"

خادم حسین رضوی کا آخری بیان

تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کا ان کے انتقال سے متعلق بیان سوشل میڈیا پر وائرل ،، تفصیلات میں جانے سے قبل ہمارے ناظرین سے گزارش ہے کے ہمارا چینل اوصاف ڈیجیٹل اسبسکرئیب کر لیں ۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ رات انتقال کرنے والے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ خادم حسین کا اپنے انتقال سے متعلق ایک بیان سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے۔ خادم حسین رضوی کے اچانک انتقال کی خبر کے بعد ان کا ایک پرانا ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے جس میں وہ اپنی موت کے حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ اپنے بیان میں خادم حسین رضوی کو کہتے سُنا جاسکتا ہے کہ ’ایک دن اعلان ہوگا مولوی خادم مر گیا، کوئی کہے گا بہت اچھا بندہ تھا، جبکہ کوئی کہے گا بہت برا تھا۔‘ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’2 ہی باتیں ہوتی ہیں یا اچھا تھا یا برا انسان تھا، درمیانی کوئی بات نہیں ہوتی۔‘ بیان سننے والوں مخاطب کرتے ہوئے خادم حسین رضوی کہتے ہیں کہ ’تم لوگ کہہ دینا اچھا انسان تھا پر سخت تھا، لیکن یاد رکھنا آج میرا ساتھ دے لو ورنہ بعد میں ہمارے جیسا کوئی نہیں ملے گا۔‘ علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ خادم حسین رضوی حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ ناظرین علامہ خادم حسین رضوی کو چند برس پہلے تک کوئی نہیں جانتا تھا، انھوں نے ستمبر 2017 میں تحریک لبیک کی بنیاد رکھی اور اسی برس لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ 120 لاہور کے ضمنی انتخاب میں سات ہزار ووٹ حاصل کر کے سیاسی پنڈتوں کو حیرت میں ڈال دیا، وہ پہلی بار میڈیا کی نظروں میں اس وقت آئے جب انھوں نے سلمان تاثیر کے قاتل کی سزائے موت کی مخالفت کاا علان کیا ، اس واقعہ کے بعد انکی دینی زندگی میں سیاست کا رنگ ایسا چڑھا جو آخری وقت تک نہ اترا، جنوری 2017 میں بھی توہین مذہب کے قانون کے حق میں انھوں نے لاہور میں ریلی نکالی ،تحریک لبیک کے رہنماؤں نے اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پرفیض آبادمیں بیس روز تک دھرنا دیا ، انھیں دھرنے میں سنی تحریک کی مکمل حمایت حاصل رہی ،جس کے اختتام پر حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان 6 نکاتی معاہدہ طے پایا تھا۔اس واقعے کے بعد تحریک لبیک کا پاکستان میں حقیقی جنم ہوا ور یہ مذہبی جماعت پاکستانی سیاست میں اہمیت اختیار کر گئی ۔2017 میں ہی انتخابی اصلاحات کے باعث انتخابی فارم میں ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم پر تحریک لبیک متحرک ہوئی اور ایک بار پھر دھرنا دیا۔تحریک لبیک پاکستان نے 2018 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا اور سندھ اسمبلی میں نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئی،