07:17 am
جاگتے رہو

جاگتے رہو

07:17 am

کیاجنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریرکے بعدبہت کچھ بدل گیاہے یاابھی بہت کچھ بدلنا باقی ہے؟دوست کی
کیاجنرل اسمبلی میں وزیراعظم کی تقریرکے بعدبہت کچھ بدل گیاہے یاابھی بہت کچھ بدلنا باقی ہے؟دوست کی تعریف بدل گئی ہے،دشمن کی نشانی بدل گئی ہے،کس سے ہاتھ ملانا ہے اورکس سے لڑناہے،اس کا پیمانہ بھی بدل گیاہے کیا؟پاکستانی قوم کو پچھلے72سال سے علم ہے کہ بھارت ہماراازلی دشمن ہے لیکن مشرف اورزرداری کے زمانے میں’’امن کی آشا‘‘ کاڈھونڈورا بھی خوب پیٹاگیالیکن ایک دفعہ پھرتسلیم کرلیاگیاکہ تعلقات کی بحالی میں اصل رکاوٹ مسئلہ کشمیرہے۔پاکستانی وزیرِخارجہ کاکہناہے،دوست ممالک اگرکوئی کردار ادا کرنے چاہیں توکوئی حرج نہیں لیکن مودی سرکارکی رٹ ہے کہ کشیدگی کی وجہ دہشت گردی کے مراکز ہیں اوربھارت مخالف عناصر کاقلع قمع کئے بغیرحالات وتعلقات معمول پرنہیں آسکتے۔
آخرپاکستانی وزیراعظم نے اپنی تقریرمیں یہ کیوں نہیں پوچھاکہ پاکستان میں مبینہ دہشت گردی کے مراکز1948 کی پاک بھارت جنگ سے پہلے قائم ہوئے تھے یابعد میں،اور 1965ء کی جنگ میں پاکستان میں دہشت گردی کے کون سے مراکزفعال تھے؟اسی طرح 1971 کی جنگ میں پاکستان میں موجود دہشت گردی کے مراکزنے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی تھی اورمکتی باہنی بھی شائد پاکستان میں موجود دہشت گردی کے مراکز کی پیداوار تھی؟مجھے حیرت تونہیں البتہ افسوس ضرورہواہے کہ کیا عمران خان صرف منہ دیکھنے کیلئے وہاں گئے تھے،کچھ تومودی اورٹرمپ کے مشترکہ جلسے کاجواب دیتے؟پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے،اپنے ملک کی 72سال پرمحیط خارجہ پالیسی کی لاج رکھنے کی توکوئی کوشش کرتے لیکن ان الزمات پران کی مجرمانہ خاموشی کوان کی سفارتی رضامندی سمجھ کرگویایہ تسلیم کرلیا گیا کہ واقعی پاکستان میں دہشت گردی کے مراکزہیں۔کشمیر کامسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں عالمی طاقتیں ضامن ہیں،پھر ثالثی کیلئے بھارت کی رضامندی کابہانہ کیسا؟
اگرہم پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کب تک تقریروں سے کام لیتے ہوئے سیاسی اسکورنگ کافائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ کوئی ہے جومجھے یہ سمجھادے کہ ایٹمی حملے کے خوف سے مسئلہ کشمیرپرکوئی پیش رفت ہوئی ہے؟پاک بھارت تعلقات میں سردی گرمی توابتداسے ہے۔کیاتین جنگیں دہشت گردی کے مراکزکی وجہ سے ہوئی ہیں،کیا بھارتی فوج مشرقی پاکستان میں دہشتگردی کے مراکز ختم کرنے کیلئے داخل ہوئی تھی،کیا 1965 میں لاہورجمخانہ میں شراب پینے کااعلان دہشت گردی کے مراکز ختم کرنے کیلئے کیاگیا تھااورخود پرویز مشرف کے دورمیں دونوں ملکوں کی افواج سرحدوں پرآمنے سامنے کھڑی ہوگئیں تھیں توکیاوہ بھی دہشت گردی کے مراکزختم کرنے کیلئے ہوئی تھیں؟ان سوالات کواٹھانے سے کس نے منع کیاتھا؟ 
کیاہم مودی اورٹرمپ کے الزام کو بآسانی تسلیم کرکے آگئے کہ اصل مسئلہ کشمیرنہیں،دہشت گردی کے مراکز ہیں۔ کلبھوشن کا پاکستان میں جاری دہشت گردی کے جرائم کااعتراف کاذکر کیوں بھول گئے ،افغانستان میں درجن سے زائدبھارتی دہشت گردی کے مراکزکس نے کھول رکھے ہیں؟ہیوسٹن میں لگائے گئے الزامات پرخاموشی کامطلب یہی ہواکہ پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی وجہ دہشت گردی کے مراکز ہیں؟1948 میں پہلی جھڑپ اورکشیدگی پاک فوج سے ہوئی تھی،دوسری جنگ 1965 میں پاک فوج اور پاکستانی قوم سے ہوئی تھی اور1971 میں توساری فوج کشی پاکستانی قوم کے خلاف تھی،گویا دہشت گردی کے مراکز پاک فوج اورپاکستانی قوم ہیں۔ شائدپاکستانی حکام یہ بات برملا تسلیم نہ کریں، سب کے سامنے اعتراف کرنے میں مشکل پیش آئے گی لیکن بھارت کی نظر میں تودہشت گردی کے مراکزپاکستانی فوج اورمحب وطن عوام ہی ہیں۔
یہ لشکرِطیبہ اورجماعتہ الدعوہ توابھی چندبرس پرانی بات ہے۔ کیا1948 ،1965اور 1971 میں صرف پاکستانی افواج اور پاکستانی عوام دہشت گردی کے مراکزتھے؟جنرل ایوب نے کسی وجہ سے ہی کلمہ طیبہ پڑھ کربھارت سے جنگ چھیڑے جانے کی اطلاع دی تھی۔جنرل محمدایوب کے اندرکلمہ طیبہ کتنااتراہواتھااس کاعلم تواللہ کوہوگالیکن پاکستانی قوم تو اسی کلمہ طیبہ سے سرشارتھی جب ہی لاہورکی حفاظت فوج کے ساتھ ساتھ لاہورکے عوام نے کی تھی۔یوں بھی’’خطہ لاہورتیرے جانثاروں کو سلام‘‘ پیش کیا گیا تھا۔ پاکستانی قوم تو ہر سال5فروری کوکشمیریوں سے اظہارِیکجہتی کرکے کشمیریوں کیلئے اپنی جان ومال کا نذرانہ پیش کرکے ثابت کرتی ہے کہ وہ تواب بھی کشمیر کے مسئلے کوپاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کااصل سبب قراردیتی ہے۔
خطے میں قیامِ امن کادروازہ تصفیہ کشمیر ہے،پاکستان کشمیریوں کاوکیل نہیں بلکہ فریق ہے لیکن ہمارے حکمران تو وکالت سے بھی ایک درجہ پیچھے ہیں ،بس حمائت کے درجے پرفائزہیں اوربھارت کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی خواہش میں ہربات اورتمام قربانیوں کو بھولنے کو تیارہیں۔مودی دہشث گردی کی رٹ لگاکر پاکستان کودبائو میں مسئلہ کشمیر سے دستبردار کروانا چاہتاہے۔یادرہے کہ ضیاالحق کے دورمیں اورمشرف کے ابتدائی دورمیں بھارت نے عالمی سطح پرکشمیرکومتنازعہ تسلیم کرلیاتھا لیکن عالمی دبائو اوراندرونی کمزوری کی بناپررفتہ رفتہ مشرف کشمیرکی تحریکِ آزادی کودہشت گردی سمجھنے لگاتھابلکہ جن لوگوں کومجاہد قراردیاجاتاتھاانہیں سہولتیں دی جاتی تھیں،ان کوپکڑپکڑکرجیل میں ڈال دیاگیا۔یہ نفسیات پیپلزپارٹی کی حکومت کوبھی منتقل ہوئی بلکہ پی پی حکومت نے خود پاکستانی مندوب برائے اقوامِ متحدہ کے ذریعے لشکرِ طیبہ اور جماعتہ الدعو کے ساتھ کچھ دوسری جماعتوں کو دہشت گردقراردلوا کر ان پر عالمی طورپرپابندی لگوانے کی قراردادمنظورکروائی اور اس سلسلے میں ہمسایہ دوست چین کواس قراردادکوویٹو نہ کرنے کا خصوصی پیغام پہنچایا گیا۔
ممبئی حملوں کے بعد فوری طورپرحافظ سعید اورکئی دوسرے افراد کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور رحمان ملک نے وہی کیاجو ان کے بیرونی آقائوں کا حکم تھااورالزامات اورجو باتیں کسی جانب سے نہیں کی گئی تھیں،انہیں تسلیم کرکے ایف آئی آرپکی کرالی، گاڑیاں، کشتی، ٹکٹ، سازوسامان کی خریداری،اسلحہ وغیرہ کی خریدوفروخت کے ثبوت اورسب کچھ فرما دیا، انہیں توخود کش حملہ آوروں کی نقل وحرکت اورگاڑی کارنگ اورنمبر تک پتہ چل جاتاتھالیکن پکڑاکسی کوئی نہیں گیا۔ساری دنیا میں یہ واحد اور انوکھی قسم کاوزیرِداخلہ تھا۔ایک مرتبہ پھر امریکہ جانے سے قبل ایسی کاروائیاں دہرائی گئی ہیں بلکہ اب توانسداد دہشت گردی کے الزامات بھی لگادِیئے گئے ہیں جبکہ حافظ سعیدکی گرفتاری پرٹرمپ نے ٹوئٹ میں سارارزاکھول دیا تھا ۔اب پاکستانی قوم کی یہ ذمہ داری ہے وہ اس مسئلے کے حوالے سے جاگتی رہے اورحکومت کواس کی ذمہ داریوں سے منحرف نہ ہونے دے۔ 



 

تازہ ترین خبریں