02:48 pm
مصباح الحق کے بہت کوچ کے طور پر سامنے آنے کی پانچ اہم وجوہات

مصباح الحق کے بہت کوچ کے طور پر سامنے آنے کی پانچ اہم وجوہات

02:48 pm

سڈنی (مانیٹرنگ ڈیسک) مصباح الحق آج سے دبئی میں پاکستانی ٹیم کی 17روزہ ٹریننگ کی سرپرستی کریں گے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ و ہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے فرائض سنبھالنے والے ہیں ۔ مصباح الحق نے 2002میں اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کیا تھا اور نیروبی (کینیا) میں ایک سہ ملکی سیریز میں شرکت کی تھی۔ 27سال کی عمر میں کیرئیر شروع کرنے والے مصباح الحق نے اس سیریز میں ہی دو نصف سنچریاں بنا ڈالی تھیں۔
تاہم اس کے بعد طویل عرصہ تک وہ دوبارہ ٹیم سے غائب ہو گئے تھے جس کے بعد 2007میں ٹیم میں دوبارہ ان کی واپسی ہوئی تھی۔اس کے بعد مصباح الحق نے انتہائی مستقل مزاجی سے بیٹنگ پرفارمنسز دیں اور وہ دس برس تک ٹیم کا حصہ رہے۔ان کا شمار دنیائے کرکٹ کے انتہائی مستند بلے بازوں میں رہا ۔ مصباح الحق نے پاکستان کو ویسٹ انڈیز کے خلاف اس کی سرزمین پر 65سالوں میں پہلی بار ٹیسٹ کامیابی دلوائی۔ اب ریٹائرمنٹ کے دو ہی سال کے بعد کرکٹ بورڈ انھیں ایک اہم منصب سونپنے جا رہا ہے۔ اور ان کے ہیڈ کوچ بننے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ مصباح کی کپتانی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا گراف اچھا رہا۔ مصباح الحق کا اس اعتبار سے پاکستانی ٹیم کے ساتھ میل جول خوش آئند ثابت ہونے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔اس سے قبل پاکستانی کرکٹ ٹیم نے زیادہ تر غیر ملکی کوچز یا پھر ایسے ملکی کوچز کی خدمات حاصل کیے رکھی ہیں جو 80یا پھر 90کی دہائی میں کرکٹ کھیلتے رہے۔اگرچہ یہ کوچز بھی خاصے تجربہ کار تھے لیکن پانچ پہلو ایسے ہیںجن کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مصباح الحق کو ہیڈ کوچ کی ذمہ داری دینا ایک اچھا فیصلہ ثابت ہوسکتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ ایسے کوچز جنھیں کرکٹ کا گرائونڈ چھوڑے ہوئے لمبا عرصہ نہ گزرا ہو۔ وہ اپنی ترجیحات کا تعین زیادہ آسانی سے کر سکتے ہیں اور فیصلوں کو حقیقت پسندی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ متضاد فطرت کی حامل شخصیت کے طور پر سامنے نہیں آتے۔مثال کے طور پر پرانے کوچز صرف تیزبھاگ دوڑ کو ہی کھلاڑیوں کی فٹنس کا پیمانہ قرار دیتے رہے جبکہ ایسا نہیں تھا۔ انضمام الحق خود انتہائی سست رفتار رنر ہوا کرتے تھے۔ تاہم و ہ ایک عظیم بلے باز بھی تھے لیکن انضمام چیف سلیکٹر ہوتے ہوئے کھلاڑیوں کی فٹنس کا فیصلہ تیز بھاگنے کی بنا پر ہی کرتے تھے۔ مصباح کو ایسا معاملہ درپیش نہیں ہوگا۔ دوسرا ایسے کوچز جو جدید کرکٹ کے تقاضوں کو بخوبی سمجھتے ہوں کیونکہ وہ ماضی قریب میں اس کا حصہ رہ چکے ہیں ۔ ہر شخص اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ آج کل کی کرکٹ آج سے بیس سال پہلے کی کرکٹ سے کہیں زیادہ مختلف ، جارح مزاج اور تیز رفتار ہے۔ تیسری اہم بات یہ کہ مصباح الحق اس وقت 45سال کے ہیں ۔چنانچہ وہ 55یا اس سے زائد عمر کے تمام کوچز کی نسبت زیادہ مستعد اور پھرتیلے بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔چوتھی اور سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ مصباح موجودہ پاکستانی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں کے ساتھ قومی ٹیم کی جانب سے یا پی ایس ایل میں کھیل چکے ہیں اوران میں اور کھلاڑیوں میں مزاج اور فطرت کے حوالے سے خاصی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ اس طرح ہچکچاہٹ، کترانے، دوری برتنے یا گفتگو کا فقدان ہونے کے مسائل بھی خاطر خواہ حد تک حل ہو جائیں گے۔پانچواں اور آخری منفرد پہلو یہ ہے کہ مصباح الحق کے بحیثیت کپتان کامیاب ہونے کی وجہ ان کا اپنے لیے ایک وننگ یونٹ بنانا تھا۔ جس کےلئے اب بھی وہ بڑے تاک ہوسکتے ہیں اور کارکردگی دکھانے کے اہل کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم بنا کر پاکستان کو

تازہ ترین خبریں