیلئے پی سی آئی اآر کے صوبائی ہیڈکوارٹر سے رابطہ کریں۔ یہ ہینڈ سینیٹائزر تمام یوٹیلٹی سٹورز پر بھی دستیاب ہوگا۔ دوسری جانب اگر ہم بات کریں پنجاب کی تو پنجاب حکومت بھی کرونا سے نمٹنے کے لئے تیارہو گئی ہے، حکومت پنجاب نےعوام کے لئے نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جسکے مطابق۔۔۔ مارکیٹس شاپنگ سینٹرز ہوٹلز اور باقی عوامی مقامات رات دس بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔۔ صرف اتنا ہی نہیں حکومت لاہور سمیت پنجاب بھر میں مساج سنٹرز کے ساتھ بیوٹی پارلرزکو بھی بند کرنے پر غورکر رہی ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں مساج سینٹرز بند نہ ہونے سے کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا چکا ہے۔ سیکریٹری صحت پنجاب نے صوبے بھر میں مساج سنٹرزکو فوری بند کروانے کیلیے حکومت کو سفارشات بھیج دی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس انسان کے جسمانی رابطے سے پھیلتا ہے لہذا مساج سنٹرز سے وائرس پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے۔۔۔۔جب کہ میڈیکل اسٹور ، جنرل اسٹورز ، فیکٹریاں اور منڈیاں کھلی رہیں گی۔۔۔۔۔مری سمیت سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا، کورونا سے نمٹنے کیلیے 5 ارب کا فنڈ بھی قائم کر دیا گیا ، سرکاری دفاتر میں عوام کی آمد ورفت کو بھی محدود کر دیا گیا ۔ ۔۔۔وزیراعلی نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 189 مشتبہ کیسز ہیں ، 28 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ، وزیراعلیٰ نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلیے 5 ارب کے خصوصی فنڈز کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ محکمہ صحت میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے ، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر پنجاب میں فوری عملدرآمد کیا گیا۔ ہسپتالوں میں 41 ہائی ڈیپنڈنسی یونٹس قائم کردیئے ہیں۔۔۔۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت ضرورت پڑنے پر ایک ہزار بستروں پر مشتمل فیلڈ ہسپتال بھی بنائیگی، ادھر کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کیلئے خیبرپختونخوا حکومت نے بھی صوبے بھر میں جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پشاور میں تمام بازار،شاپنگ مالز صبح 10سے شام 7بجے تک کھلے رہیں گے، اس کے ساتھ ساتھ ریسٹورنٹس کے اندرکھانا کھانے پر پابندی ہو گی تاہم گھروں میں کھانا آرڈر کروایا جاسکتا ہے۔ ترجمان کے پی حکومت کا کہنا تھا کہ حجام اور بیوٹی پارلرز بھی15دنوں کے لیے بند رکھیں جائیں گے اورگھروں کے اندربھی شادی بیاہ کی تقریبات پر بھی پابندی ہو گی۔