10:07 am
بھارت کی سا  لمیت کو درپیش بحران

بھارت کی سا لمیت کو درپیش بحران

10:07 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 نکسلیوں کے زیر انتظام علاقہ اگرچہ تیزی سے کم ہوا تاہم اب بھی دندیوادا، بستار،گدچیرولی، بیجاپور، ملکنگری کے کچھ حصوں میں وہ قدم جمائے ہوئے ہیں۔ان کے پاس 6000کے قریب افرادی قوت ہے اور نئی قیادت عسکری حکمت عملی کا فہم اور روابط رکھتی ہے۔ حال ہی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی اور ان کے محافظوں کے قتل سے ان کی استعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ 
2000ء میں بہار سے الگ ہونے والا جھاڑ کنڈ،چھتیس گڑھ کے بعد سب سے زیادہ نکسل وادی تحریک سے متاثر ہوا۔معدنیات سے مالامال اس علاقے میں آدی واسیوں کی خاصی آبادی ہے اور متوازی حکومت کے قیام کے لیے یہ آج بھی ماؤسٹوں کی تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ 2010ء میں یہاں باغیوں کی کارروائیاں عروج پر پہنچ گئیں اور 20اضلاع میں معاشی انفرااسٹرکچر،پولیس اور جیل کی عمارتوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔دسمبر 2014ء میں بی جے پی نے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور نئے وزیر اعلیٰ رگھوبر داس نے شورش کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ 2017ء میں ماؤسٹوں کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف مقابلوں میں ان کے 25افراد ہلاک ہوئے۔ 2018ء میں 108باغیوں نے ہتھیار ڈالے لیکن بائیں بازو کی شدت پسندی کا جھاڑ کنڈ سے مکمل خاتمہ نہیں ہوا، اس وسیع و عریض ریاست میں آج بھی کئی مقامات پر مزاحمت برقرار ہے۔ 
مودی سرکار نے کئی اور اقدامات بھی کیے اس کے علاوہ 2017ء میں وزیر داخلہ نے ’’SAMADHAN‘‘ (آخری حل) کا اعلان کیا۔ اس میں ایس سے سمارٹ لیڈر شپ،اے۔اگریسیو اسٹریٹجی(جارحانہ پالیسی)، ایم۔ موٹیویشن اینڈ ٹریننگ(حوصلہ افزائی اور تربیت)، اے۔ ایکشن ایبل انٹیلی جنس،ڈی۔ڈیش بورڈ بیسڈ کے پی آئی(کی پرفارمنس انڈیکٹر) مراد ہے۔اس کے لیے جن کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ان میں ٹیکنالوجی کا استعمال،ہر خطرے کے لیے الگ ایکشن پلان اور مزاحمت کاروں کے معاشی روابط منقطع کرنے کے اقدامات شامل کیے گئے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ماؤسٹ تحریک کو قابو کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کو نئی قوت کے ساتھ آگے بڑھانا تھا۔ 
1980ء کے دور کی مثالیت پسندی کے خاتمے کے بعد نکسلائٹ تحریک کی عوامی حمایت میں کمی آرہی ہے۔ مغربی بنگال اور جھاڑکھنڈ کو اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے کہ تحریکوں کو بزور کچلنے کے بجائے ان سے گڈ گورننس کے ذریعے نمٹا جاسکتا ہے۔ نکسلیوں کی بے چینی کی بنیاد مذہبی یا قوم پرستانہ نہیں، اس کے اسباب سماجی اور ثقافتی ہیں۔گڈ گورننس اہم ہے لیکن مقامی ترقی میں امتیازی برتاؤ سے مسائل پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بھارت جس طرح ہر قسم کی دہشت گردی کا الزام مسلمانوں پر دھر دیتا ہے، شمال مشرق اور مقبوضہ کشمیر کے برخلاف، نکسلی تحریک کی کوئی جہت مسلمانوں سے متعلق نہیں۔ تینوں اقسام کی ان بڑی علیحدگی پسند تحریکوں میں کوئی مماثلت نہیں۔ نکسل وادیوں کے خلاف کیے جانے والے اقدامات سے اب یہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے قابل تو نہیں رہے لیکن اسے نقصان پہنچانے کی ان کی صلاحیت ختم نہیں ہوئی۔ مختلف ادوار حکومت میں ان بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی کوششیں جاری رہیں، ان میں لسانی سوال اور خود مختاری جیسے تنازعات کو ختم کرنے کے لیے بھارت میں کئی نئی ریاستیں بنائی گئیں اور کئی علاقوں کو وفاق کے زیر انتظام لایا گیا لیکن جس طرح 18لاکھ لوگوں(جن میں مسلمانوں کی اکثریت ہے)کو بے وطن کردیا گیا ہے، اس سے پیدا ہونے والی بے چینی تشدد اور مزاحمت کے لیے ماحول ہموار کرسکتی ہے۔ 
آپریشن ’’بلیو اسٹار‘‘ کے بعد بھارتی فوج کی ریڑھ تصور ہونے والے سکھوں کو کبھی مکمل طور پر قابل اعتبار نہیں سمجھا گیا۔ 1984ء میں کئی سکھ یونٹوں میں بغاوت پھوٹ پڑی اور کئی سکھ اہلکار فوج چھوڑ گئے۔ دفاعی اداروں کی سکھوں اور سکھ کمیونٹی کے فوج سے متعلق رویے میں تبدیلی سے بھارت کو اس صورت حال کا سب سے بڑا دھچکا لگا۔خالصتان کے لیے سکھوں کی تحریک کو تو دبا دیا گیا لیکن سکھوں میں پایا جانے والا غم و غصہ ختم نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سرحد پر تعینات کئی سکھ یونٹوں کو دوسرے مقامات پر منتقل کردیا گیا۔اگر خالصتان تحریک نے ایک بار پھر سر اٹھایا تو شمال مشرقی بھارت میں صورت حال سنگین ہوجائے گی۔بی جے پی کے حکمران اپنی خفیہ مسلح کارروائیوں کے لیے اگر بلوچستان کی سرزمین کا استعمال کررہے ہیں تو جواباً ہمیں سکھوں کی تحریک آزادی کی معاونت کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ 
مودی کی فسطائی فکر اور ہندو قوم پرستی کے غلبے کی کوششوں نے پُرامن طریقے سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے اکثر مثبت اقدامات کو اکارت کردیا ہے۔ آرٹیکل 370کے خاتمے سے ایک جانب مقبوضہ کشمیر بھڑک اٹھا ہے تو دوسری جانب معاشی بدحالی کے باعث بھارت کے قلب میں کسانوں کی اکثریت کے سینوں میں لاوا پک رہا ہے۔کشمیر چپ چاپ اس جبر کو برداشت نہیں کرے گا، ابھی تک تو احتجاج گلیوں اور سڑکوں تک محدود ہے لیکن کشمیر کے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھا کر بھارتی جبر کے خلاف برسرپیکار تحریک کی صف میں شامل ہوتے کتنی دیر لگے گی؟ کیا پاکستانی بھی کشمیریوں سے ہمدردی اپنے ملک کے اندر محدود رکھ پائیں گے اور کشمیر کی مسلح جدوجہد کی حمایت سے گریز کرسکیں گے؟ آسام میں بنگالیوں کو مورد الزام ٹھہرا کر جو اقدامات بھارت نے کیے ہیں، اس کے خلاف پیدا ہونے والے ردّعمل کو قابو کرنا بنگلادیش کے بس میں نہیں ہوگا۔ حسینہ واجد کے ہوتے ہوئے، کیا وہ شمال مشرقی بھارت کی شورش کی معاونت شروع نہیں کرچکے؟ ہمیں آج سکھوں کی بالکل اسی طرح مدد کرنی چاہیے جس طرح ’’را‘‘ نے پاکستان میں بالخصوص بلوچستان کے علیحدگی پسند مسلح گروہوں کی معاونت جاری رکھی ہوئی ہے۔(یہ کالم سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار اکرام سہگل اور ہمبلوٹ یونیورسٹی برلن کے شعبہ برائے جنوبی ایشیاء کی سابق سربراہ ڈاکٹر بیٹینا روبوٹکا کی مشترکہ کاوش ہے) 

تازہ ترین خبریں