"

پاکستان میں ایک بارپھر لاک ڈائون لگنے جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کی دوسری لہر۔۔24 گھنٹے میں مزید 19 ہلاکتوں کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن لگنے والا ہے ؟ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس بھی اختتام پزیر ! ملک میں تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں یا نہیں ؟ فیصلہ کر لیا گیا ، آج شام کو کیا ہونے والا ہے ؟  تفصیلات میں جانے سے قبل ۔۔۔۔! عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید19 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں اور مرنے والوں کی مجموعی تعداد 7ہزار160 ہو گئی ہے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں میں کورونا کے 2ہزار128 نئے کیسزرپورٹ ہوئے ہیں اور متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد3لاکھ 59 ہزار32 ہوگئی ہے.پاکستان میں کورونا کے 3لاکھ 23 ہزار824 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور28 ہزار484 زیرعلاج ہیں سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد 1لاکھ 55 ہزار680 اور پنجاب میں ایک لاکھ 10 ہزار450 ہے خیبرپختونخوا 42 ہزار370، اسلام آباد24 ہزار218، بلوچستان 16 ہزار407، آزاد کشمیر 5 ہزار455 اورگلگت میں4 ہزار452 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں. کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار475 اور سندھ میں 2 ہزار747 اموات ہو چکی ہیںخیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد 1ہزار 311، اسلام آباد 257، بلوچستان 156، گلگت بلتستان 93 اور آزاد کشمیر میں 121 ہو گئی ہے پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہرشروع ہو چکی ہے دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سے عمل کرنا ہو گا. این سی او سی کے مطابق ملک کے 15 شہروں میں کورونا وباتیزی سے پھیل رہی ہے۔پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ بازاروں، شاپنگ مالز، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس میں ایس او پیز اور ماسک کو لازم قرار دیں. شہری گھروں سے باہر نکلتے وقت ماسک لازمی پہنیں حکومتی اور نجی سیکٹرز کے دفاتر میں کام کرنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازم ہوگا۔۔۔ دوسری جانب ۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس آج ہوئی جو کہ ختم ہو چکی ہے ۔ اجلاس میں کورونا وباء کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر موسم سرما کی چھٹیاں قبل از وقت دینے اور ان کی تعداد میں اضافے پر مشاورت کی گئی۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمارے لئے بچوں کی زندگی اور صحت اولین ترجیح ہے۔شفقت محمود کا مزیدکہنا ہے کہ تعلیمی اداروں سے متعلق جو فیصلہ ہو گا اس پر سب کو عمل کرنا ہو گا۔بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس وزرائے تعلیم نے سکولز بند کرنے کی مخالفت کر دی۔ یونیورسٹیز اور سکولز بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ ہفتے وزرائے تعلیم کا دوبارہ اجلاس ہو گا۔تعلیمی ادارے بند کرنے یا نہ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ آج شام این سی او سی کے اجلاس میں ہوگا۔سکولز بند کرنے یا نہ کرنے سے متعلق این سی او سی اجلاس میں جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد حتمی منظوری دی جائے گی۔ قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے کورونا وائرس کے باعث موسم سرما کی چھٹیوں کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے زیادہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد اسکولوں میں کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک 117 سکولوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 16 سکول سیل کیے گئے ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ پنجاب میں سکول بند کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔ میری سمجھ کے مطابق موسم سرما کی چھٹیاں نہیں ہونی چاہیے۔علاوہ ازیں صوبائی وزیر تعلیم برائے سکول ایجوکیشن پنجاب مراد راس نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی قیادت میں صوبہ پنجاب میںکورونا اور ڈینگی وائرس سے متعلق ایس او پیز پر عمل درآمد جاری ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد میں سیل کئے گئے تعلیمی اداروں کی تعداد 120 ہو چکی ہے جبکہ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے سکولز بند کرنے کی تجویز مسترد کردی ہے فیڈریشن کا کہنا ہے کہ صرف سکولز میں ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے کورونا میں پہلے ہی کروڑوں طلبا کی تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے. انہوں نے کہا کہ ہم آن لائن ایجوکیشن سے مطمئن نہیں ہیں آن لائن ایجوکیشن میں طلبا اساتذہ پر توجہ نہیں دیتے‘اُدھر عالمی وبا کے سبب دنیا میں 5 کروڑ 48 لاکھ10 ہزار316افراد متاثر ہو چکے ہیں اور 13 لاکھ24 ہزار320 اموات ہوئی ہیں اب تک کورونا کے 3 کروڑ 81 لاکھ 36 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہوچکے ہیں اور ایک کروڑ53 لاکھ 49ہزار سے زائد زیرعلاج ہیں.