07:22 am
سمندر میں طوفان، سڑکوں پر’سونامی‘

سمندر میں طوفان، سڑکوں پر’سونامی‘

07:22 am

٭کراچی، سمندری طوفان، اسلام آباد آزادی مارچ کی سونامی، لاٹھیوں کی جگہ کلاشنکوفیںO اسلام آباد جا کر بتائیں گے، کیا کرنا ہے:مولانا فضل الرحمانO اپنی مرضی کی جگہ پر جلسہ کریں گے: اکرم درانیO نوازشریف: بلاول اور فضل الرحمان سے ملاقات سے انکارO اسلام آباد ہائی کورٹ: میڈیا کے خلاف پیمرا کی پابندیاں معطلO پنجاب: بلدیاتی انتخابات،7 ماہ بعدO سلمان شہباز اشتہاری، اثاثوں کی قرقی کا حکمO ساہیوال سانحہ: ملزموں کی بریت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل دائر۔
٭آزادی مارچ کا جلوس آج اسلام آبادپہنچنے والا ہو گا۔31 اکتوبر کو جلسہ ہو گا۔ مارچ کا جلوس کل (29 اکتوبر) کوملتان سے لاہور روانہ ہو رہا تھا۔ اس میں کراچی، سکھر اور ملتان کے علاوہ بلوچستان سے آنے والے سات ہزار مظاہرین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ کلاشنکوفیں لہراتے ہوئے 873 گاڑیوں میں آئے۔ پنجاب اور سندھ اورپختونخوا سے آنے والی ہزاروں گاڑیوں کی آمد اپنی جگہ، صرف بلوچستان کی بیک وقت 873 گاڑیاں اسلام آباد میں کیسے داخل ہو سکیں گی؟ ایک اندازے کے مطابق پشاور، لاہور، فیصل آباد، آزاد کشمیر وغیرہ سے آنے والی ہزاروں گاڑیوں کی آمد سے اسلام آباد کے چاروں طرف سے دس پندرہ کلو میٹر تک گاڑیاں پھیل جائیں گی، آگے نہیں بڑھ سکیں گی، ان میں سوار افراد کو بھاری سامان (بستر، چولہے، راشن وغیرہ) اٹھا کر کئی کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا ہو گا۔ اسی طرح واپسی ہو گی۔ ان گاڑیوں کے دھوئیں اور زہریلی گیسوں سے ہر شہر، خاص طور پر اسلام آباد کے نواحی علاقوں میں جو زہریلی آلودگی اور اذیت ناک بیماریاں پھیلیں گی، ان کا معاملہ بعد میں، اس وقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک آزادی مارچ کے اصل مقاصد اور محرکات سامنے نہیں آئے۔ مولانا فضل الرحمان کہہ رہے ہیں کہ اسلام آباد کے جلسے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے۔ ان کا بنیادی مطالبہ تو عمران خان کے وزیراعظم کے عہدے کا استعفا ہے۔ نئے انتخابات وغیرہ کے مطالبات رسمی قسم کے ہیں۔ ملک میں اس وقت کسی بڑی بحرانی پوزیشن اور برداشت کا ماحول موجود نہیں (انتخابات پر 25 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں)۔ مولانا نے ابتدا میں ناموس رسالت کے تحفظ کا نعرہ لگایا تھا، وہ بھی ایک طرف رکھ دیا گیا ہے۔ کشمیر ریلی بھی بھول گئی ہے۔
اب ذراعملی حقائق کی طرف! آزادی مارچ کے بارے میں اس کی انتظامیہ نے جو ہدائت نامہ جاری کیا ہے اس میں اسلام آباد میں تقریباً 12 روز کا راشن ساتھ لانے کو کہا گیا ہے۔ اتنے روز تمام شرکاء اپنا کھانا تیار کریں گے یا اردگرد کے ہوٹلوں میں جائیں گے۔ ابتدائی اعلانات کے مطابق 30 لاکھ افراد نے اسلام آباد پر قبضہ کرنا تھا۔ پھر یہ تعداد 15 لاکھ کر دی گئی، اب اسے ایک سے ڈیڑھ لاکھ بتایا جا رہا ہے۔ ایک لاکھ کی تعداد بھی غیر معمولی ہوتی ہے۔ لاہور کا کرکٹ سٹیڈیم پوری طرح بھر جائے تو تعداد 35 ہزار ہوتی ہے۔ حکومت کی طرف سے جو شرائط جاری کی گئی ہیں، ان کے مطابق کوئی شخص جلسہ گاہ سے باہر نہیں جا سکتا، لیکن یہ رسمی بات ہے۔ ہجوم زیادہ ہوا تو باہر نکلنے پر کون روک سکے گا؟ مارچ کے ذمہ داران بار بار آئین اور قانون کی حدود میں رہنے کا اعلان کرتے آ رہے ہیں مگر آئین اور قانون پسندی کا عالم یہ ہے کہ مارچ میں شامل ہجوم نے کراچی سے لاہورتک کسی جگہ روڈ ٹیکس نہیں دیا۔ یہ لوگ ہر جگہ ٹول پلازے (محصول چونگیاں) زبردستی پار کرتے رہے اور سرکاری خزانے کو لاکھوں، کروڑوں کے ٹیکس سے محروم کر دیا۔ اسلام آباد کے مکینوں کو یاد ہے کہ ڈی چوک میں عمران خان کی تحریک انصاف اور مولانا طاہر القادری کی عوامی تحریک کے طویل دھرنوں کے دوران ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگ گئے۔ بلدیہ نے ہزاروں من کچرا اٹھایا۔ رفع حاجت کے لئے دور تک کھودی جانے والی گہری نالیاں غلاظت سے بھر گئیں۔ اس سے یہ دھرنے ختم ہونے کے بعد بھی کئی ہفتوں تک اسلام آباد شہر شدید تعفن میں مبتلا رہا۔ اب صورت حال زیادہ ابتر دکھائی دے رہی ہے۔ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے۔ اپنے رہنمائوں کی عقیدت سے سرشار افراد نے پہلی بار کراچی سے اسلام آباد کا تقریباً 1500 کلو میٹر کا سفر گاڑیوں میں ہچکولے کھاتے پانچ دنوں میں طے کیا ہے۔چار دنوں کا یہ سفر رکے بغیر تقریباً 28 گھنٹے کا بنتا ہے۔ اتنے طویل اور تھکا دینے والے سفر سے چُور ہزاروں لاکھوں افراد کو اسلام آباد میں کوئی آرام دہ رہائش حاصل نہیں ہو گی۔ اسلام آباد میں رات کو سخت سردی ہوجاتی ہے۔ یہ لوگ کھلے آسمان تلے سوئیں گے۔ان کے وضو کرنے اور نہانے دھونے کا کیا انتظام ہو گا؟ سکھرمیں انہیں عام روٹی اور چنے کھلائے گئے، اب کیا کھائیں گے! چلیں! یہ سب کچھ ہو جائے گا، مگر عمران خان نے استعفا نہ دیا تو پھر؟ ایک بات یہ کہ مظاہرین کو کراچی اور کوئٹہ اور دوسرے شہروں سے صرف ایک طرف کے سفرکے لئے کرایہ کی گاڑیاں لینے کو کہا گیا ہے۔ ’لاکھوں‘ افراد جلوس کی شکل میں تو آ گئے، بیک وقت واپس کیسے جائیں گے؟ قارئین کرام! یہ باتیں سوچ سوچ کر سر درد شروع ہو گیا ہے۔ باقی باتیں آپ خود سوچ لیں۔
٭پیمرانے اپنی طاقت دکھانے کے لئے کیا تماشا لگا  رکھا ہے۔ پابندی لگا دی کہ فضل الرحمان کی تقریر نشر یا شائع نہیں ہو گی۔ پرانی مثال مشہور ہے کہ کسی غریب راہ گیر کو راستے میں چاندی کا پیالہ ہاتھ آ گیا۔ اس نے اس میں اتنا پانی پیا کہ پیٹ پھول گیا۔ معاملہ یہ ہے کہ ملک میں پہلی بار ایسی حکومت آئی ہے کہ ایک سال سے زیادہ ہو گیا، اس کا کوئی وزیرخزانہ، کوئی وزیر اطلاعات نہیں۔ اس کے سات وزیر جنرل مشرف کے بھی وزیر تھے جو جمہوریت کے خاتمہ اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی معطلیوں اور نظر بندیوں پر تالیاں بجاتے اور جنرل مشرف کو مبارکبادیں دیا کرتے تھے۔ اب یہی لوگ عمران خان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، کسی نے کبھی دبئی میں پھنسے ہوئے شدید بیمار سابق باس مشرف کا حال بھی نہیں پوچھا۔ ایک بی بی پہلے پیپلزپارٹی کی وزیراطلاعات تھی۔ کابینہ کے جلسوں میں آنسوئوں سے روتی تھی کہ افسر اس کا حکم نہیں مانتے، ہروقت’زرداری صاحب زندہ باد‘ کی تسبیح پڑھتی تھی، اب وزیر مشیر بھی نہیں صرف معاون خصوصی کی حیثیت سے صبح شام عمران خان زندہ باد کے نعرے لگا رہی ہے۔ اسے پیپلزپارٹی نے عروج دیا، گزشتہ روز اس کا بلاول کو طعنہ سن کر افسوس ہوا کہ پیپلزپارٹی تو دفن ہو چکی، تم اس کی کیا باتیں کر رہے ہو؟ عین ممکن ہے کسی اگلی حکومت میں یہ بی بی عمران خان کو بھی یہی طعنہ دے رہی ہو!
٭پنجاب کی حکومت نے سانحہ ساہیوال کے چھ مجرموں کی بریت کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تمام گواہوں کے منحرف ہوجانے اور استغاثہ کی طرف سے کوئی ثبوت پیش نہ کئے جانے پر ملزموں کو بری کر دیا تھا۔ حکومت کی اپیل میں اس فیصلہ کے سات اہم نقائص بیان کئے گئے ہیں۔ یہ کہ ٹرائل عدالت نے وڈیو کو نظر انداز کیا، گواہوں کو تحفظ نہیں دیا گیا، عدالتی کارروائی اِن کیمرہ نہیںہوئی، فرانزک ثبوتوں کو اہمیت نہیں دی گئی، منحرف گواہوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی، جے آئی ٹی رپورٹ میں ملزموں کے تعین کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ یہ ساتوں نکات بہت اہم ہیں، ان میں ایک نکتہ ہمیشہ نظر انداز ہوتا آیا ہے وہ یہ کہ جو گواہ عدالت میں بیان دے کر پھر اس سے منحرف ہو جاتے ہیں، انہیں جھوٹے گواہ قرار دے کر ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
٭اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے سابق سنیٹر حمداللہ کو غیر ملکی قرار دینے کے فیصلہ کو دو ہفتے کے لئے معطل کر دیا۔ حمداللہ، ان کے والدین اور بچے تو پیدا ہی پاکستان میں ہوئے، میں تو افغانستان سے آئے ہوئے اور تقریباً 40 برسوں سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو پاکستانی قرار دیتا ہوں۔ ان لوگوں کو شناختی کارڈ نہیں دیا جاتا، ان کے بچے کسی بڑے تعلیمی ادارے میں داخلہ یا سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتے۔ 40 سال کے بعد بھی مہاجر!

تازہ ترین خبریں