نیلم ویلی ،کشمیر کی جنت کے رنگ

نیلم ویلی ،کشمیر کی جنت کے رنگ

مظفر آباد پہنچے تو شام ڈھل رہی تھی۔تقریبا آٹھ بجے رات نیلم ویلی کے ایک خوبصورت ،پرفضا مقام کیرن کی جانب روانہ ہوئے۔مظفر آباد سے کیرن تک عموما تین گھنٹے لگتے ہیں تاہم رات کے وقت ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے ہم ڈھائی گھنٹے میں کیرن پہنچ گئے۔دریائے نیلم/ کشن گنگا کے کنارے ریسٹ ہائوس کے سبزہ زار میںرات کے کھانے کا بندوبست تھا۔بہتے دریا کے پانی کی آواز پس منظر کی موسیقی کا کام کر رہی تھی۔ موسم میں پر لطف ہلکی خنکی تھی۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پہ لگی میزوں پہ لوگ کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔وہاں بار بی کیو تیار کرنے کا بھی انتظام تھا اور ایک فیملی خود اپنا کھانا تیار کر رہی تھی۔دریا کے پار ہندوستانی مقبوضہ کشمیر ہے۔ارد گرد کے گیسٹ ہائوسز کی رنگین لائٹیں ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھیں۔دریا کے پار مقبوضہ کشمیر میں چند ہی لائٹیں تھیں،زیادہ تر وہاں اندھیرے کا ہی راج تھا۔ آزاد کشمیر کا سب سے خوبصورت علاقہ ، معروف نیلم ویلی بنیادی طور پر تین وادیوںپر مشتمل ہے جن میں کیرن ویلی ، شاردہ ویلی اور گریس  

آزاد کشمیر کی سیر و سیاحت

آزاد کشمیر کی سیر و سیاحت

5ہزار سال قدیم یونیورسٹی شاردہ کے کھنڈرات، قلعے ، کورؤں اور پانڈؤں ، منگولوں اور مغلوں کی گزرگاہیں، دلفریب باغات ، جنگلات اور پگڈنڈیاں، آبشاریں، قلعے، آثار قدیمہ کا خزانہ۔ لاکھوں سیاح اندرون ملک سے کشمیر پہنچ رہے ہیں کورونا وائرس کی وجہ سے دیگر شعبہ جات کی طرح خطے کی سیاحت صنعت کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔ اب حکومت نے ملک کے دیگر سیاحتی مقامات کی طرح آزاد کشمیر کو بھی سیاحوں کے لئے کھول دیا ہے۔ اس اہم شعبہ کے ساتھ آزاد ریاست کے پانچ لاکھ سے زیادہ افراد کا روزگار وابستہ ہے۔جو پانچ ماہ سے بے روزگار تھے۔کشمیر بلا شبہ دنیا میں جنت بے نظیر ہے۔وادی نیلم، جہلم، لیپا، تولی پیر، گنگا چوٹی، بنجوسہ جیسے بالائی علاقوں میں جون میں بھی جنوری جیسی فضا اور موسم کا احساس ہوتا ہے۔کشمیر کا ایک خوبصورت ترین حصہ بھارت کے قبضے میں ہے۔دوسرا حصہ، آزاد کشمیر اور تیسرا ،گلگت بلتستان ہے۔ چوتھا، چین کے زیر کنٹرول ہے۔یہ سب خوبصورتی کے شاہکار ہیں۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور میں ریاست کو گلگت بلتستان سے قریب لانے کی طرف توجہ دی گئی۔ جس کا سب نے خیر مقدم کیا۔ گلگت بلتستان کے عوام سے دوستانہ تعلق قائم کرنے کی کوشش سب کی خواہش ہے۔آزاد کشمیر کے پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں میں ان کے لئے کوٹہ مختص کیا گیا۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے آزاد کشمیر کوبراستہ گلگت بلتستان چین سے جوڑنے کے لئے ایک اہم شاہراہ نیلم ایکسپریس وے اور شونٹھر ٹنل تعمیر کرنے کا اعلان کیا ۔پتہ نہیں ان منصوبوں کے کے ساتھ کیا واردات ہوئی۔ فوری کام شروع نہہوا ۔وادی لیپا ٹنل کی تعمیر بھی ضروری تھی۔مگر یہ بھی تعمیر نہ ہوئی۔ اگر عمران خان حکومت نے سی پیک میں آزاد کشمیر کو بھی شامل کرنے کی ضرورت کو مدنظر رکھا، اہم منصوبوں کی تکمیل میں دلچسپی لی اور ترقی کو سیاست سے الگ رکھا تو سی پیک سمیت شاہراہ وادی نیلم ، ترقی اور سیاحت کے فروغ ہی نہیں بلکہ اس خطے کی ترقی کا باعث بنے گی۔ ڈوگرہ مہاراجوں کے دور میں قدیم راستے کشمیر کو وسط ایشیاء ، ایران، چین سے ملاتے تھے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں اسلام آباد کے ساتھ مل کر خطے کی تعمیر وترقی پر خصوصی توجہ دیں تو یہاں کی تقدیر بدل جائے گی۔  

نوری آبشار

نوری آبشار

میرے گاؤں کا نام نلہ ہے یہ پیر سوہاوہ ٹاپ سے بجانب ہری پور کوئی پینتیس کلو میٹر دور ہے۔یہ پورا علاقہ سر سبز و شاداب ہے اسلام آباد کی مارگلہ ہلز کی چوٹی سے لے کر ندی ہرو پل تک سر سبز وادیوں پر مشتمل اس علاقے کی خوبصورتی کی مثال دیتے ہوئے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں علاقے کی خوبصورتی کو نئی سڑک نے چار چاند لگا دئے ہیں ،یہ سڑک ہمارا خواب تھی ہمارے بزرگوں کی کوششوں سے کچی نکلی اور اب اﷲ کا کرم ہے عمران خان کی حکومت آئی تو انقلاب آ گیا ۔ندی ہرو گلیات کی پہاڑیوں سے نکلتی شور شرابہ کرتی وادہ ء لورہ کے بغل سے ہوتی ہوئی اس پل کے نیچے سے گزرتی ہے جسے نلہ پل کہا جاتا ہے کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ جبری پل ہے حالنکہ جبری گاؤں اس پل سے چار کلو میٹر دور ہے۔ویسے بھی کچھ لوگوں کو عادت سی ہو گئی ہے نلہ پل اور نلہ جنگل بنگلہ کو جبری کے نام سے جوڑ رہے ہیں ان کی مرضی مگر جبری یہاں سے دور افتادہ گاؤں ہے ۔جس کی خوبصورتی چیڑھ کے درختوں سے عاری ہے۔اسی نلہ گاؤں سے ملحقہ گاؤں پینہ ہے جو ہلی کی ایک داخلی ہے جہاں جندر بھی ہیں اور یہ خوبصورت آبشار بھی ۔اگر آپ اس آبشار تک جانا چاہتے ہیں تو اس کے دو راستے ہیں ایک ٹیال سیداں سے ہو کر گزرتا ہے جو وی سی نلہ کا ایک گاؤں ہے دوسرا راستہ فارسٹ بنگلہ سے نلہ کی جانب جانے سے یہاں پہنچتا ہے۔نلہ روڈ پر آگے جائیں تو گاؤں کی مارکیٹ ہے جہاں چند دکانیں ہیں یہیں سے انتہائی دائیں جانب آپ پینہ کی طرف جاتے ہیں یہاں روڈ کی خستہ حالی زبان زد عام سے کسی سے شکوہ کرتی نطر آتی ہے ۔آپ موٹر بائیک پر اور جیپ سے جا سکتے ہیں کار پر سفر نہیں کیا جا سکتا۔  

ہے یہ کیسا سفر چلتے ہیں سب مگر

ہے یہ کیسا سفر چلتے ہیں سب مگر

صحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے میں ذاکر تنولی سے تو نہ مل سکا جس کا مجھے افسوس رہے گا لیکن وقاص سے ملاقات ہو گئی اس میں کمال یہ ہے کہ وہ وکیل بھی ہے اور صحافی بھی۔اس روز وہاں ثمینہ ریاض چودھری کی جانب سے کچھ معذور لوگوں کو ویل چیئرز دینے کا پروگرام تھا پاور نامی ایک تنظیم کا فنکشن تھا اس کی ضد تھی کہ میں مہمان خصوصی بنوں۔کچھ مصروفیات تھیں کچھ خود پیدا کر لیں ۔ادھر سے دل بہت اداس تھا آپ کو علم ہی ہے کچھ معزز ڈاکو فروری کی سترہ اور اٹھارہ تاریخ کو گھر پے آئے تھے سعودی پلٹ شکیل افتخار کا سر بھی پھاڑ گئے اور ہماری ساری جمع پونجی بھی لے اڑے اسی دن شکیل کی واپسی بھی تھی دل بھی بوجھل تھا کہ بیٹا ایک ہفتے کے لئے آیا مال مطاع بھی گنوا بیٹھا اور اوپر سے لٹ کے ساتھ کٹ بھی سمیٹی۔بیرون ملک مقیم پاکستانی معصوم لوگ ہوتے ہیں بڑے شوق سے پاکستان آتے ہیں ۔آنکھوں میں خواب لئے ماں باپ بھی ان کے منتظر ہوتے ہیں یہاں بہت سے دیئے ان لوگوں کی وجہ سے جلے ہوئے ہیں ۔میں بھی ایک مدت وہاں رہا ہوں مجھے بھی پاکستان آنے والے دن یاد ہیں کہ کس طرح انسان تاریخیں گنتا رہتا ہے کیلینڈروں کے اوپر لکیریں کھینچتا ہے ۔شکیل کے گھر خوشیوں کی آمد تھی کوئی بیس ہزار ریال نقد لایا جمعے والے دن پہنچا ڈاکو رات کو پہنچ گئے ۔ہمیں اپنے اپنے کمرے میں رسیوں سے باندھا اور دو گھنٹے گھر کی تلاشی لی دس لاکھ نقد اور کوئی بیس لاکھ کے زیورات لوٹ لئے۔یقین کیجئے اپنی آنکھوں کے سامنے چند غیر لوگوں کی اس غنڈہ گردی کو دیکھنا بہت تکلیف دہ مرحلہ تھا ۔خیر یہ قیامت گزری پارٹی کے دوستوں کو پتہ چلا تو میری مدد کو آئے میں بابر اعوان علی محمد خان شہر یار آفریدی غلام سرور خان شیخ راشد شفیق کا شکر گزار ہوں باقی دوستوں نے فون کئے کچھ کو توفیق نہیں ہوئی اﷲ انہیں خوش رکھے۔ اگلے روز شکیل کے گھر انابیہ آئیں اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ شکیل سلامت تھا ہم اس ننھی پری کو دیکھ کر دکھ بھول گئے شکیل کی فلائیٹ صبح نو بجے تھے پہلے بتایا گیا کہ دس بجے ہے خیر دڑک لگائی اسے ایئر پورٹ چھوڑا ساتھ میں پیارے بھانجے ماجد کو ساتھ لیا اور اگلا سفر ہری پور کا تھا خیر سے نیا ایئر پورٹ اب ہم سے بھی اتنا ہی دور ہے جتنا ہری پور سے ۔نو بجے ہم غلام فرید کے گھر پہنچے جو میری چچا زاد کا خاوند ہے سعودی عرب کے قوانین کی بھینٹ چڑھ کر کوئی سال بھر پہلے گھر آ گیا ہے ریاض میں دکان کرتا تھا اس کی دکان سے سے اشیاء پکڑی گئیں جو اسے بیچنے کی اجازت نہیں تھی یعنی بادام اخروٹ تو بیچ سکتا تھا پرفیوم نہیں بیچ سکتا تھا اسی جرم میں اسے جہاز پر چڑھا دیا اس کی زندگی کی کل پونجی اب اس کے ایک دوست کے رحم و کرم پر ہے جو اس دکان کو چلا رہا ہے ۔جب اسے دیکھتا ہوں اور یہاں کے دکانداروں کو پریشان ہو جاتا ہوں کہاں وہاں کا نظام اور کہاں یہاں کا ۔اب وہ مزید چار سال وہاں نہیں جا سکتا ۔ناشتہ اپنی چچا زاد کے گھر کیا میری بیٹیوں جیسی عم زاد میری بیگم کی چھوٹی بہن بھی ہے اسے میں نے ڈولی میں بٹھا کر موضع بوکن بھیجا تھا ۔اﷲ اسے تتی ہوا نہ لگائے مجھے عزیز از ربیعہ ہے۔بہترین دیسی کڑھی کا ناشتہ ہلکے کاغذی پراٹھے اور اوپر سے خالص دودھ کی چائے اور سب سے زیادہ حیران کن بات کہ ہم سوئی گیس کے چولہے کے سامنے بیٹھے تھے۔جو ایئر پورٹ سوسائٹی میں نا پید ہے پتہ نہیں ہم یہاں کیوں پڑے ہیں نہ گیس نہ پانی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی اوپر سے انتہائی نالائق انتظامیہ ۔ایک بد مزاج ریٹارڈ کرنل جسے نہ اپنی عزت کا خیال ہے اور نہ کسی اور کا بے رخے اس بد تمیز شخص کو اﷲ سنبھالے۔یہ الیکشن سے پہلے تقریروں میں کہا کرتا تھا کہ میں حضرت ابراہیم کی وہ چڑیا ہوں جو بساط بھر کوشش کروں گا مجھے علم تھا کہ یہ پسوڑی اس سوسائٹی کو تباہ کر دے گی اسی لئے اس کا نام کرنل بندش رکھا تھا ۔ یہ کہا کرتا تھا کرپشن کی آگ میں چونچ سے پانی بھر کے لاؤں اور اسے ختم کروں گا سوسائٹی کا کا حال اس کے بد ہئیت چہرے سے بھی برا ہے۔خیر چھوڑیں کس سیاہ رو کی بات چھڑ گئی ہے۔  

حج ڈائری: میری ذات سب مٹی

حج ڈائری: میری ذات سب مٹی

ٓآگہی (1) نہ جانے کتنی صدیوں سے عشاٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍقِ حقیقی کعبہ کے طواف میں مصروف ہیں۔ سوز ومستی کی وارفتگی دیکھنی ہو تو کعبے کا منظر دیکھو اور کہو اللہ اکبر۔پھر خود بھی اسی دیوانگی کا حصہ بن جاؤ۔لبیک اللهم لبیک۔ 2016 کا بابرکت سال تھا جب اپنے لخت جگر کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ تبھی سوچ لیا تھا کہ اپنے احساسات اور تاثرات کو قلم کا جامہ ضرور پہناؤں گی ۔یہ ایک کوشش ہے اپنی یادوں کو امر کرنے کی۔ اردو ادب میں کئی لا جواب مضامینِ حج اور سفر نامےلکھے جا چکے ہیں ۔ ان ادبی شاہکاروں کو پڑھ کر بے بہا روحانی اور علمی اکتساب حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میری یہ ادنٰی سی کاوش بس میرے دل کی صدا ہے اور کچھ نہیں۔ اسی لیے میری آپ سے درخواست ہے کہ یہ تحریر پڑھتے ہوئے کو ئی زیادہ توقعات مت لگایئے گا ۔ سفرکیوں کیا جاتاہے؟ میں اکژ اپنے آپ سے پوچھتی تھی۔آخر ہم اتنا جھنجھٹ کرتے ہی کیوں ہیں؟ ٹکٹ اور سفری سامان کا بندوبست کرنا اور اس کے علاوہ ہر قسم کی صعبو تیں برداشت کرنا ۔ پھر بھی ہم سفر کرتے ہیں ۔ ۔اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے ۔تلاشِ روزگار کے لیے ۔دنیا کھوجنے کے لیے ۔ غم بھلانے کے لیے  

پیرا گلائیڈنگ کا عالمی مقابلہ، آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ !

پیرا گلائیڈنگ کا عالمی مقابلہ، آزاد کشمیر میں سیاحت کا فروغ !

رواں سال کو اگر آزاد کشمیر میں ٹورازم کے فروغ کا سال کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔آزاد کشمیر حکومت نے اس سال سیاحت کے فروغ کے لئے چند خصوصی اقدامات کئے ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے آزاد کشمیر میں سیاحت کے فروغ کو خصوصی توجہ دیتے ہوئے سرکاری سطح پر 'ٹورازم پالیسی' کا اعلان کیا ہے۔ٹور ازم پالیسی کے تحت آزاد کشمیر کے سیاحتی دلچسپی کے مقامات کی نشاندہی،سیاحتی سہولیات کے لئے نجی شعبے کو ترغیبات کے علاوہ سیاحوں کی رہنمائی اور ان کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لئے ٹورازم فورس کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جنہیں خصوصی وردی اور ٹرانسپورٹ بھی مہیا کی گئی ہے۔اس حوالے سے اچھے معیار کی سڑکوں کی تعمیر پر وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر میں تاریخی عمارات وغیرہ کی نشاندہی اور انہیں محفوظ بنانے کے اقدامات بھی شروع کئے گئے ہیں اور غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کی بحالی کا کام بھی شروع کیا گیا ہے جس میں وادی نیلم کے مقام شاردہ میں قائم قدیم مندر کی بحالی کا کام بھی شامل ہے۔  

بلتستان کا وسیع علاقہ "دیوسائی" دنیا کی خوبصورت جگہوں میں سے ایک ھے

بلتستان کا وسیع علاقہ "دیوسائی" دنیا کی خوبصورت جگہوں میں سے ایک ھے

دنیا کی بلند ترین سطح مرتفع ۔۔۔ نایاب بھورے ریچھوں کا مسکن پاکستان کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ یہاں کے شمالی علاقہ جات اپنی خوبصور تی اور رعنائی میں لاثانی ہیں۔ یہاں دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور وسیع ترین گلیشئیر کے علاوہ دنیا کا بلند ترین اور وسیع ترین سطح مرتفع دیوسائی بھی موجود ہے۔ دیوسائی کی خاص بات یہاں پائے جانے والے نایاب بھورے ریچھ ہیں اس نوع کے ریچھ دنیا میں میں کہیں اور نہیں پائے جاتے۔ یہاں بھی یہ معدومیت کا شکار ہیں۔ دیوسائی سطح سمندر سے اوسطاً 13500َفٹ بلند ہے اس بلند ترین چوٹی شتونگ ہے جو 16000فٹ بلند ہے۔ دیوسائی کا کل رقبہ 3000 مربع کلو میٹر ہے۔ سال کے آٹھ تا نو مہینے دیوسائی مکمل طور پر برف میں ڈھکا رہتا ہے۔ یہاں تیس فٹ تک برف پڑتی ہے اس دوران پاک فوج کے ہیلی کاپٹر تک اس کے اوپر سے نہیں گذرتے۔یہی برف جب پگھلتی ہے توتو دریائے سندھ کے کل پانی کا 5فی صد حصہ ہوتی ہے۔ ان پانیوں کو محفوظ کرنے کے لئے صد پارہ جھیل پر ایک بند زیر تعمیر ہے۔  

تھائی لینڈ کے کرنسی اور لوگوں کی صفائی کی عادت

تھائی لینڈ کے کرنسی اور لوگوں کی صفائی کی عادت

تھائی لینڈ کے مقامی لوگ اپنے ملک کی تیار کردہ اشیاء ہی استعمال کرتے ہیں جس کا اندازہ یہاں پر آکر ہواچھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں اور چھوٹے بڑے جنرل سٹور پر دستیاب ہیں جسے عام لوگ خوشی خوشی لیتے ہیں. اب اس کے مقابلے میں اگر بہتر چیز بھی غیر ملکی کمپنی کا بنا ہوا ہو تو اسے مقامی لوگ نہیں خریدتے. تھائی لینڈ کے بازار میں پینے کے پانی کے تیار بوتلوں سے لیکر چپل اورخوراک کی مختلف اشیاء لوگ زیادہ خریدتے ہیں. مقامی لوگوں سے جب میں نے سوال کیا کہ غیر ملکی چیز تو اس سے بہتر ہوتی ہیں تو ہنس کر اپنی ملک کی تیار کردہ چیزوں کو لیکر کہتے ہیں its good. الیکٹرانکس کی اشیاء دیکھ لیں. تھائی لینڈ کی لوگوں کی اچھی باتیں یہی ہیں اپنے ملک کی اشیاء کو خریدتے ہیں جس سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملتا ہے.تھائی لینڈ کے مقامی لوگ اپنے ملک کی تیار کردہ اشیاء ہی استعمال کرتے ہیں جس کا اندازہ یہاں پر آکر ہواچھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مقامی طور پر تیار ہوتی ہیں اور چھوٹے بڑے جنرل سٹور پر دستیاب ہیں جسے عام لوگ خوشی خوشی لیتے ہیں. اب اس کے مقابلے میں اگر بہتر چیز بھی غیر ملکی کمپنی کا بنا ہوا ہو تو اسے مقامی لوگ نہیں خریدتے. تھائی لینڈ کے بازار میں پینے کے پانی کے تیار بوتلوں سے لیکر چپل اورخوراک کی مختلف اشیاء لوگ زیادہ خریدتے ہیں. مقامی لوگوں سے جب میں نے سوال کیا کہ غیر ملکی چیز تو اس سے بہتر ہوتی ہیں تو ہنس کر اپنی ملک کی تیار کردہ چیزوں کو لیکر کہتے ہیں its good. الیکٹرانکس کی اشیاء دیکھ لیں. تھائی لینڈ کی لوگوں کی اچھی باتیں یہی ہیں اپنے ملک کی اشیاء کو خریدتے ہیں جس سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملتا ہے.  

تھائی لینڈ کے لوگوں کی عجیب عادات اور بجلی کی لوڈشیڈنگ

تھائی لینڈ کے لوگوں کی عجیب عادات اور بجلی کی لوڈشیڈنگ

فرانسیسی خاتون سیاح جومیرے ساتھ رہی تھی اس سے میں نے پوچھا کہ تم کب سے آرہی ہو کبھی ایسا ہوا ہے کہ یہاں بجلی گئی ہو تو اس نے بتایا کہ دو سال سے زائد کا عرصہ ہوا ہے میں مسلسل آتی رہی ہو‘ مختلف اوقات میں لیکن بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سوچنا بھی نہیں‘چنگ مائی جاتے ہوئے بجلی کا فیڈر دیکھا لیکن چوکیدار کھڑا نہیں دیکھا ایسا لگتا تھا کہ ویرانی ہوئی ہمارے ہاں تو ماشاء اللہ‘ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے لوگ نکلتے ہیں اور اپنے ہی پیسوں کے بنے ہوئے بجلی کے فیڈر کو آگ لگاتے ہیں.بنکاک سے چنگ مائی تک کے سفر میں میں نے دو ہفتے گزار دئیے مختلف جگہوں پر سیر بھی کی تربیتی سیشن میں بھی حصہ لیا دو باتیں جو کم از کم میرے لئے حیران کن اور عجیب تھی ان میں ایک عادت یہی تھی کہ میں نے کسی گھر کا دروازہ بند نہیں دیکھا دروازے کھلے ہوتے تھے کچھ عجیب سی صورتحال تھی جس جگہ پر ہماری رہائش تھی وہاں پر اسی ادارے کے لوگوں کی بڑی تعداد تھی ہر ایک شخص کو کمرہ دیا گیا تھا لیکن کوئی کسی کے کمرے میں نہیں جاتا تھا واش رومز کمروں سے باہر تھے جہاں پر ہر کوئی اپنا سامان رکھتا تھاجس میں شیونگ کے سامان سے لیکر ٹوتھ پیسٹ‘ شیمپو اور دیگر سامان پڑا ہوتا تھا لیکن مجال ہے کہ کوئی دوسرے شخص کے سامان کو ہاتھ لگاتا یا استعمال کرتا.  

ایبٹ آباد کی تاریخی پیلس ہوٹل .. زبون حالی کا شکار..

ایبٹ آباد کی تاریخی پیلس ہوٹل .. زبون حالی کا شکار..

پیلس ہوٹل ایبٹ آباد کے کینٹ کے علاقے میں واقع پیلس ہوٹل جس کا مالک بابو ایشر داس تھا اور قیام پاکستان سے قبل یہاں پر ایک بار ہوا کرتا تھا جہاں پر الکوحل سے لیکر چائے تک ملتی تھی طبقہ اشرافیہ یہاں پر آکروقت گزارتے تھے اسی بابو ایشر داس کا مردان کا شوگر ملز بھی تھا اور قیام پاکستان کے بعد یہ پیلس ہوٹل جولگ بھگ 80 سال سے زائد کا ہو چکا ہے کو حکومتی سرپرستی حاصل رہی اسی ہوٹل میں چین کے چو این لائن ، برطانیہ کی ملکہ الزبتھ ، ایران کی فرح دیبا سمیت اعلی ریاستی حکام آتے رہے اور سٹیٹ گیسٹ کے طورپر وقت گزارتے رہے ہیں-پیلس ہوٹل چونکہ ایبٹ آباد کے ٹھنڈے موسم میں بنایا گیا تھا اس لئے اس وقت برطانیہ کی مشہور کمپنی shink کے تیار کردہ سامان کو امپورٹ کرکے یہاں پر لگایاگیا تھا ، جو اب بھی یہاں کے باتھ رومز میں کہیں کہیں پر نظر آتا ہے ، اکیس سے زائد ٹب یہاں پر لگائے گئے تھے جبکہ لگ بھگ تیس ایکڑ پر بنے اس بلڈنگ کو گرم کرنے کیلئے چاروں اطراف میں پانی کو گرم کرنے کیلئے ایک مخصوص سسٹم لگایا گیاجس سے نہ صرف گرم پانی پورے بلڈنگ میں مہیا ہوتا تھا بلکہ اس کے ذریعے یہ بلڈنگ کو گرم بھی رکھا جاتا تھا جبکہ اس پیلس ہوٹل کی چھتیں اتنی اوپر رکھی گئی تھی کہ ہوا کو اندر لانے کیلئے روشن دان تک بنائے گئے جو مختلف سمتوں سے آنیوالے ہوا سے کمروں کو بھی تازہ رکھتے اور گرمی میں کمرے بھی ٹھنڈے رہتے ، اسی طرح نکاسی اب کیلئے الگ ہی سسٹم رکھا گیا تھا ایسے مین ہول بنائے گئے تھے جس میں ایک شخص نیچے اتر کر پوری بلڈنگ کی نکاسی کے نظام کو چیک کرسکتا تھا . پیلس ہوٹل کے چاروں اطراف میں چنار ، دیار کے خوبصورت درخت اور خوبصورت چمن یہاں پر آنیوالے افراد کو بڑے دلفریب لگتے ہیں.برما سے امپورٹ کی گئی ساگوان کے مخصوص دروازے ، کرسیوں پر بیٹھ کر لوگ موسم کو بھی انجوائے کرتے تھے قیام پاکستان سے قبل کی اس عمارت کو 2005 میں آنیوالے تباہ کن زبزلے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا- کیونکہ اس کی بلڈنگ کو بارہ سے چودہ فٹ نیچے سے شروع کیا گیا . مخصوص ڈیزائن کے پلرز پر بنے والے اس بلڈنگ میں جہاں اندرونی طور پر گول سیڑھیاں موجود ہیں وہاں پر باہر سے جانے کیلئے گول چکر والی زینے بنائے گئے ہیں جس پر چل کر نہ تو تھکن کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی پتہ چلتا ہے کہ زینے پر کوئی چل رہا ہے.