11:03 am
جنرل اسمبلی  اور کشمیر

جنرل اسمبلی  اور کشمیر

11:03 am

٭میرپورآزادکشمیر میں ایک اور زلزلہ، 80زخمی… پنجاب، عالمی ادارہ صحت کی امداد، جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریرO کشمیر ہماری روح کا حصہ ہے، جنرل باجوہO بھارت مقبوضہ کشمیر میں 50 ہزار نوکریوں، وظیفوں، کالجوں کا اعلانO افغانستان میں صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں O کامونکے (پنجاب) کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے پر بچہ جاں بحقO مقبوضہ کشمیرکرفیو 55 دن۔
 
٭وزیراعظم عمران خان اور نریندر مودی کی تقریروں پر آج بات ہو گی۔
٭آزاد کشمیر کے شہر میرپور کے نواح میں 24 گھنٹے بعد بھی زلزلہ کے جھٹکے (آفٹر شاکس) محسوس کئے گئے۔ مزید 80 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کی تعداد 600 سے بڑھ گئی۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے زلزلہ زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد 1000 خیمے، خوراک، کمبلوں اور دوائوں کے بارہ ٹرک بھیج دیئے، جو اس وقت تک تقسیم بھی ہو چکے ہوں گے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی 30 لاکھ روپے کی دوائیںبھیج دی ہیں۔ ممکن ہے سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی طرف سے امداد آ رہی ہو، آنی بھی چاہئے مگر تادم تحریر ان لوگوں کی طرف سے کوئی ایسی اطلاع نہیں آئی تھی۔ یہ موقع آپس کے دکھ درد مل کر بانٹنے کا ہے۔ اس میں کوئی سیاست شامل نہیں ہوتی۔ افسوس کہ اپوزیشن والوں نے زلزلہ کو بھی حکومتی سیاست کا حصہ قرار دے دیا۔ قمرزمان کائرہ، راجہ اشرف پرویز اور بہت سے دوسرے تو میرپور کے ساتھ ملحق علاقوں میںرہتے ہیں۔ میرپور جانے میں صرف 40,30 منٹ لگتے ہیں۔ شیخ رشید چہرہ نمائی کے لئے فوٹو سیشن کرانے بھمبر چلے گئے۔ زلزلہ زدہ نزدیکی علاقے میں جانے کا خیال نہ آیا! اور جہلم کی ہی پیدائش، فواد چودھری کے پاس تو وزارتی گاڑی بھی تھی! پھر؟ میں آزاد کشمیر کے زلزلہ زدگان کے لئے دوائیں بھیجنے پر پوری قوم کی طرف سے عالمی ادارہ صحت کا شکر گزار ہوں۔ پاک فوج اور پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی بروقت امداد کی فراہمی کا بھی بہت بہت شکریہ! مگر یہ تو گھر کے لوگ ہیں۔ ایک دوسرے کے غم گسار ہیں۔ اس موقع پر ایک تصحیح! میرپور میں سائنس گرلز کالج کی پرنسپل محترمہ جویریہ یاسمین نے ایک چھوٹی سے تصحیح کی ہے کہ زلزلہ میں کالج کی عمارت بالکل صحیح سلامت رہی ہے۔ البتہ ان کے گھر کی دیواروں پر کچھ خراشیں سی آئی ہیں۔ خدا تعالیٰ ہر ایک کو سلامت رکھے!
٭پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی غلط فہمی میں نہ رہے، کچھ کرنا چاہتا ہے تو کر کے دیکھ ہی لے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لے کہ کشمیر محض جغرافیہ نہیں، ہماری روح کا حصہ ہے! یہی بات گزشتہ روز آئی ایس آئی نےبھارتی فوج کو کہی کہ آنا ہے تو آ جائو مگر پھر واپس نہیں جا سکو گے! اب کچھ دوسری باتیں۔
٭لاڑکانہ میں کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ملنے پر ایک بچہ جاں بحق ہو گیا، بہت شور مچا۔پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے ایک گائوں کڑی کوٹ، واہنڈو میں ایک بچے ’’ساحل‘‘ کو کتے نے کاٹا۔ بچہ 22 دن تڑپتا رہا، ماں باپ جگہ جگہ ہسپتالوں میں پھرتے رہے،کہیں ویکسین نہ ملی اوریہ بچہ بھی چل بسا! سندھ اور پنجاب کے یہ بچے کس کے ہاتھوں پر اپنا لہو تلاش کریں؟
٭افغانستان میں آج صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ 18 امیدوار ہیں۔ ان میں موجودہ صدر اشرف غنی اور نائب صدر عبداللہ عبداللہ بھی شامل ہیں۔ دونوں ہی پاکستان کے کٹڑ دشمن ہیں۔ عبداللہ عبداللہ کا تعلق شمالی افغانستان کے کمیونسٹ بلاک سے ہے اسے شمالی اتحاد بھی کہا جاتا ہے! طالبان ان انتخابات کو قبول نہیں کر رہے۔ وہ اشرف غنی یا حامد کرزئی وغیرہ کی حکومتوں کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ سابق صدر حامد کرزئی بھی موجودہ انتخابات کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس کا موقف یہ ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات چل رہے ہیں (ابھی رکے ہوئے ہیں) ان مذاکرات کے نتیجے میں افغانستان کی مستقبل میں کوئی واضح شکل سامنے آ سکے گی، مزید یہ کہ موجودہ انتخابات سے پہلے بھی دھماکے ہو چکے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران اور بعد میں بھی صورتحال پرامن نہیں رہ سکے گی۔ دریں اثنا انتخابات کے دنوں میں پاکستان اور افغانستان  کے درمیان سرحدیں مکمل طور پر بند رہیں گی۔
٭مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو 55 دن ہو گئے۔ دنیا بھر میں بھارت کی اس جابرانہ کارروائی کے خلاف شور مچ رہا ہے۔ بھارت کے لئے کرفیو ختم کرنا بھی ڈرائونا خواب بن گیا ہے۔ 80 لاکھ سے زیادہ باشندے قید میں بند ہیں، ساری مارکیٹیں، ہر قسم کا کاروبار بند ہو چکا ہے، لاکھوں کروڑوںکے پھل اور فصلیں تباہ ہو گئیں، مزید اگائی ہی نہیں گئیں۔ ہسپتال بند ہیں، سڑکوں پر آمدورفت نہیں ہو سکتی۔ ہر قسم کے مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔ اس ظلم و ستم کا مقدمہ صرف پاکستان لڑ رہا ہے، صرف ترکی اور چین کی حمائت حاصل ہے۔ بھارت بری طرح پھنس گیا ہے۔ کرفیو بالآخر اٹھانا پڑے گا۔ پھر کیا ہو گا؟ 80 لاکھ قیدی باہر نکل کر کیا مودی اور اس کے چیلوں چانٹوں کو ہار پہنائیں گے۔ یہ غضب ناک لوگ30 برسوں میں ہر قسم کے ظلم و ستم کے باوجود بھارت کی غلامی قبول نہیں کر سکے۔ یہ تو بھوکے شیروں کی طرح دشمنوں پر جھپٹیں گے۔ گزشتہ روز بھارتی میڈیا نے خبر دی کہ مقبوضہ کشمیر کے بے روزگار نوجوانوں کے لئے 50 ہزار نوکریوں اور بہت سے تعلیمی وظائف کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسی نوکریاں اور وظیفے تو 30 برسوں سے پیش کئے جا رہے ہیں پھر کرفیو کیوں لگایا؟ ایک لاکھ سے زیادہ شہادتوں کے بعد یہ جانباز حریت پسند محض چند نوکریوں کے لئے بھارت کا تسلط قبول کر لیں گے! عمران خان نے ٹھیک کہا ہے کہ ذرا کرفیو اٹھائو پھر تماشا دیکھو!
٭امریکہ کا صدر ٹرمپ دوسروں کا محاسبہ کرتے کرتے خود پھنس گیا۔ امریکی ایوان نمائندگان (قومی اسمبلی) کی سپیکر نینسی نے اس کے خلاف فرد جرم تیار کی ہے کہ اس نے اپنے انتخابات کے دوران یو کرائن کے صدر سے امداد طلب کی حاصل کی تھی۔ اس کے عوض یو کرائنی صدرکے بیٹے کو ایک امریکی فرم میں اعلیٰ تنخواہ پر ملازمت مل گئی تھی۔ ٹرمپ نے ان الزامات کو بے بنیاد اور احمقانہ قرار دیا ہے مگر معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے قبل ایسے ہی ایک کیس میں صدر نکسن کا محاسبہ شروع ہوا مگر اس نے کیس شروع ہونے سے پہلے ہی استعفا دے دیا تھا۔
٭خیبر پختونخوا بنک کے منیجنگ ڈائریکٹر سیف الاسلام کو اس ’جرم‘ میں برطرف کر دیا گیا کہ اس نے نیب کو بنک کے اندر ہونے والی دھاندلیاں کیوں بتائیں!!
٭محترم قارئین: ایک رہنمائی فرمائیں کہ یہ خوبصورت شعر کس کا ہے؟ پوری غزل کیا ہے؟’’جانے وہ کون تھا جو نگاہوں کی اوٹ سے…لکھتا تھا حاشیے میرے دل کی کتاب پر!‘‘
٭ایس ایم ایس: اخبار کے ایک بزرگ ساتھی کی قریبی غریب عزیزہ کی اپیل: میں غریب عورت ہوں شاہدرہ میں رہتی ہوں خاوند کئی سال سے فالج سے معذور ہے۔ میں ایک سکول میں آیا ہوں۔ تھوڑی سی تنخواہ ملتی ہے۔ بڑی بیٹی کی عمر 35 سال ہے۔ بڑی مشکل سے رشتہ ملا ہے۔ وہ  لوگ کہتے ہیں کھانا اچھا چاہئے۔ میں نے کچھ برتنوں اور کپڑوں کا انتظام کیا ہے۔ فرنیچر بھی نہیں ہے۔ بیٹی کی اگلے ماہ رخصتی ہے۔ مختلف جگہ رابطہ کیا ہے۔ کوئی مدد نہیں ملی۔آپ سے درخواست ہے۔ میری مدد کی اپیل چھاپ دیں۔ (اس خاتون کی معلومات تصدیق شدہ ہیں۔ میرے فون نمبر 03334148962 کے ذریعے اس خاتون کا پتہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔)
٭ایم اسلم خان جی پی ایس، چٹھہ تحصیل اوگی، ضلع مانسہرہ میں پرائمری ٹیچر ہوں۔ 9 ماہ سے تنخواہ نہیں مل رہی۔
٭جتوئی تا جھگی والا سڑک 15 سال بعد مرمت ہونے لگی ہے۔ ٹھیکیدار پرانے ناقص پتھر ڈال رہا ہے۔ یہ پھر فوراً اکھڑ جائے گی۔ محمد پرویز حسین جتوئی۔

تازہ ترین خبریں