"

بچی کے علاج کے دوران ڈاکٹروں نے انتہا کر دی ! افسوسناک ویڈیو سامنے آگئی

مدیحہ نامی ایک بچی ڈاو میڈیکل کاپلیکس میں زیر علاج ہے۔ ڈاکٹروں نے پہلے اس کا کرونا کا ٹیسٹ کروایا مگررپورٹ آنے سے پہلے اس کا اپریشن کرنا شروع کر دیا، دوران آپریشن کرونا کی رپورٹ دیکھ کرعلاج مکمل کیے بغیر ٹانکے لگا کر اسے باہر بھیج دیا۔ مدیحہ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ڈاکڑوں کی غفلت کی وجہ سے ان کی بچی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ مدیحہ کے گھر والوں نے ایک ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے جس میں عوام، وزیر اعلی سندھ اور وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی گئی ہے کہ ان درندوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکڑوں نے مدیحہ کو تئیس تاریخ کو ایڈمیٹ کیا تھا،اس کا کئی موتبہ چیک آپ کیا گیا اور پھر آپریشن کی ڈیٹ چھبیس دی گئی۔ بچی کے کئی ٹیسٹ کروائے گئے اورپھر آپریشن کے لیے بلایا تھا اور کرونا کا ٹیسٹ بھی کروایا تھا مگر کرونا کے کوئی سمٹمز نہیں تھے اور پوری فیملی کے بھی ٹیسٹ کروائے گئے اور سب کے ٹیسٹ کی رپورٹ نیگیٹیو آئے ۔ رات کو اس کو کہا گیا کہ آپ نے کچھ نہیں کھانا اور صبح آپ کا آپریشن ہے، مگر کرونا کی رپورت آنے سے پہلے ہے اس کو آپریشن تھیٹر میں لے گئے اور وہاں اس کا آپریشن شروع کر دیا گیا۔ جب کٹ لگایا گیا تو ٹیسٹ کی رپورٹ آ گئی اور رپورٹ پوزیٹیو تھی ۔ جیسے ہی ڈاکٹرز نے دیکھا کہ رپورٹ پوزیٹیو ہے انہوں نے آپریشن کرنا چھوڑ دیا اور بچی کو اسی طرح ٹانکے لگا کر کہا کہ کرونا میں آپریشن نہیں کیا جا سکتا۔ اب بچی بے حد تکلیف میں ہے اور اس کی روداد سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اب مدیحہ کی فیملی کا یہ کہنا ہے کہوزیر اعلی سندھ اور وزیر اعظم عمران خان اس کا نوٹس لیں اور ان ڈاکٹرز کو سزا دی جائے تاکہ وہ آئندہ ایسا کسی کے بھی ساتھ نہ کر سکیں۔