"

استغفراللہ،نوجوان کا مسجد کے سامنے اپنی محبوبہ کو سجدہ

کسی بزرگ نے کہا ہے کہ بعض اوقات محبت انسان کو دیوانگی کی اس سطح پر لے جاتی ہے جہاں وہ سماجی و مذہبی اقدار کی توہین کر ڈالتا ہے، اوریہاں تک کہ اس کی کئی رومانوی حرکات شرک کی حدوں کو چھُونے لگتی ہیں۔ کچھ ایسی ہی خلافِ اسلام حرکات ایک سعودی نوجوان نے بھی کر ڈالیں، جس نے اپنی محبوبہ کو سجدہ کر دیا، ۔۔۔۔اور سجدہ بھی کسی عام جگہ پر نہیں بلکہ عین ایک مسجد کے دروازے کے سامنے کیا ہے۔ عاشق نوجوان کی اس حرکت کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی دیر تھی کہ صارفین شدید مشتعل ہو گئے۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے نوجوان اور اس کی محبوبہ کو جان بوجھ کر شعائر اسلامی کا مذاق اُڑانے کا قصور وار ٹھہرا دیا۔ اُردو نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں ایک سعودی نوجوان ایک لڑکی کو سجدہ کر رہا تھا۔ اور پس منظر میں مسجد کا دروازہ بھی نظر آ رہا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے عاشق جوڑے کی اس حرکت پر شدید احتجاج کیا اور ان کی فی الفور گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جب یہ معاملہ سعودی پولیس کے علم میں آیا تو ایک ٹیم تشکیل دے کر اس نوجوان اور اس کی محبوبہ کی تلاش شروع کر دی گئی۔ اور بالآخر انہیں بہت جلد گرفتار بھی کر لیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ جدہ کی ایک مسجد کے باہر پیش آیا۔ گرفتار کیے گئے سعودی نوجوان کی عمر 30 سال ہے جبکہ جس لڑکی کے آگے اس نے اپنا ماتھا ٹیکا وہ یمن سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ لڑکی ہے۔ ان دونوں کی تصویر ایک 20 سالہ یمنی لڑکی نے اُتاری تھی۔ اُسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار شدگان کو ضابطے کی کارروائی کے بعد متعلقہ محکمے کے حوالے کردیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جمعہ کو ٹوئٹر پر صارفین نے ہیش ٹیگ’نوجوان لڑکی کو سجدہ کر رہاہے‘ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا تھا۔ ٹوئٹرصارفین کی بڑی تعداد نے اس حرکت کی سخت مذمت کرتے ہوئے ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایک صارف کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان اور اس کی محبوبہ کو سخت سزا نہ دی گئی تو کل کو ایسے کئی بگڑے ہوئے نام نہاد عاشقوں کو بھی شہ مِلے گی۔۔۔۔ محبت اپنی جگہ مگر اس کے اظہار کے لیے مذہبی شعائر کی توہین کسی صورت گوارا نہیں کی جا سکتی۔