"

کراچی سمیت پاکستان کر تین شہر چند منٹوں میں ڈوب جائے گا۔

پاکستان کے اہم شہر میں بھائی بلیک میل کر کے14سالہ سگی بہن کو متعدد بار زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ، چوتھی بار ریپ کرتے ہوئے کیا واقعہ پیش آیا ؟ بلیک میل کس بات پر کر رہا تھا ؟ ایف آئی آر کے مطابق نواب شاہ پولیس کو اطلاع ملی کہ گندم کے فصل میں ایک لڑکی کی لاش موجود ہے، جب پولیس وہاں پہنچی تو 14 سال کی عمر کی لڑکی کی برہنہ لاش موجود تھی۔ جس کے بال اور بازو جھلس چکے تھے، لاپتہ لڑکی کے بھائی نے تصدیق کی کہ یہ ان کی گمشدہ بہن ہے۔پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع نوابشاہ کی پولیس نے 14 سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں اس کے بھائی کو گرفتار کرلیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزم نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے تین بار بہن کا ریپ کیا اور خوف میں آ کر اسے آگ لگا کر مار دیا۔نوابشاہ کے دیہی علاقے جام صاحب کے قریب یہ واقعہ 14 نومبر کو پیش آیا تھا۔ پولیس کو 13 سالہ لڑکی کے بھائی نے شکایت کی تھی کہ اس کی بہن گذشتہ شب سے لاپتہ ہے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی کہ گندم کے فصل میں ایک لڑکی کی لاش موجود ہے، جب پولیس وہاں پہنچی تو 13، 14 سال کی عمر کی لڑکی کی برہنہ لاش موجود تھی جس کے بال اور بازو جھلس چکے تھے، لاپتہ لڑکی کے بھائی نے تصدیق کی کہ یہ ان کی گمشدہ بہن ہے۔ نوابشاہ پولیس کے سابق ایس ایس پی تنویر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے لڑکی کے زیر استعمال موبائل فون کو تحویل میں لیکر اس کی فرانزک کرائی اور اس کی روشنی میں ایک نوجوان کو حراست میں لیا جس سے لڑکی کی دوستی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ ’لڑکے کے دوستوں کو بھی شامل تفتیش کرلیا، معلوم ہوا ہے کہ بھائی نے اپنی بہن کو اس نوجوان کے ساتھ مراسم میں دیکھ لیا تھا جس کے بعد وہ اس کوبلیک میل کرتا رہا اور تین بار اس کا ریپ بھی کیا ۔ جس بارے میں لڑکی نے اپنے بوائے فراینڈ کو بھی آگاہ کیا تھا۔ ایس ایس پی ‘تنویر کے مطابق پولیس نے لڑکی کے مذکورہ بھائی کو گرفتار کرلیا جس نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بہن کا ریپ کرتا رہا ہے اور واقعے والی رات بھی اس نے یہ کوشش کی تھی جس پر لڑکی نے مزاحمت کی اور اس نے بہن کو قتل کردیا۔ مقتول لڑکی دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ لڑکی کے قتل کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا، مدعی ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ واقع سے شبہ ہوتا ہے کہ لڑکی کو غیرت کے نام پر کاری قرار دیکر قتل کیا گیا ہے اس لیے سرکار کی مدعیت میں یہ مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔