08:02 am
ممکنہ دھرنا:  ہزاروں خواہشیں  ایسی! 

ممکنہ دھرنا:  ہزاروں خواہشیں  ایسی! 

08:02 am

 یارِ خاص تبریز میاں اسلام آباد میں مذہبی سیاسی جماعت کی جانب سے اعلان کردہ ممکنہ دھرنے میں بے حد دلچسپی لے رہے ہیں۔ اُن کی شدید خواہش ہے کہ راقم دھرنے کے متعلق کھل کر رائے کا اظہار کرے ۔  ممکنہ دھرنے کا تجزیہ ہمارے لیے فی الحال ممکن نہیں ۔ اگر کھل کر تجزیہ کیا تو دھرنے کے حامی اور مخالف حلقے ہاتھ دھو کر ہمارے پیچھے بھی پڑ سکتے ہیں‘ چنانچہ تبریز میاں کو ہم نے یہی مشورہ دیا کہ وہ دھرنے کا اعلان کرنے والی جماعت کے قائدین کے گرما گرم بیانات سے اصل عزائم جاننے کی کوشش کریں ۔ دوسری جانب دھرنے کی مخالفت کرنے والے سرکاری و نیم سرکاری ترجمانوں اور بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے آل رائونڈر اینکرپرسنز کے دماغ کا دہی کر دینے والے تجزیوں سے بھی استفادہ فرما ئیں لیکن وہ تبریز میاں ہی کیا جو آسانی سے ٹل جائیں؟ یار خاص کا اصرار ہے کہ دھرنے کے بارے چونکا دینے والی پیش گوئیاں کئے بنا ہماری جان چھوٹنا مشکل ہے ۔ 
 
تبریز میاں سے جان چھڑوانے کے لیے فدوی نے چندبے ضرر ہومیوپیتھک پیش گوئیاں فرمائی ہیں ۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ اول، دو امکانات ہیں ! دھرنا ہو گا یا بالکل نہیں ہو گا ۔ ہونے یا نہ ہونے کا تمام تر انحصار اعلان کرنے والی جماعت کے قائدین کے موڈ، صحت اور موصولہ چندے کی مالیت پر ہے۔ دوم، ستائیس اکتوبر کا دن بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس دن سب کچھ واضح ہونے کا غالب امکان ہے ؟ سوم، صاف دکھائی دے رہا ہے کہ چھبیس اکتوبر کے اگلے روز ستائیس اکتوبر آئے گی ۔ یہ اتوار کا دن ہو گا اور اسی دن عوام جان لیں گے کہ دھرنا ہو رہا ہے یا نہیں ہو رہا ۔ چہارمِ ، دھرنا کامیاب ہوا تو حکومت کی چھٹی ہو جائے گی اور اگر ناکام ہوا تو بھی حکومت کی اچھی خاصی بدنامی اور بے عزتی کا باعث بنے گا ۔ پنجم، دھرنے کی حمایت کے معاملے پر پی پی پی اور نون لیگ گول مول پالیسی اپنائے رکھیں گے۔ اگر مذہبی جماعت دھرنا کرنے میں کامیاب رہی تو پی پی پی اور نون لیگ کے وفود جمے جمائے دھرنے میں فوٹو سیشن کے لیے آتے جاتے رہیں گے۔ ویسے بھی افرادی قوت کے معاملے میں فی زمانہ دونوں جماعتوں کا ہاتھ تنگ ہے ۔ جب ان جماعتوںکے کارکن اپنے مرکزی قائدین کی گرفتاریوں کے خلاف کوئی قابل ذکر احتجاج نہ کر پائے تو پھر پرائی جماعت کے قائد کی کال پر وہ کیا خاک باہر نکلیں گے۔ ششم، حکومتی جماعت کے حامیوں کے نزدیک یہ دھرنا جمہوریت کے لیے زہر قاتل اور ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا قرار پائے گا ۔ جبکہ دھرنے کی میزبان جماعت کے نزدیک پاکستان سمیت کُل عالم میں بسنے والے مسلمانوں کے جملہ مسائل کا حل اس دھرنے کی کامیابی سے مشروط ہے۔ 
دھرنے کے حمایت کرنے والے مسلمان عہد حاضر کے مجاہد جبکہ دھرنے کے مخالف یہودیوں کے ایجنٹ قرار پائیں گے۔ ہفتم ، نتائج سے قطع نظر اگر یہ دھرنا ہو گیا تو دارلحکومت میں اچھا خاصا گند ڈال کے ہی ختم ہو گا ۔ حسب روایت یہ گند سی ڈے اے نامی سفید ہاتھی کو صاف کرنا پڑے گا۔ ہشتم، چونکہ دھرنا مذہبی جماعت کے زیر انتظام ہوگا لہٰذا سیکولر لبرل حلقوں کو مذہبی کارڈ استعمال ہونے کے مروڑ اٹھنا شروع ہو چکے ہیں ۔ یہ حضرات انصاف سے کام لیں ۔ ہر جماعت وہی کارڈ استعمال کرے گی جو اُس کے پاس ہوگا۔ مذہبی سیاسی جماعت اگر مذہب کا کارڈ استعمال نہ کرے تو کیا لبرل ٹوڈیوں کی طرح فحاشی، عریانی اور مرد و زن کے مادر پدر آزاد اختلاط کا کارڈ استعمال کرے۔ یوں بھی کارڈ کوئی بھی استعمال کیا جائے مقصد تو عوام کی آنکھ میں دھول جھونک کے اپنا اُلو سیدھا کرنا ہی ہوتا ہے۔ 
سیاسی جماعتیں برسوں سے عوامی حقوق، جمہوریت ، غربت سمیت روٹی ، کپڑے اور مکان کے کارڈ کھیل کر عوام کو بے وقوف بناتی رہی ہیں ۔ ایک مذہبی جماعت اگر مذہب کا کارڈ ایک مرتبہ پھر کھیل لے گی تو کیا قیامت آجائے گی۔ اعتراض کرنے والی جماعتیں بھی ماضی میں حسب توفیق و حسب موقع مذہب کا کارڈ کھیلنے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں‘ لہٰذا کارڈ اپنا اپنا کے اصول کے تحت دھرنے کی میزبان جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ پبلک کو اُلو بنانے کے لیے اپنی پسند کا کارڈ کھیل کر ثواب دارین حاصل کرے۔ ہشتم، گو دھرنے کے ذریعے حکومت کا خاتمہ ہونا ممکن دکھائی نہیں دے رہا تاہم اگر ایسا ہو بھی جائے تو اس کا تمام تر فائدہ نون لیگ یا پی پی پی کو ہو گا ۔ 
 دھرنے کی میزبان جماعت کو نئے انتخابات میں وہی لگی بندھی نشستیں ہی مل پائیں گی جو وہ اپنی سیاسی پیدائش سے آج تک انیس بیس کے فرق سے حاصل کرتی آئی ہے۔ رہی بات معاشی ، سفارتی ، سیاسی اور خارجی محاذوں پر کار کردگی کی تو یہ بات کوئی راز نہیں کہ مو جودہ اپوزیشن کی صفوں میں حکمران جماعت سے کہیں زیادہ نالائق اور کرپٹ عناصر کا جم غفیر لگا ہے‘ لہٰذا عوام کی فلاح اور ملک کی بقا ء کا کوئی شافی نسخہ حزب اختلاف کے پاس بھی نہیں ہے۔ نہم، دھرنا دینے پر تُلے ہوئے اور دھرنا رکوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والے عناصر اگر عوام کی بہتری کا عزم کر کے پارلیمان میں سر جوڑ کر بیٹھ جائیں تو وطن عزیز کے بیشتر مسائل حل ہو جائیں ‘ تا حال ایسے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے‘ غالباً ایسی خواہشات کے متعلق ہی چچا غالب فرما گئے تھے ! 
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

تازہ ترین خبریں