10:10 am
(گزشتہ سے پیوستہ)

(گزشتہ سے پیوستہ)

10:10 am

ان دونوں الفاظ ہادی اور نذیر پر غور کرتے ہوئے یہ بات ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ ہر لفظ کے کچھ مضمرات ہوتے ہیں۔ لفظ ھاد یا ھادی (ہدایت دینے والا) ایک عام لفظ ہے۔ اسی طرح سے  نذیر (خبردار کرنے والا)بھی ایک عام لفظ ہے۔ یہ دونوںلفظ ایسے شخص کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں جو حقائق سے آشنا ہو جائے چاہے وہ از خود ہی آشنا ہوا ہو۔قرآن مجید میں اس کی ایک بڑی اہم مثال حضرت لقمان کی ہے۔آپ نہ نبی تھے نہ رسول تھے اور نہ ان کے بارے میں کسی نبی یا رسول کے امتی  ہی ہونے کا کوئی ثبوت ہے۔ وہ بس ایک سلیم الفطرت سلیم العقل انسان تھے۔ اس سلیم الفطرت انسان نے اپنی عقل سلیم کی راہنمائی میں غور و فکر اور سوچ بچار کے ذریعے ان تعلیمات تک رسائی حاصل کر لی جو قرآن مجید کی بنیادی تعلیمات ہیںیعنی توحید اور معاد ۔ نیکی اور بدی کا شعور بھی اللہ تعالی نے ہر انسان میں ودیعت کر دیا ہے۔ نبوت اور کتاب درحقیقت ہدایت ِخداوندی کی معین شکلیں ہیں لیکن ہدایت خداوندی اور انذار صرف نبوت اور کتاب کے ساتھ وابستہ نہیں ہے بلکہ ایک حکیم اور دانا انسان بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے غور و فکر کے نتیجے میں ان حقائق تک پہنچا ہو اور اپنے ان حقائق اور اپنی علمی اور عقلی یافت کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کر رہا ہو انہیںنیکی کی تلقین کر رہا ہولیکن بہر حال نبی اور رسول چار ہزار سال تک جو بھی آیا حضرت ابراہیمؑ کی نسل میں آیا ہے۔
 
یہ آیت مبارکہ ان الفاظ پر ختم ہوتی ہے :پس ان میں ہدایت یافتہ بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔
جب تک حضرت ابراہیمؑ نہیں آئے حضرت نوح ؑ کی نسل میں نبوت و کتاب رہی۔ حضرت ابراہیم کے بعد انہی کی نسل میں نبوت و کتاب کو مخصوص کر دیا گیا لیکن چاہے وہ ذریت ِنوح ہو یا ذریت ِابراہیم  یہ سب کے سب نیک لوگ نہیں تھے۔ان میں سے کچھ وہ بھی ہوئے جنہوں نے راہ ہدایت اختیار کی ہدایت یافتہ ہوئی جبکہ ان میں سے بہت سے وہ ہیں کہ جنہوں نے اس راستے کو چھوڑا اس سے اعراض وانحراف کیا بدعات اور طرح طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اور مشرکانہ اوہام میں مبتلا ہوگئے۔
یہاں یہ بات واضح کر دی جائے کہ ہمارے ہاں سیدزادے کا مخصوص تصور پایا جاتا ہے۔ سید زادہ وہ شخص کہلاتا ہے جس کا نسلی رشتہ کسی نہ کسی طرح حضرت فاطمہؓاور حضورﷺ تک پہنچ رہا ہو۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل بھی پیغمبروں کی اولاد ہیں۔ وہ حضرت ابراہیم ، ان کے بیٹے اسحاق اور ان کے بیٹے یعقوب اور پھر حضرت یعقوب کے گیارہ بیٹوں کی اولاد ہیں۔ لیکن قرآن کہتا ہے کہ وہ سارے ہدایت یافتہ نہیں ہیں۔ اگرچہ اللہ نے ان میں کتابیں بھی بھیجیں، ان میں نبی اور رسول آئے لیکن اولاد ابراہیم میں سے کچھ ہی ہدایت یافتہ تھے۔ ان میں سے بڑی تعداد نافر مانوں پر مشتمل تھی۔ ان پر اللہ کا غضب ہوالہذا یہ ضروری نہیں ہے کہ جس کانبی اور رسول کے ساتھ کوئی نسبی رشتہ جڑ گیا تو اب وہ پاک صاف ہے ۔ وہ بڑی روحانی شخصیت ہے، چاہے شرابی اور بدکار کیوں نہ ہو۔کنعان حضرت نوح کا بیٹا تھا۔ کیا وہ ان کے سامنے غرق نہیں ہوا۔ پس آدمی کا انجام اس کے عمل کے اعتبار سے ہو گا،   نہ کہ حسب نسب کی بنیاد پر۔
پھر ان کے پیچھے انہی کے قدموں پر(اور)پیغمبر  بھیجے اور ان کے پیچھے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ  کو بھیجا اور ان کو انجیل عنایت کی۔حضرت نوحؑ کے بعد بھی بہت سے رسول آئے، پھر حضرت ابراہیمؑ آئے۔پھرنسل ابراہیمی کی ایک شاخ بنی اسرائیل میں بہت سے رسول آئے ۔ اس شاخ میں آخری نبی اور رسول حضرت عیسیٰ ؑ   تھے (جو نبی آخر الزمانﷺ سے پہلے تشریف لائے ) ۔ چنانچہ کسی اور کا ذکر نہیں کیا۔انہی کا ذکر کر دیا۔ 
اب آگے براہِ راست عیسائیت کا تذکرہ ہے۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں شفقت اور مہربانی ڈال دی۔
حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کے متعلق فرمایا کہ ان کے ہاں بڑی رقت قلبی تھی، رافت اور نرمی تھی، وہ اللہ کے سامنے سر بسجود رہتے تھے۔ انہی میں سے وہ بھی تھے جنہیں نجاشی نے حضور ﷺ کی خدمت میںایک بڑے دفد کی صورت میں بھیجا تھا۔ آپؓنے ان کو قرآن مجید کی آیات پڑھ کر سنائیں توان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے تھے۔ بحیرہ راہب بھی ایسے ہی لوگوں میں سے  تھا۔ یہود کے دل تو بہت سخت ہو گئے تھے مگر حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کے اندررافت و رحمت موجود تھی اور ابتدائی دور میں تو یہ بہت نمایاں تھی۔ 
اس کے بعد فرمایا: اورلذت سے کنارہ کشی کی تو انہوں نے خود ایک نئی بات نکال لی۔ ہم نے ان کو اس کا حکم نہیں دیا تھا، مگر(انہوں نے اپنے خیال میں) اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے(آپ ہی )ایسا کر لیا تھا پھر جیسا اس کو نباہنا چاہیے تھا نباہ نہ سکے۔ پس جو لوگ ان میں سے ایمان لائے ان کو ہم نے ان کا اجر دیا اور ان میں بہت سے نا فرمان ہیں۔    (جاری ہے)

تازہ ترین خبریں