02:44 pm
شاہد آفریدی کو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی فکر نہیں

شاہد آفریدی کو پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی فکر نہیں

02:44 pm

کرا چی (مانیٹرنگ ڈیسک) شاہد آفریدی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو ایک بار پھر یہ مشورے دیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیں۔ ایسا آج سے نہیں بلکہ پچھلے ایک سال سے ہورہا ہے۔ شاہد آفریدی محمد عامرکو بھی یہی صلاح دیتے رہے۔ آفریدی نے اپنا ایک اور کارنامہ یہ بھی سنایاہے کہ عمر گل نے ان کی بات نہیں مانی تھی اور وہ بالکل ناکارہ ہوگئے تھے ۔
جس کے بعد انھوںنے خود اعتراف کیا تھا کہ انھوںنے شاہد آفریدی کی بات نہ مان کر غلطی کی۔ حال ہی میں محمد عامر اور پھر وہاب ریاض نے ٹیسٹ کرکٹ سےریٹائرمنٹ لے لی ہے۔ جس کےبعد یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ٹیسٹ فارمیٹ میں پاکستان کا بائولنگ کا شعبہ بہت بری طرح متاثر ہوجائے گا۔ دنیا بھر میں کرکٹ کے ماہرین اور سابق کرکٹر محدود اوورز کی کرکٹ کی بھرمار کو ٹیسٹ کرکٹ کےلئے سنگین خطرہ قرار دے رہےہیں۔ خود رمیز راجہ نے بھی عامر اور وہاب ریاض کے ٹیسٹ کرکٹ کو چھوڑنے کو پاکستانی کرکٹ کےلئے لمحہ فکریہ قراردے دیا ہے۔لیکن حیرت کی بات ہے کہ 21سال تک پاکستان کی نمائندگی کرنے والے شاہد آفریدی ٹیسٹ فارمیٹ کواتنا غیر اہم کیوں سمجھتے ہیں اور انھیں بالخصوص پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کی فکر کیوں نہیں ہے۔کیا صرف اسلئے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کےلئے کی جانے والی محنت کو انرجی کا ضیاع سمجھتے ہیںیا پھر ان کے خیال سے محدود اوورز کے کھیل میں نوجوان کھلاڑی جلدی پیسہ بنا سکتے ہیں۔ یا پھر محدود اوورز کھیلنے والے کرکٹرز کسی ایک فارمیٹ پر زیادہ فوکس کرتے ہوئے بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ ان تمام وجوہات کو درست بھی مان لیا جائے تب بھی سوال وہیں پر موجود ہے کہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کامستقبل کیا ہوگا اور شاہد آفریدی جیسےطویل عرصے تک کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑی کو اس بات کی فکر کیوں نہیں ہے جنھیں اس ملک اور یہاں کے شائقین کرکٹ نے بہت کچھ دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں