10:11 am
یونیورسٹی آف بلوچستان سیکیورٹی کیمروں کا ناجائز استعمال

یونیورسٹی آف بلوچستان سیکیورٹی کیمروں کا ناجائز استعمال

10:11 am

بلوچستان میں بدقسمتی سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے پابندی کی حد تک مشکلات رہی ہیں ۔ضلعی ہیڈ کوارٹر سے نیچے کسی بھی شہر میں ہائی سکول کا سوچنا بھی غلط تھا۔ اگر سکول ہے تو اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں مقامی وڈیرے ،  سردار یا نواب کے جانور باندھے جاتے۔ ان تمام حالات کا ذکر میں نے اپنے ایک سے زیادہ کالموں میں کیا۔اساتذہ بھرتی ہوتے ہیں وہ 80,80ہزارروپے تنخواہ بھی لے رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنے طور پر پانچ چھ ہزار ماہوار پر اپنی جگہ پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ملازم رکھا ہوا ہے۔وہ کلاسیں لیتے ہیں جن کی اپنی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ سب کچھ مقامی تعلیم دشمن کی حوصلہ افزائی کے لئے ہو رہا تھالیکن آج میں بلوچستان کی سب سے پرانی یونیورسٹی آف بلوچستان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔دسمبر2013ء تک یونیورسٹی آف بلوچستان میں جنگل کا قانون ہوتا تھا بلکہ اگر یہ لکھا جائے کہ وہاں کوئی قانون اور قائدہ تھا ہی نہیں تو زیادہ بہتر ہوگاکیونکہ جنگلوں کا بھی کوئی نہ کوئی قانون ہوتا ہے۔وہاں جو طالبعلم پڑھنے آتے تھے وہ بلوچ پگڑیوں ،  لمبے لمبے بالوں کے ساتھ کلاشنکوف اٹھانے کے علاوہ پانچ چھ کلاشنکوف والے گن مین کو بھی ساتھ لاتے تھے اور کسی کی جرأت نہیں تھی کہ ان کو منع کر سکے کیونکہ وہ تمام طالبعلم سرداروں اور نوابوں کے صاحبزادے تھے۔ایسے حالات میں اساتذہ کا پڑھانا اور عام گھرانوں کے بچوں کا پڑھنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔خاص طور پر لڑکیوں کا تو یونیورسٹی کے پاس سے گزرنا بھی مشکل تھا۔2013ء میں اس پوری یونیورسٹی میں طالبعلموں کی ٹوٹل تعداد صرف 2900تھی۔لیکن آج بلوچستان یونیورسٹی کی تعداد 15000ہے۔ 
 
دسمبر2013ء کو یونیورسٹی آف بلوچستان کا وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر جاوید اقبال کو لگایا گیا تو انہوں نے آتے ہی دو نعرے لگائے۔پہلا ’’تعلیم سب کے لئے‘‘ اور دوسرا ’’یونیورسٹی کے اندر اسلحے کی نمائش ممنوع‘‘۔ پھر تاریخ گواہ ہے کہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس پر عمل درآمد کر کے بھی دکھایا۔ان سے پہلے یونیورسٹی میں طالب علموں کے علاوہ عام لوگوں کا آنا اور پوری یونیورسٹی میں آزادی سے گھومنا معمول کی بات تھی۔یونیورسٹی میں طالبات کے داخلے سے لوگ ڈرتے تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے پاک فوج اور ایف سی کو اعتماد میں لیااور یونیورسٹی کے تمام حالات سے آگاہ کیا۔ایف سی نے بھی پوری دیانتداری سے وائس چانسلر کے ساتھ تعاون کیا۔یونیورسٹی سے کلاشنکوف کلچر کو ختم کیا۔آوٹ سائیڈر یا غیر طالب علموں کا داخلہ بالکل بند کر دیا۔یونیورسٹی کی لائبریری کو وسیع کیا۔طالبات کو اپنی حقیقی بیٹی کا درجہ دیتے ہوئے ان کے اندر اعتماد اور حوصلہ پیدا کیا۔صرف یہی نہیں بلکہ طلباء کو بھی یہ احساس دلایا کہ آپ کے ساتھ پڑھنے والی طالبات آپ کی بہنوں کی طرح ہیں ۔ اس کا مظاہرہ میں نے اپنی آنکھوں سے کوئٹہ میں دیکھا۔ میں اپنے بیٹے کے گھر رہائش پذیر تھاتو پتہ چلا کہ ایک دن آرمی کے ساتھ ایک تقریب میں کوئٹہ شہر سے تقریباً 20کلومیٹر دور فائرنگ رینج میں بلوچستان یونیورسٹی کے دو ہزار طالبعلم آ رہے ہیں ۔ ان میں ایک ہزار طالبات اور ایک ہزار طلباء ہونگے اور یہ پاک آرمی کی جنگی مشقیں دیکھیں گے۔ 
اس وقت کمانڈر سدرن کمانڈ ناصر خان جنجوعہ تھے اور آئی جی ایف سی جنرل شیر افگن تھے۔میں جنرل آفتاب احمد خان کے ساتھ فائرنگ رینج میں پہنچا تو اتنے میں طلباء و طالبات بھی پہنچ گئے۔طالبات کو ٹینک چلانے کی دعوت دی گئی۔اسی طرح پسٹل فائر سے لے کر C-3رائفل اور توپ تک گولے طالبات نے چلائے۔طلباء بھی اپنی اپنی فیلڈ میں یہی دھماکے کرتے رہے۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال ساتھ ساتھ رہے۔پھر دوپہر کا کھانا ایک بہت بڑی مارکی میں اکٹھا ہی تھالیکن خدا گواہ ہے میں نے کہیں بھی ایسا محسوس نہیں کیا کہ کوئی لڑکوں کا آوارہ گروہ لڑکیوں کی طرف اشارے کر کے بات کر رہا ہو۔ بالکل ایک فیملی فنکشن لگ رہا تھا۔یہ سب کچھ ایک اچھی تربیت اور بہترین ڈسپلن کی بات تھی۔اسی ڈسپلن سے متاثر ہو کر بلوچستان کے لوگوں نے دھڑا دھڑ اپنی بیٹیوں کو اس یونیورسٹی میں داخلہ دلوانا اپنے لئے فخر اور اعزاز سمجھا۔یونیورسٹی آف بلوچستان میں طالب علموں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے پھر خاران،  مستونگ،  پشین اور قلعہ سیف اللہ میں اس یونیورسٹی کے کیمپس کھولے گئے اور بہترین نظم و نسق کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی سے چل رہے تھے کہ اچانک کیمروں کے غلط استعمال کا اسکینڈل سامنے آگیا۔
سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کے مطابق 92کیمرے یونیورسٹی انتظامیہ کے اجازت سے لگے ہوئے تھے اور صرف چارکیمرے یونیورسٹی کی منظوری کے بغیر لگے ہوئے تھے۔یہ ان لوگوں کی ہی کارستانی ہو سکتی ہے جو روزِ اول سے بلوچستان میں تعلیم کے مخالف رہے ہیں ۔ان میں پی ٹی ایم کے ورکر بھی ہو سکتے ہیں ۔وہ کسی حد تک اپنی سازش میں کامیاب نظر آتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کی تاریخ میں پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال جیسا نظم و ضبط کا ماہر،  انسان دوست اور ممتاز ماہر تعلیم شاید ہی پہلے آیا ہو۔ان کے دور میں یونیورسٹی کو ترقی کے زینے چڑھتے ہوئے دیکھ کر ان کو بدنام کرنے کے لئے ایک بہت منظم سازش کی گئی جو لوگ اس حرکت میں ملوث ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ایسے کیمرے لگانا ماہر کاریگروں کاکام ہے اور کوئی بھی وائس چانسلر لیول کا شخص اتنے چھوٹے کاریگروں کے ساتھ شریکِ جرم نہیں ہو سکتا۔انہوں نے جس محنت سے یونیورسٹی کو ترقی دی ہے ملک دشمن اور خاص کر بلوچستان دشمن ان کو اس عہدے سے ہٹانا چاہتے تھےلیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ان کو اس عہدے سے ہٹانا بلوچستان دشمنی کے زمرے میں آئے گا۔انہوں نے خود استعفیٰ دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کا استعفیٰ منظور نہ کیا جائے۔انہیں فی الفور اپنے عہدے پر بحال کر کے ان کو اگلا کنٹریکٹ بھی دیا جائے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان،  بلوچستان اور تعلیم دشمن قوتیں جیت جائیں گی۔ترقی پسند اور خاص کر بلوچستان دوست قوتیں ہار جائیں گی۔
اس وقت یونیورسٹی میں تقریباً 500اساتذہ ہیں ۔ ان میں بھی مختلف مکتبۂ ٔ فکر کے لوگ ہیں اور15000طالبعلم ہیں جو مختلف تنظیموں کے پیروکار ہیں اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایف سی کو یونیورسٹی سے ہٹایا جائے۔تمام طلباء تنظیموں کو بحال کر کے ان کو آزاد انہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے دیا جائے جو کسی بھی صورت اس بڑے تعلیمی ادارے کے لئے فائدہ مند نہیں  بلکہ تمام محنت کے پھل کو آگ میں پھینکنے کے مترادف ہوگا۔ 

تازہ ترین خبریں