"

سبحان اللہ ، اللہ کے نبی حضرت عیسی ابن مریم A.S. عیسیٰ کا مکان دریافت ہوا

اس زمین کے سینے میں ایسی ایسی چیزیں مدفون ہیں کہ ان کے باہر آنے پر عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے ۔ آج سے پہلے کئی قومیں دنیا میں موجود رہیں ۔ کچھ بہت مشہور ہوئیں اور کچھ اپنے عہد کے ساتھ ہی ایسی گمنامی کے پردے پیچھے جا چھپیں کہ آج انہی جانتا تک کوئی نہیں ۔ تاریخ ہمیں ان کے قصے کہانیاں سناتی ہے مگر ہمارے پاس ان کے محض قصے کہانیاں ہی نہیں بلکہ ان کے آثار بھی موجود ہیں ۔ قوم عاد ، ثمود ہو ، ہڑپہ کہ کھنڈرات ہوں یا مکلی کا قبرستان ، عہد رفتہ کے آثار آج بھی کہیں نہ کہیں ملتے رہتے ہیں ۔ ایک برطانوی ماہر آثار قدیمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی شہر ناصرہ میں ’سسٹرز آف ناصرہ کانوینٹ‘ چرچ حضرت عیسیٰ کا آبائی گھر ہے۔ عرب نیوز کے مطابق ریڈنگ یونیورسٹی کے پروفیسر کین ڈارک نے اس جگہ پر 14 برس تک فیلڈ ورک اور تحقیق کر کے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے یہ چرچ پہلی صدی کے ایک گھر پر بنایا گیا جس میں حضرت عیسیٰ کی پرورش ہوئی۔ یہ گھر پہاڑی علاقے میں ہے اور کافی اچھی حالت میں ہے اور اسے ایک قدرتی غار میں بنایا گیا ہے۔ پروفیسر کین ڈارک کا کہنا ہے کہ گھر پر کی گئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ’شاندار کاریگری‘ دکھائی گئی۔ ان کے مطابق یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ غار میں بنا یہ چرچ چوتھی صدی میں تعمیر کیا گیا جب رومی سلطنت نے سرکاری سطح پر عیسایئت کو مذہب کے طور پر اپنایا۔ برطانوی پروفیسر کا کہنا ہے کہ یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ پہلی صدی کے اس گھر کا حضرت عیسیٰ کے ساتھ کوئی تعلق تھا ’لیکن اس بارے میں شک کرنے کی تمام وجوہات موجود ہیں۔‘ اس جگہ پر پہلی دریافت 1880 میں کی گئی اور یہاں کھدائی کا عمل 1930 میں مکمل ہوا۔ پروفیسر کین ڈارک نے اپنا کام 2006 میں شروع کیا۔ پروفیسر کا کہنا ہے کہ اب تک ہونے والے تجزیوں میں اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ پہلی صدی کا گھر ہے اور اس سے ان دعوؤں کو تقویت ملتی ہے، لیکن اس طرح کی کوئی اور مثال اس اسرائیلی شہر میں سامنے نہیں آئی ہے۔ 2008ءمیں اردن کے ایک بدوکو قدیم زمانے کی ایک کتاب ملی جو اس سے اسرائیل کے ایک بدوی نے لے لی اور پھر ماہرین کے ہاتھوں میں جا پہنچی۔ اب اس کتاب کے متعلق ایسا انکشاف ہوا ہے کہ تحقیق کرنے والے ماہرین بھی حیران رہ گئے ہیں۔ذرائع کےمطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس کتاب پر لکھی تحریر پڑھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جس سے معلوم ہوا ہے کہ دھات کی بنی ہوئی یہ کتاب 2ہزار سال قدیم ، حضرت عیسیٰ ؑ کے دور کی ہے۔ اس میں عیسیٰ ؑ کے فرمودات لکھے ہوئے ہیں ۔کتاب کی تحریر سے اسلام کے اس نظریئے کی تصدیق ہوئی ہے کہ کوئی مذہب بھی نیا نہیں، تمام انبیاءکرامؑ ایک ہی پیغام ”اسلام“ کو لے کر آگے بڑھے جو حضرت محمدﷺ پر آ کر اختتام پذیر ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کتاب کی تحریر سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ نے کوئی نیا مذہب شروع نہیں کیا بلکہ حضرت داؤد ؑ کے ایک ہزار سال قدیم پیغام کو ہی آگے بڑھایا۔رپورٹ کے مطابق اس کتاب کے صفحات دھات کے بنے ہوئے ہیں اور دھات ہی کے کڑوں سے ان کی بائنڈنگ کی گئی ہے۔ سیسے کے ان صفحات پر تحریر اور مختلف نقش و نگار بنے ہوئے ہیں اور ایک تصویر بھی کندہ ہے۔۔ اردنی بدوی کو یہ 2008ءمیں ملی تھی تاہم اس کی دریافت کا باضابطہ اعلان 2011ءمیں کیا گیا۔بہت سے عیسائی اس کتاب کو جعلی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں تاہم ڈیوڈ اور جینیفر کا کہنا ہے کہ ہم نے اس کتاب کی تحریر اور علامات کا ترجمہ کیا ہے اور ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ بالکل اصلی ہے اور اس کا تعلق حضرت عیسیٰ ؑ کی نبوت کے دور کے چند سالوں سے ہے۔واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی ماہرین آثار قدیمہ کو ایسے نواردات ملتے رہتے ہیں جن میں سے کئی پر آج بھی کام جاری ہے جبکہ نہ جانے کتنے ایسے ہی راز زمین کے سینے میں دفن ہیں ۔