05:37 pm
ٹینس سٹار اعصام الحق کے والد کروڑوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مرتکب نکلے

ٹینس سٹار اعصام الحق کے والد کروڑوں کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مرتکب نکلے

05:37 pm

اسلام آباد (آن لائن) نیب کے اعلیٰ حکام نے ٹینس کے بین الاقوامی کھلاڑی اعصام الحق کے والد احتشام الحق قریشی کیخلاف کرپشن، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری الزامات کے تحت اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اعصام الحق کے والد ایشیاء انشورنس کمپنی کے مالک ہیں اور اس انشورنس کمپنی کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن کے مرتکب ٹھہرائے گئے ہیں۔ کمپنی کو سکیورٹی سٹاک ایکسچینج کمپنی کے کمشنر انشورنس نے بھی شکایات ملنے پر شوکاز نوٹس جاری کر رکھا ہے جبکہ نیب کے اعلیٰ حکام بھی تحقیقات کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ الزامات کے تحت کمپنی نے انشورنس پریمیم کے نام پر عام صارفین کے ساتھ کروڑوں روپے کا فراڈ کر رکھا ہے
اور ملکی اور بیرونی ممالک میں ناجائز اثاثے بنائے ہوئے ہیں۔ احتشام الحق قریشی نے ذاتی تجوری بھرنے اور کرپشن کے لئے اپنے بیٹے اعصام الحق کو بھی استعمال کر رکھا ہے جبکہ کرپٹ شخص محمد علی رضا اور آصف محمود نامی شخص بھی اس سکینڈل کے شریک ملزمان ہیں۔ ذرائع سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق ایشیا انشورنس نام کی کمپنی کیخلاف کرپشن کے درج ذیل الزامات ہیں کہ کمپنی اپنے حسابات کتاب کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں رکھا ہوا ہے جبکہ کمپنی کے نام پر بھاری ٹیکس چوری کر رکھی ہے اور قومی خزانہ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے جبکہ صارفین کے کلیم کی ادائیگی بھی کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور صارفین کی جمع پونجی اس نوسرباز خاندان نے لوٹ رکھی ہے جبکہ کمپنی کے اکائونٹس میں صارفین کے کلیم کی ادائیگی بارے فنڈز بھی نہیں ہیں کیونکہ تمام رقوم منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل ہو چکی ہیں۔ دستاویزات کے مطابق ایشیا انشورنس کمپنی کی بلڈنگ اور صحن محمد علی رضا نام کے شخص نے فروخت کر دیا ہے اور غلط طریقے سے اپنے والد امین الرشید کا نام استعمال کیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق الفلاح انشورنس، ایشیا انشورنس اور اٹلس انشورنس نام کی کمپنیاں صرف اور صرف عوام کو لوٹنے کے لئے قائم کی گئیں اور عوام کو لوٹنے کے علاوہ ان کا کوئی مقصد نہیں تھا جبکہ ایشیا انشورنس کمپنی نے تو دیگر بینکوں کے ساتھ بھی فراڈ کر رکھا ہے جبکہ صارفین کی رقوم سے بیرون ملک عیاشیوں کے لئے دورے کئے گئے ہیں اس مقاصد کے لئے پی اے سی آر اے سے جعلی ریٹنگ حاصل کی گئی ہے جبکہ کمپنی کی عمارت فالکن انجینئرنگ کو فروغ کر کے بھاری مال بنایا گیا ہے ایشیا انشورنس کمپنی میں ہزاروں غریب لوگوں کے کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری ہوئی تھی جو کہ نوسرباز لوگوں نے لوٹ لی ہے اور غریب صارفین اپنی جمع پونجی بچانے میں ناکام ہو گئے ہیں جبکہ قومی ادارے بھی کرپٹ افراد کو بچانے میں مصروف ہیں جبکہ غریب عوام کا کوئی آسرا نہیں ہے۔ نیب کے چیئرمین نے بھی ابھی تک اس کرپشن سکینڈل کی تحقیقات میں کوئی سرگرمی نہیں دکھائی ہے اس حوالے سے ایشیا انشورنس کمپنی انتظامیہ سے جواب دینے سے خود کو قاصر ظاہر کیا ہے

تازہ ترین خبریں