07:14 am
مولانا کے دھرنے کی ناکامی کا نسخہ اور کنٹینر کہاں ہے؟

مولانا کے دھرنے کی ناکامی کا نسخہ اور کنٹینر کہاں ہے؟

07:14 am

کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ہاتھوں سے دی جانے والی گانٹھیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں‘ قومی اسمبلی کی پریس گیلری
کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ہاتھوں سے دی جانے والی گانٹھیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں‘ قومی اسمبلی کی پریس گیلری میں بیٹھ کر وزیراعظم کی اسمبلی میں کی جانے والی تقریر میں یہ الفاظ اس خاکسار نے اپنے کانوں سے سنے کہ  اگر اپوزیشن دھرنا دینا چاہتی ہے تو اسے کنٹینر ہم دیں گے‘ صرف وزیراعظم عمران خان ہی نہیں بلکہ متعدد حکومتی وزراء پورے ایک سال سے یہ بڑھکیں مارتے چلے آرہے تھے کہ جس نے احتجاج کرنا ہے دھرنا دینا ہے شوق سے دے ہم کنٹینر ہی نہیں بلکہ کھانا بھی دیں گے۔
 اب جب مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر دھرنے کا اعلان کیا تو یہ اعلان سن کر حکومت بوکھلا ہٹ کا شکار نظر آرہی ہے‘ ممکن ہے کہ حکومت کے نزدیک ’’بوکھلاہٹ‘‘ کو ’’بہادری‘‘ سمجھا جاتا ہو‘ بے چارہ اکیلا ’’مولانا‘‘ اور مدمقابل عمران خان‘ علی زیدی‘ شیخ رشید‘ علی محمد‘ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان‘ فیصل واوڑا‘ شیریں مزاری پوری حکومتی مشینری اور سیکولر شدت پسندوں کے غول کے غول‘ اس ’’بہادری‘‘ پر ملالہ یوسف زئی کو چاہیے کہ وہ ان  وزیروں کی فوج ظفر موج میں اپنے مقدس ہاتھوں سے ایوارڈز تقسیم کر دیں تاکہ ان کی ’’بہادری‘‘ آنے والی نسلوں کے لئے بطور سند محفوظ رہے۔
2014ء میں ڈی چوک میں 126دن کا دھرنا دینے  اور حکومت میں آنے کے بعد ایک سال تک کنٹینرز دینے کا اعلان کرنے والے عمران خان سے یہ پوچھنا میرے جیسے طالب علم کا حق ہے کہ ’’سر‘‘ جی وہ کنٹینر کہاں ہے کہ جس کی آفر آپ بڑے دھڑلے سے دیا کرتے تھے۔ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اب وہ کنٹینر ’’مولانا‘‘ کے حوالے کر دیجئے تاکہ ہم دنیا کو بتا سکیں کہ ہمارا وزیراعظم اپنی کہی ہوئی کسی بات پہ تو پورا اترا؟ 27اکتوبر کو دھرنا دینا یا نہ دینا مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کا فیصلہ ہے‘ لیکن ذمہ داری    کا یہ تقاضا ہے کہ جس کے بھی قول و فعل میں تضاد ہو اس کو لازماً آشکارہ کیا جائے‘ جب سے عمران خان نے ریاست ’’مدینہ‘‘ کا نعرہ لگانا شروع کر رکھا تھا مجھے تب سے ہی یقین تھا کہ عمران خان اور تحریک انصاف سیاست میں مذہب کارڈ استعمال کرنے کی عادی نہیں ہے‘ پھر جب اس سیاسی تماشے میں مولانا طارق جمیل کودے تو میرا یقین مزید مستحکم ہوا کہ عمران خان کی حکومت ’’مذہب‘‘ کارڈ کی  بالکل مخالف ہے‘ امریکہ سے واپسی پر ائیرپورٹ پر وزیراعظم  کے استقبال کے دوران صاحبان جبہ و دستار کی گری ہوئی پگڑیاں اور لگنے والے دھکے دیکھ کر  مجھے اس بات پر کامل یقین آیا کہ واقعی حکومت سیاست میں ’’مذہب‘‘ کارڈ کے استعمال کی روادار نہیں ہے۔
ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ حکومتی وزراء اور ان کے راتب خوروں کے بقول اگر مولانا فضل الرحمن کا مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی بھی ساتھ نہیں دے رہیں‘ تاجر‘ عوام‘ وکلاء اور میڈیا بھی ’’ظل سبحانی‘‘ کی حکومت کے ساتھ ہے‘ مولانا طارق جمیل سمیت کئی دیگر (مذہبی نہیں) بلکہ سیاسی علماء بھی حکومت کے ساتھ ہیں‘ تو اکیلے ’’مولانا‘‘ کا اتنا خوف کیوں ہے کہ بعض وفاقی وزیروں کے دھن بگڑے ہوئے ہیں؟ ہر وفاقی وزیر ’’مولانا‘‘ کے خلاف بیان دینا ثواب دارین سمجھے ہوئے ہے۔
گئے زمانے  میں بہادر قول کے پکے ہوا کرتے تھے...مولانا طارق جمیل کے سچے اور کھرے لیڈر‘ سے ہم تو صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ وہ کنٹینرز کہاں ہیں کہ جو اپوزیشن کو دینے کے آپ اعلانات کیا کرتے تھے؟
27اکتوبر دھرنے کی تاریخ مقرر ہونے کے بعد حکومتی وزیروں کے مولانا کے خلاف قانونی کارروائی کے مشورے‘ کے پی کے سے نہ گزر دینے کی دھمکیاں‘ پولیس ناکام ہوئی تو فوج کو استعمال کرنے کی باتیں یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ عمران خان حکومت بوکھلاہی ہوئی نہیں بلکہ واقعی ’’بہادری‘‘ کے ساتھ اپنی جگہ پر ہی کھڑی ہے‘ ابھی 27اکتوبر دور ہے...دھرنے کا نام و نشاں بھی نہیں‘ لیکن ’’مولانا‘‘ پر ابھی سے غداری‘ بھارت سے وفاداری کے الزامات کا طومار باندھا جارہا ہے‘ جو ’’مولانا‘‘ ساری عمر عدم تشدد کا پرچارک رہا‘ ٹی ٹی پی کے خودکش حملے جب نصف النہار پر تھے تو یہ کبھی بنوں‘ کبھی ڈی آئی خان‘ کبھی کوئٹہ اور کبھی پشاور میں علماء کے بڑے بڑے اجتماعات میں کھڑے ہو کر ریاستی اداروں کے خلاف ٹی ٹی پی کے مسلح حملوں کو حرام قرار دیتا رہا‘ جس نے پاکستان کی سالمیت کی جنگ میں مولانا حسن جان‘ مولانا معراج الدین‘ مولانا نور محمد جیسے بزرگ شیخ الحدیث قربان کر ڈالے...ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کے جرم میں جس پر  بار‘ بار خودکش حملے کئے گئے کل کے  لڑکے  اگر اس کے خلاف غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹیں گے تو پھر اس ملک کے ہر ایسے شہری کی وفاداری مشکوک ٹھہرے گی۔
میں نہیں جانتا کہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی‘ مفتی اعظم ‘مفتی رفیع عثمانی‘ مولانا  زرولی خان‘ شیخ ’’جمہوریت‘‘ مفتی عبدالرحیم کا اس حوالے سے موقف کیا ہے؟ لیکن اگر یہ سب حضرات بھی عمران خان کا ساتھ دینے کا کھل کر اعلان کر دیں تو کیا مولانا فضل الرحمن کا 27اکتوبر والا دھرنا ناکام ہو جائے گا؟ یہ ہے وہ سوال جس پر حکومت اور غیر مرئی طاقتوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنا چاہیے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ صرف چار علماء ہی نہیں بلکہ ان جیسے جید درجنوں مزید علماء بھی عمران خان کی جی بھر کر تعریف کرلیں‘ تب بھی  دھرنے کو کو روکا نہیں جاسکتا بلکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس موقع پر جو صاحب جبہ و دستار بھی حکومتی  رتھ پر سوار ہونے کی کوشش کرے گا‘ وہ عوام بالخصوص اپنے فالورز میں سرکاری اور درباری کا خطاب پا کر خزاں کے موسم کا جزو بن جائے گا‘ یاد رہے کہ ان چاروں علماء سمیت ہر عالم دین کو یہ خاکسار اپنے سر کا تاج سمجھتا ہے‘ چونکہ معروضی حالات کا تجزیہ ضروری تھا اس لئے اس خاکسار کو خامہ فرسائی کرنا پڑی بلکہ میری عالمی مبلغ مولانا طارق جمیل سے گزارش ہے کہ وہ عمران خان جیسے سچے اور کھرے انسان سے درخواست کریں کہ وہ ’’مولانا‘‘ اور ان کے ساتھیوں کا راستہ  روکنے کی بجائے 27اکتوبر کو ہی لیاقت باغ میں ایک ایسا اجتماع رکھ لیں کہ جس میں طارق جمیل سمیت حکومت کے حامی تمام جید علماء کے خطاب کا اعلان کر دیا جائے‘ حکومت کو خود اندازہ ہو جائے گاکہ لیاقت باغ میں پہنچنے والے لوگ کتنے ہیں اور دھرنے میں شرکت کے لئے آنے والے افراد کی تعداد کتنی ہے؟ اور ساتھ ہی مولانا طارق جمیل وزیراعظم سے سفارش کرکے وہ کنٹینر مولانا کو دلوا دیں کہ جس کنٹینر کی آفر وزیراعظم اپوزیشن کو کیا کرتے تھے‘ وزیراعظم اور ان کے حکومتی وزراء  اگر مولانا کا دھرنا ناکام بنانا چاہتے ہیں تو کان قریب کریں...یہ خاکسار اس کا طریقہ بھی بتانے کے لئے تیار ہے۔ وزیراعظم آج ہی تیل‘ گیس‘ پٹرول‘ ڈیزل‘ بجلی‘ اشیاء خوردونوش اور ادویات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کرنے‘ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی دلوانے کے لئے جہاد کا اعلان کر دیں تو ’’مولانا‘‘ کا دھرنا خود بخود ناکام ہو جائے گا۔



 

تازہ ترین خبریں