10:08 am
اقوام متحدہ میں  27 ستمبر کا فاتح۔ ہیرو عمران خان

اقوام متحدہ میں  27 ستمبر کا فاتح۔ ہیرو عمران خان

10:08 am

27 ستمبر اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر وہ نادر کردار تخلیق اور طلوع کرتی زمین حقیقت ہے جو بلاول بھٹو اور شیری رحمان جیسے بونوں کے نزدیک مقدمہ کشمیر کو پیش کرنے میں ثبوت نااہلی ہے ۔ عمران خان جس کے لئے وزیراعظم کا لفظ اور منصب بہت ہی چھوٹا اور معمولی ہے یہی عمران خان27ستمبر کو اقوام متحدہ میں صرف پاکستان کا ترجمان نہ تھا،صرف کشمیری مسلمانوں کا ہی سفیر اعظم نہ تھا۔ صرف برصغیر کے مسلمانوں کا ساتھی نہ تھا بلکہ عمران خان توہین رسالت اور ناموس رسالت کا بھی محافظ اعظم اور ترجمان اعظم اور خادم اعظم بھی تو تھا۔ خدا کی قسم اس مجاہد اعظم کی اس شان جہاد پر ناموس رسالت کے نام پر منفی  سیاست کرنے والے سادہ لوحوں سے ، چندے لینے والے، سماجی و سیاسی استحصال کرنے والے لاکھوں مولوی قربان۔ مجھے محمد علی جناح  یاد آرہے ہیں۔ ایک عام سا مسلمان۔ جس نے برطانیہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور رب کریم نے اسے نئے مسلمان ملک کی تخلیق کے ناممکن کام کو ممکن بنا دینے کے عمل و سعی کے لئے وقف کر دیا۔ برصغیر کے نام نہاد کچھ مولوی اور نابغہ جو اسے سیاسی  مفادات کے سبب شدید ناپسند کرتے تھے مگر ان میں کچھ اللہ والے حقیقی مولوی اور عالم دین بھی تھے۔ مثلا ً مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا شبیر احمد عثمانی جو دیوبندی سیاست، حسین احمد مدنی کی سیاست کو دفناتے ہوئے مسٹر محمد علی جناح کے سیاسی دست و بازو بن گئے تھے۔ مثلاً پیر طریقت مولانا اشرف علی تھانوی جنہوں نے طریقت کی آنکھ سے قائداعظم کی ذات میں سمو دیئے گئے خدمت اسلام اور خدمت مسلمانان برصغیر کی عظمت اور حقیقت کو دیکھ لیا تھا۔ سلام ہو اور عقیدت نچھاور ہو ان عظیم علماء پر ان عظیم صوفیاء پر۔  اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو منور کرے۔ آمین۔ ان تمام شیعہ و سنی، اہل حدیث، بریلوی، حنفی دیوبندی علماء پربھی جو مخلص تھے، مدبر تھے ، حقیقت شناس تھے۔ اتحاد امت مسلمہ کا نام، کردار ، علامت تھے۔
 
مولانا ظفر احمد عثمانی نے اپنے بھائی مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی محمد شفیع کے ساتھ مل کر جمعیت العلمائے ہند کے مقابل پاکستان میں نئی جماعت بنائی تھی۔ افسوس خانوادہ عثمانی اور خانوادہ تھانوی کے منظر سے ہٹ جانے سے یہ پاکستانی ریاست کی موید جماعت ان کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے جو دین و شریعت ناموس رسالت کو سامان سیاست بناکر ذاتی سیاسی و مالی مفادات  کا کام لیتے ہیں۔
عمران خان  جو18 ستمبر کو طویل سفر پر روانہ ہوئے۔ سعودیہ گئے ، شاہ سلمان اور محمد بن سلمان سے ملے۔ آرامکو تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔ محمد بن سلمان اور عمران خان۔ عمروں کے تفاوت کے باوجود قوت ارادی، قوت عمل، سعی پیہم کے حوالے اشتراک مزاج رکھتے ہیں۔ سعودیہ میں عمران خان کا جانا ایران مخالف نہ  تھا بلکہ خطے کے امن ، مسلمانوں کی خدمت کے مقصد جلیلہ کا  راستہ تھا۔ وہ دو دن سعودیہ میں تھے، کعبہ میں حاضری دی۔ رب کعبہ کے سامنے دست دعا پھیلایا، مدد خدا کی استدعا کی۔ روضہ رسولؐ پر حاضری دی اور پھر امریکہ روانہ۔ امریکہ میں کتنے ہی  مشکل ترین مراحل اس نے قوت ارادی جو اصلاً قوت ایمانی کی مظہر ہے، کے ذریعے طے کیے۔ فارن ریلیشن کونسل میں سنجیدہ  مجلس آرائی، نیو یارک ٹائمز کے ادارتی بورڈ کے سامنے موقف کا پیش کرنا۔ تھنک ٹینکس اور میڈیا کے سامنے جلوہ گر ہونا۔ یہ گوشت پوست کا عمران خان نہ تھا۔ یہ روحانی جلوہ گر ،محبتوں کا شاہکار عمران خان، یہ اسلامی عقیدے اور ایمان کا مظہر عمران خان تھا۔ صدر ٹرمپ سےملاقاتیں۔صدرطیب اردوان سے ملاقاتیں۔ صدر حسن روحانی سے ملاقاتیں۔ وزیراعظم مہاتیر محمد سے ملاقاتیں۔ پھر اقوام متحدہ میں 50  منٹ تک، بغیر کسی پرچی، بغیر کسی کاغذ کے ، فی البدیہہ تقریر اور وہ بھی طویل مگر سنجیدہ نکات پر مبنی، عمران تاریخ میں رقم ہو رہا تھا اور تاریخ عمران میں مجسم ہو رہی تھی۔ میں خراج تحسین پیش کرتا  ہوں۔اس عمران خان کو جو19 ستمبر سے 27 ستمبر تک سچا مسلمان، اسلام کا ترجمان، امن، سلامتی، انسانیت کا محافظ۔ خدمت اسلام کا کردار۔ توہین رسالت کے سامنے سد سکندری ۔ ناموس رسالت میں خدمت و استقلال بنا عمران۔ نسل پرست ہندتوا کو بے نقاب کرتا عمران خان۔
مگر افسوس یہ  فاتح امریکہ و مغرب، یہ فاتح اقوام متحدہ۔ یہ سفیر اسلام و مسلمانان عالم۔ یہ سفیر مظلومان کشمیر۔ جب وطن میں ہوگا تو اس کی کتنی بری حالت ہوگی؟ کس قدر وہ پریشان ہوگا؟ کس قدر وہ کبیدہ خاطر ہوگا۔ اس کے اقتدار کو نیست و نابو د کر دینے  کا وہ کون سا پراسرار عمل ہوگا جو ظہور میں نہ آئے گا؟  لوگو جان لو۔ عمران خان مادی مفادات رکھتا سیاست دان نہیں۔ وہ عالم دین نہیں وہ اسکالر اور دانشور نہیں۔ وہ بہت غلطیاں کرتا ہے۔ الفاظ کا چنائو اکثر غلط کر جاتا ہے۔ مردم شناس اور مصاحبین کے انتخاب میں بہت ناتمام اور نامکمل ہے۔ مگر یہی عمران تو عظمت انسانیت، عظمت امن، عظمت نبوت و اسلام  کا چراغ ہے۔ کیا ہم ایسے دلیر، قوی، فقیر، قلندر عمران کے مددگار نہ بنیں گے؟ خدا اس کی زندگی کی حفاظت کرے۔19 سے27 ستمبر تک جو کچھ عمران نے کہہ دیا اور جو کچھ کر دیا ہے اب پوری دنیا اس کی دشمن ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کی حفاظت کرے۔ اہل کشمیر کی مدد کرے۔ برصغیر اور دنیابھر  کے مسلمانوں کے عذاب ختم کرے۔ عمران خان کی اس تقریر کے بعد میں سچ مچ پاک و ہند میں بہت بڑی نظریاتی   طویل ترین جنگ کو وقوع پذیر ہوتا ممکن دیکھ رہا ہوں۔ مسلمانوں کی کمزوریاں بھی سامنے ہیں ور ہندوستان کے مادی  وسائل بھی۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا فتح بدر کے بعد احد و حنین کی وقتی شکست بھی آجایا کرتی ہے،لہٰذا حوصلہ نہیںہارنا، ہمت نہیں ہارنی بلکہ طویل ترین استقامت، صبرواستقلال پر مبنی مستقبل کیلئے کمر ہمت باندھ لیں۔
پس تحریر: لاہور سے عمران خان کی تقریر کے فوری بعد روحانی شخصیت نے مجھ سے  کہا عمران تو بھٹو سے بھی بہت بڑا بن گیا ہے۔ بلکہ عمران خان تاریخ میں لازوال مسلمان وجود ،موقف، کردار بن گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں