04:28 pm
سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان بری ہونے پرشاہد آفریدی نے حدیث کا حوالہ دیدیا

سانحہ ساہیوال کے تمام ملزمان بری ہونے پرشاہد آفریدی نے حدیث کا حوالہ دیدیا

04:28 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سانحہ ساہیوال کیس میں تمام ملزمان کی بریت پر شدید مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور سابق پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی نے بھی اس فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کیا۔شاہد آفریدی نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ساہیوال کے ہیش ٹیگ کے ساتھ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیث لکھی: ’تم سے پہلے لوگ تباہ ہوگئے تھے کیوں کہ وہ غریبوں کو قانونی سزا دیتے تھے اور امیروں کو معاف کرتے تھے۔
اللہ کی قسم اس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صاحبزادی) نے ایسا کیا (چوری کی)، میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا۔‘ "تم سے پہلے لوگ تباہ ہوگئے تھے کیوں کہ وہ غریبوں کو قانونی سزا دیتے تھے اور امیروں کو معاف کرتے تھے۔ اللہ کی قسم اس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی) نے ایسا کیا (چوری کی ) ، میں اس کا ہاتھ کاٹ دوں گا "شاہد آفریدی نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم لکھنے کے بعد ہیش ٹیگ میں ساہیوال لکھا جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے سانحہ ساہیوال کے کیس کے فیصلے پر یہ ٹوئٹ کیا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ روز انسداد دہشتگردی کی عدالت نے سانحہ ساہیوال کے مقدمے میں ملوث تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے مقتول ذیشان کے بھائی احتشام سمیت مجموعی طور پر 49گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ مقتول خلیل کے بیٹے عمیر،مبینہ اور بھائی خلیل سمیت دیگر نے بھی بیانات قلمبند کروائے۔ملزمان میں صفدر حسین،احسن خان،رمضان ،سیف اللہ، حسنین اور ناصر نواز عدالت میں پیش ہوئے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اس کیس سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے تمام ملزمان کو شک کی بنیاد پر بری کر دیا ہے۔خیال رہے کہ19جنوری کو ساہیوال ٹول پلازہ پر سی ٹی ڈی کی کارروائی میں چار افراد جاں بحق ہوئے جن کی شناخت خلیل، نبیلہ، اریبہ اور ذیشان کے نام سے ہوئی تھی۔فائرنگ کے دوران ایک بچہ گولی لگنے اور ایک بچی شیشہ لگنے سے زخمی بھی ہوئی۔ ہلاک ہونے والے خلیل اور نبیلہ بچ جانے والے تین بچوں کے والدین تھے جبکہ اریبہ ان بچوں کی بڑی بہن تھی جو ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔سانحہ ساہیوال میں جاں بحق ہونے والے چارافراد کی ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مرنے والوں کوایک فٹ سے دس فٹ کے فاصلے سے گولیاں ماری گئی، خلیل کو 5گولیاں لگیں،3 سینے اور بازو پر جبکہ 2 گولیاں سر پر لگیں، نبیلہ کو ایک گولی کنپٹی پر جبکہ 2 گولیاں پیٹ پے لگیں،13سالہ اریبہ کو 6 فائر لگے جن میں 6 گولیاں سینے میں اور 3 گولیاں پیٹ میں لگیں. کار چلانے والے ذیشان کو بھی 6گولیاں لگیں۔

تازہ ترین خبریں