10:10 am
ایک تقریر‘ ایاک نعبدو‘ سے لاالہ الااللہ تک!

ایک تقریر‘ ایاک نعبدو‘ سے لاالہ الااللہ تک!

10:10 am

وزیراعظم عمران خان کی جنرل اسمبلی میں دبنگ تقریر٭بھارتی وزیراعظم مودی کی تقریر 15 منٹ‘عمران خان کی تقریر 50منٹ٭ مودی نے پاکستان اورکشمیر کا نام نہیں لیا٭ مودی‘ اقوام متحدہ سے ناراض‘ سیکرٹری جنرل سے ملنے سے انکار٭ بھارتی وزیراعظم کی تقریر مدبرانہ‘پاکستانی وزیراعظم کی تقریر گالیاں ہی گالیاں‘ ٹائمز آف انڈیا٭ ڈپٹی سپیکر قاسم علی سوری فارغ‘ نئے انتخابات‘ الیکشن ٹریبونل٭ عمران خان کی تقریر مایوس کن ہے‘ بلاول٭ سپریم  کورٹ‘ بیوی کو خوش رکھنے کے  طریقے٭ افغانستان کے صدارتی انتخابات٭ سری لنکا‘ کرکٹ مقابلے بارش میں بہہ گئے۔
 
جنرل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کئی پہلوئوں سے منفرد تھی۔ شروع ایاک نعبدو سے‘ ختم لاالہ الا اللہ پر‘ بلاشبہ آج تک کبھی جنرل اسمبلی میں  میں پاکستان بلکہ غالباً کسی دوسرے ملک کے نمائندے نے اس انداز کی نہایت پرجوش ‘ دبنگ اور کسی لگی لپٹی کے بغیر ایسی کھلی باتیں نہیں کی ہونگی۔ جنرل اسمبلی میں تقریر کے لئے 15منٹ کا وقت دیا جاتا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 15منٹ میں تقریر ختم کی‘ عمران خان جوش میں آئے تو مسلسل 50منٹ تک بولتے چلے گئے۔ تقریر اتنی ’’وزنی‘‘ تھی کہ جنرل اسمبلی کے صدر اور ایوان کے تمام حاضرین دم بخود بیٹھے سنتے رہے۔ اس دوران گیلری سے پانچ بار پرجوش تالیاں بجیں۔ بھارتی وزیراعظم  جب اپنی تقریر کے بعد چلے گئے‘ عمران خان کی تقریر نہیں سنی البتہ بھارتی سفیر بیٹھی رہی۔ اس تقریر کی تفصیل اخبارات میں  اور ٹیلی ویژنوں پر آچکی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج تک اس طرح کی کھلی ڈلی بے باکانہ تقریر پہلے کبھی  نہیں ہوئی۔ عمران خان نے جس انداز میں اسلام کی حقانیت اور حضور نبی کرمﷺ  کے ساتھ محبت کا اظہار کیا۔ (آنحضورﷺ کا نام لیتے وقت آنکھوں میں آنسو آگئے) اس کی عام مسلمانوں خاص طور پر مذہبی حلقوں میں  بہت پذیرائی ہوئی ہے۔ کچھ دوسرے معاملات بھی مگر اصل موضوع کشمیر اور نریندر مودی کی ذات تھی۔ مودی کو تو عمران خان نے کھری کھری سنائیں‘ ’’گجرات کا قاتل‘ آر ایس ایس کا  لائف ممبر‘‘ وغیرہ۔ اس پر تو بھارت کے کانگریسی اور بعض دوسرے  حلقوں نے بھی تائید کی۔ آر ایس ایس انتہا پسند مسلم دشمن تنظیم ہے۔ اسے کانگریس کی حکومت نے دہشت گرد قرار دے کر اس پر پابندی لگا دی تھی۔ مودی کی حکومت نے پابندی ختم کر دی۔
وزیراعظم پاکستان کا اصل موضوع مقبوضہ کشمیر اور اس پر  56دنوں سے نافذ بھارتی فوج کا کرفیو تھا۔ اسے جس زور دار طریقے اور جذبے کے ساتھ پیش کیا اس پر تو پاکستان کے اندر اپوزیشن رہنما بھی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئے۔ اگرچہ مجبوری کے طور پر کچھ نہ کچھ میخ بھی نکالی۔ بلاول زرداری نے تو ساری تقریر کو ہی مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ وزیراعظم نے تقریر کی تیاری نہیں کی تھی اس لئے اب حکومت چھوڑ دینی چاہیے۔ اس بات کا آگے کچھ ذکر آئے گا۔ پیپلزپارٹی کی ہی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی نے تو یہ کہا کہ تقریر اچھی تھی مگر کشمیر کا ذکر پہلے کرنا چاہیے تھا۔ سردار عتیق احمد نے بھی تقریر کو سراہا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے گول مول ردعمل دیا‘ جو مرضی سمجھ لیں ان کا  پہلے روز سے ہی موقف ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ پاکستان کی فوج کا انتظار کر رہے ہیں۔
مجھے ایک عزیز نے کہا ہے کہ دوسروں کی بجائے اپنے ذاتی خیالات کا ’’دیانت دارانہ‘‘ اظہار کروں۔ میں اس بارے میں پہلے خلیفہ اسلام حضرت علیؓ کا ایک قول سنانا چاہتا ہوں۔ فرمایا’’ من قال‘ وانظر ماقال‘‘ یعنی یہ نہ دیکھ کہ کون کہہ رہا ہے‘ یہ دیکھ کیا کہہ رہا ہے۔ اسی بات کو علامہ اقبالؒ نے یوں بیان کیا کہ ’’ نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں‘ فقیہ مصلحتِ بیں سے وہ رندبادہ خوار اچھا‘‘ میں نے 53سالہ صحافت کے دوران سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں پاکستان کے بہت سے حکمرانوں کی تقریریں سنی اور پڑھی ہیں‘ ان میں ذوالفقار علی بھٹو‘ جنرل ضیاء الحق‘ گوہر ایوب‘ نواز شریف اور دوسرے لوگ شامل تھے جو تقریروں میں کشمیر کا مختصر نام لیتے تھے اور پھر بھارت کے دورے پر نکل پڑتے تھے۔ ان سب کے مقابلے میں عمران خان کی جنرل اسمبلی کی تقریر  کہیں زیادہ دوٹوک‘ واضح‘ دلیرانہ اور پرجوش  و پرتاثیر تھی۔ اس سے غرض نہیں کہ تقریر کس نے کی‘ اس سے  غرض ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور اس کے مظلوم 80لاکھ قیدی باشندوں کی بالکل صحیح اور بھرپور نمائندگی کی گئی ہے۔ بلاول نے کہا ہے کہ تقریر مایوس کن تھی۔ سنو بلاول ! اپنے بڑوں سے پوچھ لو‘ یہ واقعہ وہ بھی بتائیں گے کہ پاک بھارت جنگ کے دوران ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے سلامتی کونسل میں نہایت پرجوش تقریر کی کہ  ہم بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک لڑیں گے‘ پیچھے نہیں ہٹیں گے‘ گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے‘ وغیرہ وغیرہ! انہوں نے ایک ہزار سال تک لڑنے کی بات بہت بلند آواز سے کہی اور  پھر اک دم رک کر کہا کہ ’’جناب صدر! مجھے اطلاع آگئی ہے کہ جنگ بند کر دی گئی ہے!‘‘ 
ایک دلچسپ واقعہ 1954ء میں روس کا وزیراعظم خروشیف سلامتی کونسل میں گیا۔ زوردار تقریر کر رہا تھا۔ اجلاس کے صدر نے وقت یاد دلانے کے لئے میز پر آہستہ سے ہتھوڑا بجایا‘ خروشیف کو غصہ آگیا‘ اس نے پائوں سے جوتا نکالا اور زور زور سے میز پر بجانے لگا! 
امریکہ نے بھارت پر زور دیا کہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کیا جائے اور گرفتار شدہ (7000) افراد کو رہا کیاجائے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ ایلیس ویز نے بھارت کو یاد دلایا ہے کہ عالمی انسانی قوانین کے تحت پوری  آبادی کو اس طرح قید نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری طرف امریکہ کے وزیر تجارت نے پاکستانی وفد سے ملاقات کرکے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان محض چار ارب ڈالر کی امداد کی کوئی اہمیت نہیں‘ اسے بڑھانا ضروری ہے۔ قارئین کو شاید گمان ہو رہا ہو کہ امریکہ پاکستان پر اچانک بہت مہربان ہوگیا ہے۔ یہ محض غلط فہمی ہے۔ وہ بھارت اربوں کھربوں ڈالر کی مارکیٹ کو کیسے نظرانداز کر سکتا ہے جہاں سے اسے بیک وقت چین اور روس سے مقابلہ کرنا  پڑ سکتا ہے۔ شاید عام آدمی کے علم میں نہ ہو کہ امریکہ کے ٹیکنالوجی کے بہت سے بڑے بڑے ادارے انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے بھارتی ماہرین نے سنبھال رکھے ہیں۔ پاکستان کی امریکہ کے لئے اہمیت بس اتنی ہے کہ اس کے ذریعے افغانستان میں امن مذاکرات چل رہے ہیں۔
 آج سارا کالم جنرل اسمبلی کی نذر ہوگیا۔ چند مختصر خبریں‘ امریکہ میں زیر حراست میکسیکو کے سابق اٹارنی جنرل ایڈگارو کو امریکہ میں منشیات سمگل کرنے کے جرم میں 20سال قید‘ 10لاکھ ڈالر جرمانہ کر دیا گیا۔ قارئین کرام! پنجاب کی ایک اہم  شخصیت بھی ایسے ہی الزام کے تحت عدالتیں بھگت رہی ہے‘ نام بھول رہا ہوں‘ آپ بتا سکتے ہیں؟
سپریم کورٹ کے دو فاضل جج حضرات جسٹس مشیر عالم اور جسٹس فائز عیسیٰ نے شوہروں کو روٹھی ہوئی بیویوں کو منانے کے لئے چند دلچسپ مشورے دئیے۔ عدالت میں ایک کیس میں ایک شخص عمر دراز نے کہا کہ میکے میں بیٹھی وہ اپنے بیوی بچوں سے پیار کرتا ہے‘ علیحدہ نہیں ہونا چاہتا‘ اس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ بیوی سے پیار ہے تو اسے عید پر کپڑے بھی بھیج دیتے! اسے نان نفقہ تو دو! جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پیار کرتے ہو تو کچھ تو بھیجو! بیوی‘ شوہر کے وکیلوں نے اتفاق کیا اور معاملہ نمٹا دیا گیا۔

تازہ ترین خبریں