10:13 am
آزادی مارچ اسلام آباد میں

آزادی مارچ اسلام آباد میں

10:13 am

٭پاک افغان سرحد پر دو طرفہ فائرنگO آزادی مارچ اسلام آباد میں، آج جلسہ ہو گاO نوازشریف کی دو ماہ کی ضمانتO داعش کا ہلاک شدہ سربراہ ابوبکر بغدادی سمندر بردO سید خورشید شاہ، 100 جعلی اکائونٹ دریافتO وفاقی کابینہ، وزیرآپس میں لڑ پڑےO بھارت کی ریاست منی پور کی بغاوت، علیحدگی کا اعلانO ڈاکٹروں کی ہڑتال، 20 واں دنO تاجروں کی ہڑتال دوسرادنO اسلام آباد ہائی کورٹ پیمرا پر سخت برہمO صبح سے لوڈ شیڈنگO کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ، تین شہری زخمی، لاہور۔ صبح سے شام تک لوڈ شیڈنگ!
 
٭ایک عرصہ کے بعد پھر افغانستان کی فوج نے پاکستان کے چترال کے علاقہ روندد پر فائرنگ کر دی۔ 6 فوجی جوان اور چھ شہری زخمی ہو گئے۔ پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ، افغان چوکیوں کو شدید نقصان۔ افغان فوج کی یہ واردات نئی نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر حفاظتی باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ افغان حکمران ڈیورنڈ لائن نام کی اس سرحد کو تسلیم نہیں کرتے۔ اس باڑ کی تنصیب کے دوران افغان فوج کئی بار فائرنگ کر چکی ہے جس سے پاکستان کے متعدد فوجی جوان شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ افغانستان کا عارضی بھارتی کٹھ پتلی صدر جب بھی پاکستان کا دوستانہ دورہ کرتا ہے، اس کے بعد پاکستان پر فائرنگ ہونے لگتی ہے۔ افغانستان کے صدارتی انتخابات ہو چکے ہیں مگر ابھی تک نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
٭مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ بالآخر اسلام آباد پہنچ گیا۔ آج جلسہ ہو گا۔ جلسہ کے لئے پشاور موڑ کے نزدیک کھلی جگہ دی گئی ہے۔ اس میں سٹیج بن چکا ہے۔ چھ ہزار واش روم بھی بنا لئے گئے ہیں۔ آزادی مارچ کا جلوس 27 اکتوبر کو کراچی سے مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں شروع ہوا اور مختلف مقامات پر رات کے قیام اور جلسوں سے خطاب کرتا سکھر، ملتان، ساہیوال، لاہور اور گوجرانوالہ وغیرہ سے ہوتا ہوا کل شام راولپنڈی اور آج اسلام آباد پہنچنے والا تھا۔ اس میں بہت بڑی تعداد میں مظاہرین شامل ہیں۔ جلوس کے منتظمین تعداد لاکھوں میں مگر سرکاری طور پر ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔ ملتان سے ایک اخباری رپورٹ کے مطابق آزادی مارچ کے تمام ارکان اپنے ساتھ تقریباً 20 دنوں کے لئے بِستر، آٹا، گھی، دالیں، پانی، چولہے، چھتریاں لے کر آئے ہیں۔ یہ لوگ راستے میں ہوٹلوں سے کھانا کھاتے رہے، بند راشن اسلام آباد میں استعمال ہو گا۔ معلوم ہوا ہے کہ ابتدائی طور پر 20 روز تک کے قیام کا اندازہ ہے۔ سرکاری خبر کے مطابق جلوس اور جلسے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی، جلسہ کی بیرونی سکیورٹی ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہو گی، اندرونی سکیورٹی آزادی مارچ والے خود کریں گے۔ یہ بات چھپ چکی ہے کہ آزادی مارچ کے لئے 30 ہزار باوردی، 30 ہزار سفید پوش رضا کار تیار کئے گئے ہیں۔ آج جلسے کے بعد مزید اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا۔ خدا کرے سب کچھ پرامن رہے۔ صرف یہ کہ بھارت خوش ہو رہا ہے کہ پاکستان میں مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دب گیا ہے!
٭نوازشریف کی اسلام آباد کی ہائی کورٹ نے بھی طبی بنیادوں پر آٹھ ہفتوں کے لئے ضمانت منظور کر لی۔ وہ اس وقت سروسز ہسپتال کے وی آئی پی کمرہ میں زیر علاج ہیں۔ ساتھ والے کمرے میں ان کی بیٹی مریم نواز بھی رہ رہی ہیں۔ انہیں وزیراعظم عمران خان کی ہدائت پر بیمار باپ کی دیکھ بھال کے لئے ہسپتال میں ساتھ رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مریم وہ خود تندرست ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے عدالت میںیہاں تک کہہ دیا کہ شائد ہم نوازشریف کو کھونے والے ہیں۔ ایم ایس نے بتایا کہ بہت سے ٹیسٹ لینے کے باوجود بیماری کی تشخیص نہیں ہو سکی۔ مشکل یہ ہے کہ مریض کا بدن پلیٹ لیٹس (خون کے خلیے) بالکل تیار نہیں کر رہا۔ انہیں مصنوعی طور پر ٹیکے لگا کر تیاری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو گردے خراب ہو جاتے ہیں۔ ٹیکے نہ لگائیں تو فالج کا خطرہ ہے جب کہ دل کی تکلیف بھی ہے، شوگر بھی بڑھ گئی ہے اور بلڈ پریشر کبھی بہت اونچا، کبھی بہت نیچا ہو رہا ہے۔ ایم ایس نے بھی حالت بہت تشویشناک قرار دی تو عدالت نے علاج کے لئے دو ماہ کی رہائی دے دی۔ نواز شریف کی لندن میں دل کی بائی پاس سرجری ہو چکی ہے۔ وہ دو ماہ لندن میں زیر علاج رہے۔ بیماری کے باعث کچھ عرصہ علاج کے لئے رہائی کی اس مثال سے جیلوں میں بند بہت سے دوسرے مریضوں کی دادرسی کا راستہ کھل گیا ہے۔ ایک مثال پہلے بھی موجود ہے۔ سندھ میں ایک خطرناک مجرم صولت مرزا کو پھانسی کی تاریخ مقرر ہو چکی تھی۔ ایک روز پہلے وہ شدید بیمار ہو گیا۔ پھانسی رک گئی اور اسے صحت یاب ہونے تک علاج کے لئے رہا کر دیا گیا۔ تندرست ہونے پر اسے پھانسی دے دی گئی۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایسی رہائی کا حکم حکومت خود بھی دے سکتی ہے۔
٭نیب کے مطابق سید خورشید شاہ (ایم این اے) کے مزید 100جعلی اکائونٹ دریافت ہوئے ہیں۔ انہیں متعدد فرنٹ مینوں اور خاص ٹھیکیداروں کے ذریعے آپریٹ کیا جا رہا تھا۔ سید خورشید شاہ نیب کی حراست میں ہیں انہیں بھی ہائی بلڈ پریشر کی شکائت ہو گئی ہے اور علاج کیا جا رہا ہے۔ خورشید صاحب کا تو ویسے ہی دوسرے بڑے وڈیروں کی طرح مزاج بہت ہائی رہتا تھا۔ لگتا ہے کہ ان کی بات بھی لمبی ہو گئی ہے۔
٭وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت اطلاعات کی معاون خصوصی (اس وزارت کا وزیر کوئی نہیں) فردوس عاشق اعوان کو بعض وزیروں کے خلاف وہی شکائت پیدا ہو گئی جو انہیں آصف زرداری کے صدارتی دور میں وزرااور افسروں کے بارے میں پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے کراچی میں کابینہ کے اجلاس میںباقاعدہ روتے ہوئے کہا کہ افسران کا حکم نہیں مانتے اور وزیر ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ تقریباً یہی صورت حال اب پیدا ہوئی ہے۔ آصف زرداری کے دور میں یہ بی بی باقاعدہ منتخب اور وزیر تھیں۔ اب منتخب نہ ہو سکیں اور وزیر بھی نہیں ہیں بلکہ 17 غیر منتخب مشیروں اور خصوصی معاونین میں شامل ہیں۔ فواد چودھری کو وزیراطلاعات کے عہدے سے ہٹا کر اچانک فردوس عاشق اعوان کو لایا گیا۔ فواد چودھری کو یہ صدمہ برداشت نہیں ہوا۔ روزانہ ٹیلی ویژنوں پر پریس کانفرنسیں، چہرہ نمایاں ختم ہو گئیں ان کی جگہ یہ بی بی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی اکثر دن میں دو دو بار ٹیلی ویژنوں پر رونمائی ہوتی ہے اس میںوہ عمران زندہ باد سے بات شروع کرتی ہیں اور عمران زندہ باد پر ختم کر دیتی ہیں۔ ان کا یہ ’جمالیاتی‘ اظہار دوسرے وزیروں کو بھی ہضم نہیں ہو رہا۔ فواد چودھری کے علاوہ اس بار شیریں مزاری اور اسد عمر نے بھی پیمرا کے ایک اقدام پر اس بی بی کی حمائت پر سخت بیان دیئے تو کابینہ کے اجلاس میں وہی پرانے الفاظ دہرا دیئے کہ میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بات ٹال دی کہ کوئی دوسری بات کی جائے۔
٭عجیب بات کہ اپوزیشن عمران خان سے وزیراعظم کے عہدہ کا استعفا مانگ رہی ہے اور لبنان کے وزیراعظم سعد حریری مستعفی ہو گئے اور عراق کے وزیراعظم عدیل عبدی کے استعفا کے لئے مظاہرے شروع ہو گئے۔ بے چارے وزیراعظم!
٭بھارت کو جھٹکا۔ ناگا لینڈ کے بعد شمال مشرقی ریاست ’منی پور‘ نے بھی آزادی کا اعلان کر دیا۔ تقریباً 30 لاکھ آبادی اور 22327 مربع کلو میٹر والی یہ ریاست پہلے برما (اب میانمر) کا حصہ تھی۔ انگریزوں نے اسے بھارت میں شامل کرایا۔ اس کے جنوب میں میزو رام اور آسام شمالی میں ناگا لینڈ اور مشرق میں میانمر واقع ہیں۔ منی پور کے عوام پہلے روز سے ہی بھارت میں شمولیت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔ اب لندن میں منی پور کی آزاد حکومت کا اعلان کیا گیا۔ اس کے وزیراعلیٰ یامین بامڑو اور وزیرخارجہ نارنگ بام مقرر ہوئے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بھارت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مدد مانگ لی ہے۔ اس سے پہلے ناگا لینڈ نے اپنی آزاد حکومت قائم کر رکھی ہے اس کی آزاد اسمبلی، آئین اور پرچم کے ساتھ آزاد کرنسی بھی چل رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں