08:58 am
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر 2019-20 ا اعلان کر دیا

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر 2019-20 ا اعلان کر دیا

08:58 am

لاہور( این این آئی )پاکستان کرکٹ بورڈ نے ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر 2019-20کا اعلان کر دیا۔تقریب رونمائی میں چیئرمین پی سی بی احسان مانی، چیف ایگزیکٹو وسیم خان اور ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ ہارون رشید نے شرکت کی۔نئے ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر میں سابق کرکٹرز کے لیے کوچنگ اور مینجمنٹ کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں جبکہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کی مراعات میں اضافہ بھی تجویز کیا گیا ہے پی سی بی کی جانب سے لائے گئے نئے ڈومیسٹک سٹرکچر میں 16 ریجنز کو 6 ایسوسی ایشنز میں ضم کردیا گیا ہے جبکہ اسے مزید 3 مختلف درجوں
 
میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے درجے میں 90 سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز سکول اور کلب کرکٹ مقابلوں کا انعقاد کریں گی، دوسرے درجے میں سٹی کرکٹ ٹیمیں انٹرا سٹی مقابلوں میں شرکت کریں گی جبکہ تیسرے درجے میں 6 ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں پی سی بی کے زیراہتمام ٹورنامنٹس میں شرکت کریں گی۔نئے ڈومیسٹک کرکٹ سٹرکچر میں ہر کرکٹ ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کو سالانہ کنٹریکٹ دے گی، یہ کھلاڑی پی سی بی کے سنٹرل کنٹریکٹ کاحصہ نہیں ہوں گے اور ہر کھلاڑی کو ماہانہ 50 ہزار روپے معاوضہ ملے گا۔اس کے علاوہ ایسوسی ایشن 32 کھلاڑیوں کے علاوہ بھی کسی کھلاڑی کو فی میچ معاوضہ دے کر میچ میں شامل کرسکتی ہے۔قائداعظم ٹرافی فرسٹ کلاس میچز 14 ستمبر سے 8 اکتوبر اور 28 اکتوبر سے 13 دسمبر تک جاری رہیں گے جبکہ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ یکم اکتوبر سے 12 نومبر تک جاری رہے گا۔مزید برآں قائداعظم ٹرافی سیکنڈ الیون کے میچز 14 ستمبر سے 10 اکتوبر اور 28 اکتوبر سے 29 نومبر تک ہوں گے جبکہ قومی ٹی ٹونٹی کپ 13 سے 24 اکتوبر تک کھیلا جائے گا۔پاکستان کپ ایک روزہ ٹورنامنٹ کے میچز 29 مار چ سے 24 اپریل 2020 تک جاری رہیں گے، ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ کپ میں فرسٹ الیون اور سیکنڈ الیون کے میچز بیک وقت شروع ہوں گے۔ڈومیسٹک سیزن 2019-20 کے تمام ٹورنامنٹس میں کوکابورا کی گیند کا استعمال کیا جائے گا۔اس ضمن میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ کرکٹ کے معیار میں بہتری لانا پی سی بی کی اولین ترجیح ہے۔نئے ڈومیسٹک سٹرکچر کے نفاذ سے قومی کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل آئے گا، اس کی تیاری میں پی سی بی صوبائی ایسوسی ایشنزکی مکمل معاونت کرے گا۔انہوںنے کہاکہ سسٹم میں بہتری آنے میں وقت لگے گا لیکن پرامید ہوں نئے سسٹم سے ہماری کرکٹ میں بہتری ضرور آئے گی۔پاکستان میں پروفیشنل ازم کا معیار دوسرے ملکوں سے بہت کم ہے، ہم ایک دن بہت اچھا پرفارم کرتے ہیں پھر دوسرے ہی دن بہت ہی برا کھیل جاتے ہیں۔ ہمیں ایسے پروفیشنل کرکٹرز چاہیے جو کسی بھی کنڈیشنز میں بہترین کھیل پیش کرسکیں، آسٹریلوی کرکٹرز ہر طرح کی کنڈیشنر میں بہترین کھیل اس لئے پیش کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کیونکہ ان کا سسٹم بہت اچھا ہے۔انہوںنے کہا کہ کتنے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہمیں ان کا متبادل کوئی اچھا کھلاڑی نہیں مل رہا۔ ہمیں تعداد نہیں بلکہ معیاری کرکٹ چاہیے۔اس موقع پر چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت پر یقین رکھتا ہے، یہ سٹرکچر ورلڈ ٹیسٹ چمپئنشپ کے لیے پاکستان کو بہترین ٹیم کے انتخاب میں مدد دے گا۔مجموعی طور پر 450 کھلاڑی، کوچز اور دیگر اسٹاف ممبران اس ڈومیسٹک سٹرکچر میں شرکت کریں گے۔