08:21 am
تاجروں کے کام کی باتیں

تاجروں کے کام کی باتیں

08:21 am

کوئی چیز اس لئے خریدنا تاکہ اسے منافع پر بیچا جائے تجارت کہلاتا ہے۔ سرکارِ مدینہ قرار قلب و سینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے، تجارت کرو کہ روزی کے 10حصے ہیں 9حصے فقط تجارت میں ہیں۔ تجارت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس پیشے کو انبیائے کرام علیہم السلام سے برکتیں لینے کا شرف حاصل ہوا ہے جیسا کہ مشہور مفسر قرآن، حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: حضرت سیدنا ہود علیہ السلام اور حضرت سیدنا صالح علیہ السلام تجارت فرمایا کرتے تھے، ان نفوسِ قدسیہ کے علاوہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسے اپنی ذاتِ بابرکت سے نوازا ہے۔ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجارت کی غرض سے ملک شام و بصریٰ اور یمن کا سفر فرمایا اور ایسی راست بازی اور امانت و دیانت کیساتھ تجارتی کاروبار کیا کہ آپ کے شرکائے کار اور تمام اہل بازار آپ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کو امین کے لقب سے پکارنے لگے۔
 
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مضاربت اور شراکت دونوں طریقوں سے تجارت کو برکتیں لٹائیں، بطور مضاربت حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے مال کو ملک شام میں تشریف لیجا کر فروخت کیا اور حضرت سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کیساتھ شراکت (پارٹنرشپ) پر کاروبار فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شریک تجارت تھا، میں جب مدینہ منورہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے پہچانتے ہو؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو میرے بہت اچھے شریک تجارت تھے، نہ کسی بات کو ٹالتے اور نہ کسی پر جھگڑا کرتے تھے۔
اگر ہم بھی چاہتے ہیں کہ ہماری تجارت بھی اچھی ہو، ہماری راست بازی اور دیانتداری کی مثال دی جائے، ہماری تجارت سے اُمت مسلمہ کو آسانی ہو تو اس کیلئے ضروری ہے کہ اسلامی اُصولِ تجارت سیکھ کر ان پر عمل کیا جائے۔ دین اسلام جس طرح عبادات مثلاً نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی کی تعلیم و تربیت دیتا ہے، اسی طرح کاروباری لین دین اور تجارتی معاملات کی بھی مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول انور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ ہدایت نشان ہے: تمام کمائیوں میں زیادہ پاکیزہ اُن تاجروں کی کمائی ہے کہ جب وہ بات کریں تو جھوٹ نہ بولیں اور جب اُن کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت نہ کریں اور جب وعدہ کریں تو اُس کا خلاف نہ کریں اور جب کسی چیز کو خریدیں تو اُس کی مذمت (برائی) نہ کریں اور جب اپنی چیز بیچیں تو اُس کی تعریف میں حد سے نہ بڑھیں اور ان پر کسی کا آتا ہو تو دینے میں ڈِھیل نہ ڈالیں اور جب اُن کا کسی پر آتا ہو تو سختی نہ کریں۔
جھوٹ اور جھوٹی قسم: تجارت کو وسعت و فروغ دینے کیلئے آج کل جھوٹ کا سہارا لینا بالکل عام ہوتا جا رہا ہے۔ گاہک کو مطمئن کرنے کی خاطر بات بات پر جھوٹی قسمیں کھائی جاتی ہیں۔ معاذ اللہ اس قدر بے حسی ہو چکی ہے کہ اسے گناہ بھی خیال نہیں کیا جاتا بلکہ ہوشیاری اور چالاکی سمجھتے ہوئے کاروبار کی ترقی میں مفید جانا جاتا ہے۔ گاہک کو اپنے گھیرے میں لینے اور مطمئن کرنے کیلئے طرح طرح سے جھوٹ بولا جاتا ہے مثلاً اگر کوئی خریدار کسی چیز کا دکاندار کی مطلوبہ قیمت سے کم ریٹ لگائے تو دکاندار فوراً جھوٹی قسم کھا لیتا ہے، خدا کی قسم! یہ چیز ہم اتنے پیسوں سے کم پر بیچتے ہی نہیں۔ اسی طرح زیادہ منافع کے لالچ  میں کسی گاہک سے یہ جھوٹ کہہ دیا جاتا ہے کہ ابھی ایک گاہک اس چیز کے آپ سے زیادہ پیسے دے رہا تھا مگر ہم نے پھر بھی اسے فروخت نہیں کی۔ حدیث پاک میں ایسے جھوٹوں کیلئے بڑی سخت وعید آئی ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: تین شخص ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ پاک نہ کلام فرمائے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا: (ان میں سے) ایک وہ ہے جو کسی سامان پر قسم کھائے کہ مجھے پہلے اس سے زیادہ قیمت مل رہی تھی حالانکہ وہ جھوٹا ہو۔
یاد رکھئے! جھوٹ بول کر مال وغیرہ فروخت کرنے سے اگرچہ وقتی طور پر نفع حاصل ہو جاتا ہے مگر درحقیقت ایسی کمائی اور تجارت سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خریدنے اور بیچنے والے اگر سچ بولیں اور معاملہ واضح کر دیں تو ان کی خریدوفروخت میں برکت دی جاتی ہے اور اگر وہ دونوں کوئی بات چھپا لیں اور جھوٹ بول دیں تو اس سے برکت اُٹھا لی جاتی ہے۔ ایک روایت میں ہے جھوٹی قسم مال کو بکوانے والی لیکن کمائی کی برکت مٹانے والی ہے۔
مفسر قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس مفہوم کی حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں: برکت (مٹ جانے) سے مراد آئندہ کاروبار بند ہو جانا یا کئے ہوئے بیوپار میں گھاٹا (نقصان) پڑ جانا یعنی اگر تم نے کسی کو جھوٹی قسم کھا کر دھوکے سے خراب مال دیدیا وہ ایک بار تو دھوکہ کھا جائیگا مگر دوبارہ نہ آئیگا اور نہ کسی کو آنے دیگا، یا جو رقم تم نے اُس سے حاصل کر لی اُس میں برکت نہ ہوگی کہ حرام میں بے برکتی ہے۔
دھوکہ دہی: فی زمانہ تجارت میں دھوکہ دہی بھی ایک عام وَبا ہے۔ عیب دار اور خراب اشیاء کو بڑی چالاکی سے لوگوں کو سونپ دیا جاتا ہے۔ جعلی اور ملاوٹ شدہ چیزیں اصلی اور خالص ظاہر کر کے بیچ دی جاتی ہے حالانکہ ایسا کرنا تجارت کے اسلامی اُصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ شرعی مسئلہ ہے کہ جب کوئی سودا بیچے تو واجب ہے کہ اس میں اگر کچھ عیب و خرابی ہو تو خریدار کو بتا دے، عیب کو چھپا کر اور خریدار کو دھوکہ دیکر بیچنا حرام ہے۔ 
ایک بار سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، اپنا دست ِ مبارک اس ڈھیر میں ڈالا تو انگلیوں پر کچھ تری محسوس ہوئی، غلے والے سے استفسار فرمایا: یہ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس ڈھیر پر بارش ہو گئی تھی۔ ارشاد فرمایا: پھر تم نے بھیگے ہوئے غلے کو اوپر کیوں نہیں رکھ دیا کہ لوگ اسے دیکھ لیتے، جو شخص دھوکہ دے، وہ ہم میں سے نہیں۔ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس سے معلوم ہوا تجارتی چیز میں عیب پیدا کرنا بھی جرم ہے اور قدرتی طور پر پیدا شدہ عیب کو چھپانا بھی جرم۔ 
ہمارے معاشرے میں دھوکہ دہی کی کئی صورتیں پائی جاتی ہیں۔ بعض سبزی و پھل فروش گاہک کھینچنے کیلئے اچھی اچھی اور عمدہ سبزیاں و پھل ڈھیر کے اوپری سطح پر رکھتے ہیں، گلی سڑی اور خراب چیزیں نیچے رکھتے ہیں۔ جب کسی گاہک سے سودا طے ہو جاتا ہے تو وزن کرتے وقت بڑی چالاکی سے صحیح و خراب دونوں طرح کی چیزیں تول کر شاپر وغیرہ میں ڈال دیتے ہیں۔     ( جاری ہے )


اسی طرح موبائل فون، کمپیوٹر و دیگر ٹیکنالوجی کی چیزوں میں صریح غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے مثلاً مرمت کئے ہوئے فون کو یہ کہہ کر بیچنا کہ یہ مرمت شدہ نہیں۔ پرانے کمپیوٹر و لیپ ٹاپ کو نیا کہہ کر اسکا معیار بہتر بتا کر کم معیاری بیچ دینا، اچھا سیمپل دکھا کر گھٹیا مال پیک کر دینا۔ یاد رہے یہ سب حرام اور جہنم میں لے جانے والے کام ہیں۔ امیرالمومنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مومن کو ضرر پہنچائے یا اس کیساتھ مکر اور دھوکہ بازی کرے وہ ملعون ہے۔
دھوکہ دہی انتہائی نقصان دہ چیز ہے، دھوکے باز کو کہیں بھی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، ایسے شخص سے لوگ اپنے کسی بھی قسم کے معاملات کرنے سے کتراتے ہیں۔ مروی ہے کہ مکروفریب جہنم میں لے جانے والے ہیں۔ دغاباز داخل جنت نہ ہو گا۔ 
سود: تجارت میں پائی جانیوالی برائیوں میں سے سود ایسی خبیث برائی ہے جس نے ہمیشہ معیشت کو تباہ و برباد ہی کیا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی مذمت کو انتہائی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ سودخوروں کو اللہ پاک اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اعلانِ جنگ کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔ پارہ 3، سورۃ البقرہ کی آیت 278 اور 279 میں ارشادِ خداوندی ہے: کنزالایمان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر مسلمان ہو پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کر لو اللہ اور اللہ کے رسول سے لڑائی کا‘‘۔ 
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ عالی وقار، ہم بے کسوں کے مددگار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شب معراج میرا گزر ایسی قوم پر ہوا جسکے پیٹ گھر کی طرح (بڑے بڑے) تھے، ان پیٹوں میں سانپ موجود تھے جو باہر سے دکھائی دیتے تھے۔ میں نے پوچھا: اے جبرائیل، یہ کون لوگ ہیں؟ کہا: یہ سودخور ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سودی نظام کا رواج بڑھتا جا رہا ہے، طرح طرح کے حیلے بہانوں سے سود لینے دینے پر اُکسایا جاتا ہے۔ دین سے اس قدر دُوری ہے کہ جب بھی کوئی مالی پریشانی ہوتی ہے تو فوراً سود پر قرضہ لینے کا خیال ذہن میں آتا ہے، اگر کسی سے اپنی پریشانی کا حل پوچھا جائے تو وہ بھی سودی قرضہ لینے کا ہی مشورہ دیتا ہے حالانکہ سودی لین دین کے بہت سے نقصانات ہیں۔ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے: جس قوم میں سود پھیلتا ہے اس قوم میں پاگل پن پھیلتا ہے۔
سود ایک صریح ناانصافی ہے، اسکے سبب تجارتوں میں کمی آتی، باہمی محبت کو نقصان پہنچتا اور خیرخواہی کا جذبہ مفقود ہو جاتا ہے۔ سودخور کسی کی بھی قرضِ حسنہ سے مدد کرنا گوارہ نہیں کرتا۔ انسانی طبیعت میں اس قدر درندگی و بے رحمی آ جاتی ہے کہ سودخور ہر وقت اپنے مقروض کی تباہی و بربادی کا خواہشمند رہتا ہے۔ سود کے سبب انسان دوسروں سے حسد کرنے لگ جاتا ہے۔ مال کا اس قدر حریص ہو جاتا ہے کہ کنجوسی کرنے پر اُتر آتا ہے، خود اپنی ذات پر بھی خرچ نہیں کرتا کہ کہیں مال کم نہ ہو جائے۔ سودخور چاہے جتنا بھی مال کما لے درحقیقت دُنیا و آخرت میں نقصان ہی اُٹھاتا ہے۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے: سود اگرچہ (ظاہری طور پر) زیادہ ہی ہو آخرکار اسکا انجام کمی پر ہوتا ہے۔
وعدہ خلافی: وعدہ نبھانے کی اہمیت سے انکار ممکن ہی نہیں، اسکے ذریعے اعتماد کی فضا قائم ہوتی ہے اور تجارتی معاملات میں اعتماد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسکے باوجود آج کل حالت یہ ہے کہ وعدہ صرف وقت گزاری کیلئے کیا جاتا ہے، مقررہ تاریخ پر رقم وغیرہ کی ادائیگی کی سرے سے ہی کوئی نیت نہیں ہوتی، جان بوجھ کر ٹرخاتے ہیں۔ بعض لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ رقم پاس ہونے کے باوجود کہہ دیتے ہیں، شام کو آنا، کل لے لینا، پرسوں ملیں گے یعنی خواہ مخواہ دوسروں کو بار بار آنے پر مجبور اور ذلیل کرتے ہیں۔ یاد رکھئے! وعدہ پورا نہ کرنے کی نیت سے اور فقط ٹالنے کیلئے جھوٹ موٹ کا وعدہ کرنا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے، جو کسی مسلمان سے عہدشکنی کرے، اس پر اللہ پاک، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اُس کا کوئی فرض قبول نہ ہو گا نہ نفل۔
ایک موقع پر ارشاد فرمایا: جو قوم بدعہدی (وعدہ خلافی) کرتی ہے اللہ پاک اُن کے دشمنوں کو ان پر مسلط کر دیتا ہے، اسکے علاوہ بھی وعدہ خلافی کے بہت سے نقصانات ہیں۔ بدعہد شخص لوگوں میں اپنا اعتماد کھو دیتا ہے، وعدہ خلافی باہمی تعلقات کو کمزور کرتی ہے، اُخوت و محبت اور ایثار و ہمدردی کے جذبات کو مجروح کرتی ہے، اسکے سبب باہمی تعلقات میں بے اطمینانی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، بدعہدی منافقت کی علامت ہے، وعدہ توڑنے والا دُنیا میں تو ذلیل و رسوا ہوتا ہی ہے، آخرت میں بھی رسوائی اسکا مقدر ہو گی۔ حدیث پاک میں ہے: اللہ رب العزت جب (قیامت کے دن) اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا تو ہر عہد توڑنے والے کیلئے ایک جھنڈا بلند کیا جائیگا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہدشکنی ہے۔
قسطوں پر کاروبار: فی نفسہٖ قسطوں پر کاروبار کرنا بالکل جائز ہے کہ یہ ادھار فروخت کی ایک صورت ہے اور کسی چیز کو بیچتے وقت باہمی رضامندی سے جتنی قیمت چاہیں مقرر کر لیں اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں جب تک کوئی ایسی صورت نہ پائی جائے جو اسلامی اُصولوں کیخلاف ہو۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ترجمہ کنزالایمان: ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھائو مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضامندی کا ہو‘‘۔ (پ5، سورۃ النساء29)مگر افسوس ہمارے زمانے میں اس کاروبار کی کئی ایسی صورتیں رائج ہو چکی ہیں جو ناجائز و حرام ہیں مثلاً (۱)معاہدہ (ایگریمنٹ) کرتے ہوئے یہ شرط لگانا کہ اگر وقت پر قسط ادا نہ کی گئی تو جرمانہ ادا کرنا پڑیگا۔ یہ ظلم و زیادتی اور تعزیز بالمال (مالی جرمانہ) ہے جو اسلام میں جائز نہیں۔ ردالمختار میں ہے، تعزیر بالمال ابتدائے اسلام میں تھی پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا، اور منسوخ کا حکم یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا حرام ہے۔ (۲) قسطوں پر شے بیچی مگر ساتھ یہ کہہ دیا کہ جب تک تمام قسطیں ادا نہیں ہو جاتیں آپ اس شے کے مالک نہیں، یہ شرط ناجائز ہے کیونکہ شریعت کے اعتبار سے جب کئی چیز پر ایجاب و قبول ہو جائے اور شے خریدار کے قبضے میں چلی جائے تو وہ مالک ہو جاتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے، بیع کا حکم یہ ہے کہ مشتری مبیع (خریدی ہوئی چیز) کا مالک ہو جائے اور بائع ثمن (قیمت) کا۔ (۳)کرایہ اور چیز کی قیمت کو جمع کرنا، یعنی کسی چیز کی اس طرح قسطیں کرنا جوکہ اسکی قیمت اور کرایہ دونوں پر مشتمل ہوں، اسکی صورت یوں بنے گی، ایک موٹرسائیکل دوہزار ماہانہ قسط پر بیچی، اس میں طے یہ کیا کہ ایک ہزار موٹرسائیکل کی قیمت کی مد میں اور ایک ہزار کرایہ کی مد تو یہ طریقہ ناجائز ہے کیونکہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک سودے میں دو سودے کرنے سے منع فرمایا ہے۔
نیلامی کی بیع: باہمی رضامندی کیساتھ نیلامی کی صورت میں کسی چیز کی خریدوفروخت کرنا جائز ہے مگر اس میں بھی کئی ناجائز صورتیں آ چکی ہیں، آج کل جو صورت بہت عام ہو چکی ہے وہ یہ کہ فقط شے کی قیمت بڑھانے کیلئے بولی لگائی جاتی ہے، خاص اس کام کیلئے آدمی رکھے جاتے ہیں جنہوں نے وہ شے تو خریدنی نہیں ہوتی بس دوسروں کو اس چیز کی زیادہ قیمت دینے پر اُبھارنا ہوتا ہے۔ صدر الشریعہ، بدرالطریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمدامجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نجش مکروہ ہے، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا، نجش یہ ہے کہ مبیع قیمت بڑھائے اور خود خریدنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہو اور قیمت سے زیادہ دیکر خرید لے اور یہ حقیقتاً خریدار کو دھوکہ دینا ہے۔
جعلی مہر: بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ صورت بھی بہت رائج ہوتی چلی جا رہی ہے کہ شے تیار ہوتی ہے پاکستان میں مگر اس پر مہر (سٹمپ) لگتی ہے میڈ اِن جاپان یا میڈ اِن کوریا وغیرہ، یہ سیدھا سیدھا جھوٹ اور دھوکہ ہے جوکہ ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانیوالا کام ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ کنزالایمان: ’’جھوٹوں پر اللہ کی لعنت‘‘۔ (پ3، سورۃ آل عمران،61)  دھوکے کے متعلق سرکارِ عالی وقار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں۔ خیال رہے! اس کام میں کئی افراد گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ جعلی مہر لگانے والا، اسے بنانے والا، شے پر لگانے والا اور وہ دکاندار جو یہ شے آگے جھوٹ بول کر بیچتا ہے۔ 
جعلی بل: پرچیزنگ آفیسر کا زیادہ بل بنوانا مثلاً 100 کی چیز کا 110 میں بل بنوانا اور اضافی رقم اپنے پاس رکھنا یہ حرام ہے کہ یہ دھوکہ ہے۔ دکاندار کا ایسا بل بنا کر دینا بھی حرام کیونکہ وہ گناہ میں معاونت کر رہا ہے جوکہ حکم قرآنی (’’لَاتَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ‘‘ (پ6، سورۃ المائدہ2) ترجمہ کنزالایمان ’’گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو‘‘) کے صریح خلاف ہے۔ اسی طرح ایکسپورٹ کے کاروبار میں جعلی بل بنا کر یا کسی سے بل خرید کر زیادہ خریداری دکھانا تاکہ حکومت سے زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جائے حرام ہے۔ اس طریقے سے لئے گئے نفع کا کوئی استعمال جائز نہیں بہرصورت حکومت کو واپس کرنا ہی ہو گا۔
مضاربت اور شراکت کی ناجائز صورتیں: مضاربت میں رَاس المال (سرمایہ) کا نقدی کی صورت میں ہونا ضروری ہے، اگر اسکی جگہ دوبوری گندم دیکر کہا کہ اس سے کاروبار کرو تو یہ ناجائز ہے۔ (۲)اسی طرح رَاس المال کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے کہ کتنا ہے، اگر کسی نے تھیلے میں پیسے ڈال کر دیدئیے، اب نہ دینے والے کو پتا کہ کتنا ہے اور نہ لینے والے کو تو یہ جائز نہیں۔ (۳)مضاربت میں یہ شرط لگانا کہ نقصان دونوں کا ہو گا یا صرف مضارب کا ہو گا ناجائز ہے کیونکہ مکمل خسارہ رب المال (انویسٹر) نے برداشت کرنا ہوتا ہے۔ کاروبار میں نفع ہوا ہے تو نفع سے پورا کیا جائیگا ورنہ سرمائے سے پورا کیا جائیگا لہٰذا ایسی کسی شرط کا کوئی اعتبار نہیں، یہ شرطِ فاسد ہے… البتہ اس کی وجہ سے مضاربت فاسد نہیں ہوتی۔ (۴)فریقین کا نفع عدد کے حساب سے مقرر کر لینا کہ ہر مہینے دو ہزار یا سالانہ پچیس ہزار یہ ناجائز ہے کیونکہ نفع فیصد کے حساب سے طے کیا جانا ضروری ہے۔ کوئی کاروبار پہلے ہی سے شروع ہے اب اس میں شرکت کرنا یہ بھی جائز نہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ شرکت بالمال میں دونوں طرف سے نقدی کا ہونا ضروری ہے، اگردونوں طرف سے سامان ہو یا ایک طرف سامان اور ایک طرف سے نقدی تو شرکت جائز نہیں مثلاً ایک شخص کی کریانہ کی دکان ہے جس میں آٹا، دال، چاول وغیرہ بہت سی چیزیں موجود ہیں اور اسکا کام بھی چل رہا ہے اب اس نے شرکت کیلئے کسی سے ایک لاکھ روپے لیکر دکان میں شامل کرلئے یہ ناجائز ہے کیونکہ اسکا ایک لاکھ روپیہ کن کاموں میں لگا اسکا کتنا نفع اور کتنا نقصان ہوا اسکا حساب چلتے ہوئے کام میں رکھنا بہت مشکل ہے۔ محیط برہانی میں ہے، شرکت جب مال کیساتھ ہو تو شرکت عنان اور مفاوضہ جائز نہیں مگر جبکہ دونوں کا مال وہ ثمن ہو جو عقودِ مبادلہ میں متعین نہیں ہوتے جیسے درہم و دینار اور جو چیزیں عقودِ مبادلہ میں متعین ہو جاتی ہیں جیسا کہ سامان تو اس میں شرکت درست نہیں، چاہے یہ سامان دونوں کا رَاس المال ہو یا ان میں سے کسی ایک کا ہو۔ ہاں اگر اس نے ان روپیوں میں کوئی نئی آئٹم لا کر رکھ لی اور اسکا حساب بھی الگ ہی رکھتا ہے تو جائز ہے۔ مجہول کمپنی کا حصہ دار بننا، اسکی صورت یہ ہے کہ مارکیٹ میں بعض کمپنیاں انائونس ہوتی ہیں کہ فلاں کمپنی مارکیٹ میں اپنے شیئر لا رہی ہے، اسکے شیئر بکنا شروع ہو جاتے ہیں حالانکہ اس کمپنی کا وجود ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی اسکے اثاثے وجود میں آئے ہوتے ہیں جبکہ مارکیٹ میں پرچیاں بک رہی ہوتی ہیں، اسکے جواز کی بھی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ خریدوفروخت کی شرائط میں سے ہے کہ جو چیز بیچی جا رہی ہو وہ موجود بھی ہو۔ 

 

تازہ ترین خبریں