"

تعلیمی ادارے بند نہیں کیے جا رہے ‘‘

تعلیمی ادارے بند نہیں کیے جا رہے ‘‘ حکومت کے تعلیمی ادارے بند کرنے کی خبر کے کچھ دیر بعد ہی کیا خبر آگئی ؟ والدین ، اساتذہ اور بچے سن لیں وفاقی حکومت نے گزشتہ روز کورونا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کیا تھا جسے آل پاکستان پرائیوٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر کاشف مرزا نے مسترد کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق صدر آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کاشف مرزا نے کہا کہ وفاق کی24 نومبر سے 24دسمبر تک بند کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کی جانب سے وزیر اعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف، وزرائے اعلیٰ اور گورنرز سےاپیل کرتے ہیں کہ اسکولز ایس او پیز کے تحت کُھلے رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولزدوبارہ بند نہیں ہوں گے۔ اسکولز کُھلے رکھنےکا واضح اعلان ہو چکا ہے۔تعلیمی اداروں کے لیے مائیکرولاک ڈاون کا آپشن استعمال کیا جائے۔ کاشف مرزا نے کہا کہ سیاسی اجتماعات پرپابندی پر عمل درآمد کیا جائے۔یو این،یونیسف،یونیسکووعالمی بنک ایڈویزری کے مطابق کورونا میں بھی اسکولز کھلے رکھے جائیں،کیونکہ اسکولز بند کرنے کے نقصانات زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیلپ سروے کے مطابق87 فیصد والدین بچے اسکولز بجھوانا چاہتے ہیں،کووڈ 19 میں7.5کروڑطلباکی تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ کاشف مرزا کا کہنا ہے کہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے ثابت کیا کہ طلباء سکولزمیں مکمل محفوظ ہیں۔ وزرائے تعلیم کا اعتراف ہے کہ پرائیویٹ اسکولز ایس او پیز پربھرپورعمل کر رہے ہیں، جو اعتماد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اجتماعات سے کورونا کے پھیلاؤ اور کروڑوں پاکستانیوں کو جان کا خطرہ ہے۔ وزیراعظم،چیف جسٹس،آرمی چیف اور این سی او سی غیر قانونی سیاسی اجتماعات رکوائیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث 5 کروڑطلبا کےتعلیمی نقصان کا ازالہ ناممکن ہے۔2.5 کروڑ پاکستانی بچے پہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش نجی اسکولزکا معاشی قتل ہے، بندش سے 10000 اسکولز مکمل بنداور 7 لاکھ اُساتذہ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اساتذہ کے لیے ’’تعلیمی ریلیف پیکیج‘‘کا اعلان کریں ۔ کاشف مرزا کا مزید کہنا تھا کہ امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اورعام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟ ہر بچہ کو زندگی میں مساوی مواقع میسر آنے چاہئیں۔ تعلیم ہر بچے کا آئینی حق اور ریاست کا آئینی فریضہ ہے۔