"

پاکستان میں کرونا سے متاثر پہلا ینگ ڈاکٹر جاں بحق

انا للہ واانا الیہ راجعون پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ پہلے ینگ ڈاکٹر کی ہلاکت کی اطلاعات موصول۔ تعلق کہاں سے تھا اور مرحوم نے آخری بیان کیا دیا ، تفصیلات سامنے آگئیں ۔ ناظرین کرونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں تباہی مچائی وہیں جب یہ وائرس پاکستان پہنچا تو پاکستانیوں کے دلوں اور ذہنوں پرخوف کے ایسے سائے چھا گئے کہ جیسے موت ہمارے پیچھے کھڑی ہے اور ہم لقمہ اجل بننے والے ہیں ۔ کیا چھوٹے سے چھوٹا بازار ۔۔ کیا بڑے سے بڑا پلازہ اور گلی محلے بھی ۔۔ ہر طرف جیسے موت کا سناٹا ہو ۔ کسی کو کھانسی ہوئی نہیں کہ اپنے بھی یوں نفرت آمیز سلوک کریں جیسے ہمیں جانتے ہی نہ ہوں ۔ ایسے روح کو لرزا دینے والے حالات میںکچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے گھروں میں ان کے ننھے منھے کھلونے ان کے بچے بھی تھے اور لاڈ پیار سے پالنے والے اور ان کی صحت و سلامتی کی دعائیں کرنے والے ان کے ماں باپ بھی ، مگر وہ سب کچھ بھلا کر پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں اس خطرناک وبا سے بچائو اور اس سے متاثرہ لوگوں کی حفاظت کیلئے ہر دم تیار نظر آئے ۔ یہ نیک دل لوگ ہمارے مسیحا۔۔ ہمارے ڈاکٹرز تھے ۔ بلکہ ہیں ۔۔ ہم اپنے ناظرین کو انتہائی افسوسناک اطلاع دیتے چلیں کہ پاکستان میں اس خطرناک وبا نے ہمارا ایک بیٹا ، ہمارا ایک قابل اور نیک دل انسان ہم سے چھین لیا ۔ ۔۔ کرونا وائرس کا شکار ڈاکٹر اسامہ ریاض انتقال کر گئے ۔ ناظرین ۔۔!!کرونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ڈاکٹر اسامہ ریاض جگلوٹ گلگت بلتستان میں سکرینینگ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔قابل افسوس بات یہ کہ انکے پاس اس بیماری سے بچائو کی حفاظتی کٹ تک موجود نہیں تھی لیکن اسکے باوجود بھی وہ اپنا کام کرتے رہے تاکہ اپنے پاکستانی بہن بھائیوں کو اس موذی مرض سے بچا سکیں ۔ محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ روز گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اسامہ ریاض رات 12 بجے گھر گئے تھے اور صبح 11 بجے انہیں بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا۔ صحت مزید بگڑنے پر انکو وینٹیلیٹر پر رکھا گیا۔ آخری اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر اسامہ کی Brain Death ہونے کے ساتھ ساتھ انکو Multi organ Failure ہوا اور وہ اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔ ڈاکٹر اسامہ نے قائد اعظم میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی تھی جبکہ اگست 2019 میں انہوں نے پی پی ایچ آئی گلگت میں بطور ڈاکٹر کام شروع کیا تھا۔انہوں نے اسی سال فروری 2020 میں ایف سی پی ایس پارٹ 1 کا امتحان بھی پاس کیا اور جولائی میں اسپیشلائزیشن میں انڈکشن کے منتظر تھے۔ صرف دو ہفتے قبل چہرے پر ماسک لگائے پرعزم اور خوبصورت نوجوان ڈاکٹر اسامہ کا آخری بیان یہ تھا کہ ہم کرونا کے مریضوں کو بچائیں گے ،ہم مریضوں کو یہاں ٹریٹمنٹ دیں گے اور اگر ضرورت پڑی تو دوسرے ہسپتال بھیج دیں گے ۔اللہ ڈاکٹر اسامہ ریاض کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور انکے گھر والوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔