"

کاون ہاتھی کی رپورٹر کے ساتھ مستیاں !

کاون ہاتھی کی رپورٹر کے ساتھ مستیاں ! سونڈ ھ میں پانی بھر کر کیسے پھینکتا رہا ؟ ویڈیو وائرل ہو گئی، جانتے ہیں کہ کاون ہاتھی پاکستان کے کس صدر کی بیٹی کو تحفے میں ملا تھا ؟ تفصیلات میں جانے سے قبل ،،،،،،،،،،،،،،،،،، کرہ ارض کی جنگلی حیات میں ہاتھی وہ جانور ہے جو بچوں کا ساتھی کہلاتا ہے۔اسلام آباد کے چڑیا گھر میں موجود ہاتھیوں کا جوڑا جو کہ کاون اور سہیلی کے نام سے جانا جاتا تھا اور پاکستان کے بچوں میں مقبول تھا۔انیس سو اسی کے ابتدائی سالوں میں سری لنکا سے لائے ننے منےہاتھی اور ہتھنی پاکستان کے نامور سیاستدانوں کے بچوں کی خصوصی تفریح کا باعث تھےجن میں سرفہرست جنرل ضیاالحق صدرپاکستان کی صاحبزادی زین ضیا شامل ہیں۔درحقیقت 1982 میں صدر پاکستان کے دورہ سری لنکا کے دوران یہ ہتھنی کا بچہ زین ضیا کو تحفے میں دیا گیا جو ان کا دل بہلانے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے لاکھوں بچوں کی دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ایک دن یوں ہوا کہ 'سہیلی' بیمار ہوئی اور چڑیا گھر کے ڈاکٹر نے بے حد کوشش کی لیکن علاج سے افاقہ نہ ہوا اور یوں 'سہیلی' 2012 میں یکایک مر گئی۔ محکمانہ کارروائی سے قطع نظر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ اچھی بھلی 'سہیلی' کوآخر ہوا کیا، اس کو کسی کی نظر کھا گئی؟ ہتھنی کی موت کے بعد جیسے ہاتھی بلکل اکیلا رہ گیا تھا، سہیلی نے ساتھ چھوڑا تو کاون کے مسائل بڑھتے بڑھ گئے اور اس کے غصے پر قابو پانا مشکل ہوتاچلاگیا اور چڑیاگھر کی انتظامیہ نے اسے زنجیروں میں جکڑڈالا۔وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے حکام کہتے ہیں کہ ایساً مجبورا کرنا پڑا کیونکہ قید سے بیزاری اور موسمی شدت کے شکارکاوان نے غصے کے اظہار کے لیے شور شرابا کرنا شروع کردیاتھا۔ہاتھی چڑیا گھر کے جنگلوں کو ٹکرمارتا اوربعض اوقات شہریوں پر اپنی خوراک کے لیے رکھے گنوں سے حملہ آور بھی ہوجاتا تھا۔شہریوں نے کاوان کو زنجیروں سے رہائی دلانے کے لیے سوشل میڈیاپر مہم شروع کی تو نجی تنظیموں کی کاوش سے معاملہ ایوان بالا پہنچ گیا تھا ۔ جس کے بعداس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے کاوان کو زنجیروں سے آزاد کرنے اور ہاتھی گھرکے اندرونی حصوں میں تالاب بنوانے کے احکامات جاری کیےمگر اب کاون ہمیشہ کے لیے پاکستان سے باہر جا رہا ہے کیونکہ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کاون کی رہائی اور اسے ایک بہترین قدرتی مسکن میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے حکومت کے پاس اس حوالے سے دو آپشن زیر غور تھے۔ ایک یہ کہ کاون کو اپنے آبائی گھر سری لنکا واپس بھیج دیا جائے یا پھر اسے کمبوڈیا منتقل کیا جائے۔ بالآخر حکومت نے کاون کو کمبوڈیا بھیجنے کا فیصلہ کیا اور آج کل متعلقہ ادارے اس حوالے سے تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کاون کے حوالے سے ہم نے آپ کو بتایا کے وہ تو پاکستان چھوڑ کر جا رہا ہے مگر ہم آپ کو یہاں ایک اور دلچسپ ویڈیو دیھکاتے چلے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کے ایک نجی ٹی وی چینل کے رپورٹر پر دوران رپورٹنگ کاون ہاتھی شرارتی انداز میں اپنی سونڈھ سے پانی بھینکتا ہے جس کی وجہ سے رپورٹر ڈرتے ہوئے وہاں سے نو دو گیارہ ہو جاتا ہے ۔