04:50 pm
پاکستانی شائقین کرکٹ نے چنائی ٹیسٹ کوملکی تاریخ کا بہترین ٹیسٹ میچ قرار دے دیا

پاکستانی شائقین کرکٹ نے چنائی ٹیسٹ کوملکی تاریخ کا بہترین ٹیسٹ میچ قرار دے دیا

04:50 pm

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی شائقین کرکٹ نے ملکی تاریخ کے عظیم ترین ٹیسٹ میچز میں سے چنائی ٹیسٹ کو ووٹنگ کی بنیاد پر بہترین ٹیسٹ قرار دے دیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کروائی گئی آن لائن ووٹنگ میں 65فیصد شائقین کرکٹ نے چنائی ٹیسٹ کے حق میں ووٹ ڈالے ۔ 1954کا اوول ٹیسٹ، 1987کا بنگلور ٹیسٹ اور 1994کا کراچی ٹیسٹ میں ووٹنگ کے مقابلے میں شامل تھے۔
لیکن اپنی سنسنی، محنت، ٹیم ورک اور اعصاب پر قابو رکھنے کے اعتبار سے 1999كکے چنائی ٹیسٹ کو بہترین ٹیسٹ میچ قرار دے دیا گیا۔ اس ٹیسٹ میچ میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے معین خان اور محمد یوسف کی نصف سنچریوں کی بدولت 238 رنز اسکور کیے تھے، بھارت کے انیل کمبلے نے 70 رنز کے عوض 6 اور جواگل سری ناتھ نے 3 وکٹیں لی تھیں۔اس کے جواب میں بھارت کی ٹیم بھی بڑی برتری لینے میں ناکام رہی تھی اور پوری ٹیم 254رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی، سارو گنگولی نے 54 اور راہول ڈراوڈ نے 53رنز اسکور کیے تھے۔پاکستان کی جانب سے ثقلین مشتاق نے 94رنز کے عوض 5 اور شاہد آفریدی نے 31رنز کے عوض 3 وکٹیں لی تھیں۔پاکستان نے دوسری اننگز میں شاہد آفریدی کے 141 اور انضمام الحق کی 51 رنز کی اننگز کی بدولت 286رنز اسکور کیے اور بھارت کو فتح کے لیے 271رنز کا ہدف دیا تھا، وینکاٹیس پرساد نے 33رنز کے عوض 6 وکٹیں لی تھیں۔ہدف کے تعاقب میں بھارتی ٹیم صرف 82رنز پر 5 وکٹوں سے محروم ہو گئی تھی لیکن اس موقع پر سچن ٹنڈولکر کے ساتھ نین مونگیا وکٹ پر ڈٹ گئے اور دونوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 136رنز کی شراکت قائم کر کے اپنی ٹیم کی فتح کے امکانات روشن کر دیے۔مونگیا 52رنز پر پویلین لوٹے تو پاکستان کی جیت کی امید ایک بار پھر پیدا ہو گئی لیکن ٹنڈولکر قومی ٹیم اور فتح کے بیچ حائل تھے اور اسکور کو 254 تک لے گئے۔اس موقع پر ثقلین مشتاق کی ایک گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی غلطی ٹنڈولکر کو بہت مہنگی پڑی اور وہ اپنی وکٹ جبکہ بھارت نے یہ ٹیسٹ میچ گنوا دیا۔اس کے بعد محض چار رنز کے اضافے سے بقیہ تین بلے باز بھی پویین لوٹ گئے اور پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 12رنز سے فتح سمیٹ لی۔چنئی ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے وسیم اکرم نے کہا کہ اگر اس وقت میچ برا راست دیکھنے والوں کے آج بھی اس میچ کے بارے میں سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں تو سوچیں کہ اس وقت میچ کھیلنے والوں کہ کیا جذبات اور احساسات ہوں گے۔ ہم سب کرکٹ میچ میں دباؤ اور بدلتی ہوئی قسمت کے بارے میں بہت بات کرتے ہیں لیکن اگر کوئی جاننا چاہتا ہے کہ دباؤ کیا ہوتا ہے اور اس کو برداشت کر کے کیسے کارکردگی دکھائی جاتی ہے تو یہ ایک بینچ مارک ہے۔

تازہ ترین خبریں