07:41 am
امن و سلامتی کے سب سے عظیم پیغمبرﷺ

امن و سلامتی کے سب سے عظیم پیغمبرﷺ

07:41 am

ربیع الاول کا برکتوں والا مہینہ شروع ہوچکا ہے...اس ماہ مبارک میں سوا چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ کی سرزمین پر حضرت سیدہ آمنہؓ کی جھولی میں حضرت عبداللہ کے دریتیم اور حضرت عبدالمطلب کے پوتے محمد رسول اللہﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی‘ آقا‘ مولیٰﷺ کو کرئہ ارض پر بسنے والے جن و انس‘ حیوانات‘ و جمادات‘ چرند‘ پرند‘ غرضيکہ تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا... نبی کریمﷺ ایسے جمال خلق اور کمال خلق  سے متصف تھے جو حیطئہ بیان سے باہر ہے۔ اس جمال و کمال کا اثر یہ تھا کہ دل آپﷺ کی تعظیم اور قدرومنزلت کے جذبات سے خود بخود لبریز ہو جاتے تھے۔ چنانچہ آپﷺ کی حفاظت اورجلال و تکریم میں لوگوں نے ایسی ایسی فدا کاری و جانثاری کا ثبوت دیا جس کی نظیر دنیا کی کسی اور شخصیت کے سلسلے میں پیش نہیں کی جاسکتی۔ آپﷺ کے رفقاء اور ہم نشین ورافتگی کی حد تک آپﷺ سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گوارا نہ تھا کہ آپﷺ کو خراش آجائے‘ خواہ اس کے لئے ان کی گردنیں ہی کیوں نہ کاٹ دی جائیں۔ اس طرح کی محبت کی وجہ یہی تھی کہ عادۃ جن کمالات پر جان چھڑ کی جاتی ہے‘ ان کمالات سے جس قدر حصہ و افر آپﷺ کو عطا ہوا تھا کسی اور انسان کو نہ ملا۔ ذیل میں ہم عاجزی و بے مائیگی کے اعتراف کے ساتھ ان روایات کا خلاصہ پیش کر رہے ہیں جن کا تعلق آپﷺ کے جمال و کمال سے ہے۔
ہجرت کے وقت رسول اللہﷺ ام معبد خزاعیہ کے خیمے سے گزرے تو اس نے آپﷺ کی روانگی کے بعد اپنے شوہر سے آپﷺ کا حلیہ مبارک کا جو نقشہ کھینچا وہ یہ تھا: چمکتا رنگ‘ تابناک چہرہ‘ خوبصورت ساخت‘ نہ تو ندلے پن کا عیب نہ گنجے پن کی خامی‘ جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر‘ سرمگیں آنکھیں‘ لمبی پلکیں‘ باریک اور باہم ملے ہوئے ابرو‘ چمکدار کالے بال‘ خاموش ہوں تو باوقار‘ گفتگو کریں تو پرکشش‘ دور سے (دیکھنے میں) سب سے تابناک و پرجمال‘ قریب سے سب سے خوبصورت اور شیریں ‘گفتگو میں چاشنی‘ بات واضح اور دو ٹوک‘ نہ مختصر نہ فضول‘ انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں‘ درمیانہ قد‘ نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے‘ نہ لمبا کہ ناگوار لگے‘ دو شاخوں کے درمیان ایک شاخ جو تینوں میں سب سے زیادہ تازہ و خوش منظر و پررونق‘ رفقاء آپﷺ کے گرد حلقہ بنائے ہوئے کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں۔ کوئی حکم دیں تو لپک کر بجالاتے ہیں۔
پہلے آپﷺ اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے‘ اس لئے بال میں کنگھی کرتے تو مانگ نہ نکالتے‘ لیکن بعد میں مانگ نکالا کرتے تھے۔حضرت براءؓ کہتے ہیں آپﷺ کا چہرہ سب سے زیادہ خوبصورت تھا اور آپﷺ کے اخلاق  سب سے بہتر تھے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا نبیﷺ کا چہرہ تلوار جیسا تھا؟ انہوں نے کہا بلکہ چاند جیسا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ کا چہرہ گول تھا۔ ربیع بنت معوذؓ کہتی ہیں کہ اگر تم حضورﷺ کو دیکھتے تو لگتا کہ تم نے طلوع ہوتے ہوئے سورج کو دیکھا ہے۔
حضرت جابربن سمرہؓ کا بیان ہے کہ میں نے ایک بار چاندنی رات میں آپﷺ کو دیکھا‘ آپﷺ پر سرخ جوڑا تھا‘ رسولﷺ کو دیکھا اور چاند کو دیکھتا...آخر (اسی نتیجہ پر پہنچا کہ ) آپﷺ چاند سے زیادہ خوبصورت ہیں۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حریرو دیبا نہیں چھوا جو رسول اللہﷺ کی ہتھیلی سے زیادہ نرم رہا ہو اور نہ کبھی کوئی عنبر یا مشک یا کوئی ایسی خوشبو سونگھی جو رسول اللہﷺ کی خوشبو سے بہتر رہی ہو۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ کسی راستے سے تشریف لے جاتے اور آپﷺ کے بعد کوئی اور گزرتا تو آپﷺ کے جسم یا پسینہ کی خوشبو کی وجہ سے جان جاتا کہ آپﷺ یہاں سے تشریف لے گئے ہیں۔آپﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوتﷺ تھی جو کبوتر کے انڈے جیسی اور جسم مبارک ہی کے مشابہ تھی، یہ بائیں کندھے کی کری (نرم ہڈی) کے پاس تھی۔ اس پر مسوں کی طرح تلوں کا جمگھٹ تھا۔
نبیﷺ فصاحت و بلاغت میں ممتاز تھے۔ آپﷺ طبیعت کی روانی‘ لفظوں کے نکھار‘ فقروں کی جزالت‘ معانی کی صحت اور تکلیف سے دوری کے ساتھ ساتھ جوامع الکلم (جامع باتوں) سے نوازے گئے تھے۔ آپﷺ کو نادر حکمتوں اور عرب کی تمام زبانوں کا  علم عطا ہوا تھا...چنانچہ آپﷺ ہر قبیلے سے اس کی زبان اور محاوروں میں گفتگو فرماتے تھے‘ آپﷺ میں بدویوں کا زور بیان اور قوت تخاطب اور شہریوں کی شستگی الفاظ اور شفتگی و شائستگی جمع تھی اور وحی پر مبنی تائیدر بانی الگ ہے۔
بردباری‘ قوت برداشت‘ قدرت پاکر درگزر اور مشکلات پر صبر ایسے اوصاف تھے جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی تربیت کی تھی‘ ہر حلیم و بردبار کی کوئی نہ کوئی لغزش اور کوئی نہ کوئی ہفوات جانی جاتی ہے مگر نبیﷺ کی بلندی کردار کا یہ عالم تھا کہ آپﷺ کے خلاف دشمنوں کی ایذارسانی اور عرب بدمعاشوں کی خود سری و زیادتی جس قدر بڑھتی گئی‘ آپﷺ کے صبر و حلم میں اسی قدر اضافہ ہوتا گیا... حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کو جب بھی دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جاتا تو آپﷺ وہی کام اختیار فرماتے جو آسان ہوتا ‘ جب تک کہ وہ گناہ کا کام نہ ہوتا‘ اگرگناہ کا کام ہوتا تو آپﷺ سب سے بڑھ کر اس سے دور رہتے۔ آپﷺ نے کبھی اپنے نفس کے لئے انتقام نہ لیا۔ البتہ اگر اللہ کی حرمت چاک کی جاتی تو آپﷺ اللہ کے  لئے انتقام لیتے۔
آپﷺ سب سے بڑھ کر غیض و غضب سے دور تھے‘ سب سے جلد راضی ہو جاتے تھے‘ جو دو کرم کا وصف ایسا تھا کہ اس کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا... آپﷺ اس شخص کی طرح بخشش و نوازش فرماتے تھے جسے فقر کا اندیشہ ہی نہ ہو... ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ نبیﷺسب سے بڑھ کر پیکر جو دوسخا تھے اور آپﷺ کا دریائے سخاوت رمضان المبارک میں اس وقت زیادہ جوش پر ہوتا جب جبرئیل علیہ اسلام آپﷺ سے ملاقات فرماتے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام رمضان میں آپﷺ سے ہر رات ملاقات فرماتے اور قرآن مجید کا دور کراتے۔    
(جاری ہے)
... پس رسول اللہﷺ خیر کی سخاوت میں (خزائن رحمت سے مالا مال کرکے) بھیجی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ پیش پیش ہوتے تھے... حضرت جابرؓ کا ارشاد ہے کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپﷺ نے نہیں کہہ دیا ہو۔
شجاعت‘ بہادری اور دلیری میں بھی آپﷺ کا مقام سب سے بلند اور معروف تھا آپﷺ سب سے زیادہ دلیر تھے۔ نہایت کٹھن اور مشکل مواقع پر جب کہ اچھے اچھے جانبازوں اور بہادروں کے پائوں اکھڑ گئے آپﷺ اپنی جگہ برقرار رہے تھے اور پیچھے ہٹنے کے بجائے آگے ہی بڑھتے گئے... پائے ثبات میں ذرالغزش نہ آئی‘ بڑے بڑے بہادر بھی کبھی نہ کبھی بھاگے اور پسپا ہوئے ہیں‘ مگر آپﷺ میں یہ بات کبھی نہیں پائی گئی‘ حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ جب زورکارن پڑتا اور جنگ کے شعلے خوب بھڑک اٹھتے تو ہم رسول اللہﷺ کی آڑ لیا کرتے تھے۔
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تین حروف کے اس چھوٹے سے لفظ ’’امن‘‘ کے معنی میں چاشنی ‘ مٹھاس ‘ سکون اور حسن پیدا ہی اس وقت ہوا جب رسول مدنیﷺ نے سلامتی والے مذہب اسلام کی تبلیغ شروع کی ‘ جس مذہب  اسلام کا مطلب ہی سلامتی ہو … جس مذہب کی سب سے مقدس کتاب قرآن حکیم کا ایک ایک لفظ ‘‘امن‘‘ کا پیامبر ہو … جس قرآن پاک کی ایک ایک سطر سے امن و سکون کے دریا بہتے ہوں ، جو قرآن مقدس بے سکون دلوں کیلئے راحت کا انتظام فرماتا ہو… اس اسلام اور قرآن کے ماننے والے بھلا امن کے دشمن کیسے ہوسکے ہیں؟
  آج دنیا حیران و پریشان ہے ظلم و تشدد کی اس آگ کو کیسے بجھا جائے؟ ان دگرگوں حالا ت پر کیسے قابو پایا جائے؟ اور شاہین امن کو زیر دام کیسے لایا جائے؟  قیام امن کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ تمام لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو ، کیونکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے مذہب و عقیدے میں آزاد ہو۔ جب  کبھی مذہبی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی نتیجتاً فساد  شروع ہوا۔ اس لئے آپﷺ نے تمام لوگوں کو مذہبی آزادی کا حق دیا ہے۔ جس کی مثال یہود مدینہ کے ساتھ تاریخ ساز معاہدہ ’’ میثاق مدینہ‘‘ ہے  جس سے شرکائے معاہدہ میں گروہ اور فرد کو اپنے اپنے عقیدے  و مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہوا۔  
اطراف عالم میں قیام امن کے لئے تمام طبقات انسانی میں مساوات انتہائی ضروری ہے۔ اگر اقوام عالم میں سے بعض اپنے آپ کو دوسروں سے بلند و برتر خیال کرے تو امن عالم کو برقرار رکھنامشکل ہو جائے گا۔ اس لئے پیغام محمدی نے ان تمام تفرقوں کو مٹا دیا۔  جن کی بنیاد حسب و نسب ، مال و دولت  ، رنگ و روپ اور شکل و صورت پر ہو۔ وہ قریش جن کو اپنے حسب و نسب پر غرور و ناز تھا، فتح مکہ کے دن کعبہ کے صحن میں کھڑے ہو کر ان کو آپﷺ نے یہ بتایا : ’’ اے قریش کے لوگو ، اب جاہلیت کا غرور اور نسبت کا فخراللہ تعالیٰ نے مٹا دیا۔  تمام انسان آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔‘‘
 جان ، مال اور عزت کی حفاظت:  جان ، مال اور عزت آدمی کی ایسی چیزیں ہیں جب تک ان کی حفاظت کا سامان نہ کیا جائے، دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن سکتی۔ اس لئے اس باب میں آپ نے بڑے  سخت قوانین دئیے جیسے حدود و قصاص کے قوانین ، تاکہ کسی کو جرات نہ ہو کہ وہ کسی کی جان ، مال یا عزت پر ہاتھ ڈال سکے۔
آپﷺ نے تفرقہ بازی اور گروہی سیاست کے ذریعے انتشار اور  انارکی پھیلانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ چنانچہ بے شمار احادیث میں آپﷺ نے تفرقہ بازی سے بچنے ، امیر کی اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑنے کا زور دار حکم دیا ہے۔  یہ تو تھے عام حالات میں قیام امن کے لئے آپﷺ کے احکامات۔ اب آتے ہیں جنگ کی حالت میں .... جس میں ظلم و تشدد کا بازار گرم  ہوتا ہے اور جائز و ناجائز کی تمیز نہیں رہتی .... آپﷺ کے احکامات کیاہیں؟
 محمد عربیﷺ نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ غیر مسلموں پر بغیر کسی پیشگی اطلاع اور مہلت کے اچانک دھاوا نہ بولیں بلکہ انہیں حکم دیا :  سب سے پہلے ان کے سامنے اسلام کو پیش کیا جائے، اگر اسلام قبول کریں تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیں تو انہیں جزیہ دینے کیلئے کہا جائے۔ اگر مدمقابل کو یہ بھی قبول نہ ہو تو پھر لڑائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
 مسلمان میدان کار زار میں:  اگر صلح کی کوئی بھی صورت نہ بن پڑے اور جنگ کی نوبت آہی جائے تب بھی محمد عربیﷺ اپنے ماننے والوں کو جنگلی درندوں کی طرح  آزاد نہیں چھوڑتے جو جی میں آئے کر گزریں۔  جس کی گردن اڑانا چاہے اڑا دیں۔ جس کی عزت تار تار کرنے چاہیں کر دیں۔  بلکہ عین میدان کار زار میں بھی ان پر کڑی شرائط عائد کرتے ہیں جن میں کسی قسم کی کوئی  کوتاہی یا خامی کو برداشت نہیں کیا جاتا۔  ان  میں یہ احکام شامل ہیں:  بوڑھوں، عورتوں ، بچوں ، معذور ، گوشہ نشین راہبوں اور ان لوگوں کو جو کسی  اور وجہ سے جنگ میں حصہ لینے کے قابل نہ ہوں، قتل کرنا منع ہے۔ اس کے  لئے  اہل حرب اور غیر اہل حرب کی تخصیص کی گئی اور صرف ان کے خلاف  تلوار اٹھانے کی اجازت  ہے  جو لڑ رہے ہوں ، جاسوسی کر رہے ہوں یا کسی اور طریقے سے  جنگ میں شامل ہوں۔ اس طرح آپﷺ نے جنگ اور قتل عام کا فرق واضح کر دیا۔
 اسی طرح تمام عبادت گاہیں قانوناً جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہیں۔ مقتول دشمن کا چہرہ بگاڑنا یا اس کے اعضاء کاٹنا  ممنوع ہے۔ عہد کی پابندی مسلمان کے لئے مذہبی فریضہ ہے۔ کسی بھی مصلحت ، کسی بھی بہانے اور کسی بھی چال سے عہد سے روگردانی جائز نہیں۔
آپﷺ نے اسیران جنگ  کے ساتھ انتہا درجے کی ملائمت اور نرمی کے سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔  اسلامی قانون ہے اختتام جنگ کے بعد حسب مصلحت۔  (1 )  اپنے جنگی قیدیوں کے ساتھ ان کا تبادلہ  کر لیا جائے۔ (2)   فدیہ لئے بغیر انہیں  آزاد کر دیا جائے ۔ (3 ) فدیہ لے کر  آزاد کر دیا جائے ۔ (4 )  جن کو قتل کئے بغیر چار ہ نہیں، انہیں قتل کرنے کی بھی اجازت ہے۔
 صلح کے متعلق آپؐ  کے احکام:  مسلمان بادشاہ کو یہ اختیار ہے  اگر وہ اسلام یا مسلمانوں کا نفع اور مصلحت سمجھے تو صلح کرلے۔ عند الضرورۃ کافروں سے  بلامعاوضہ ، مال دے کر اور مال لے کر تینوں طرح صلح کرنا جائز ہے۔ شرائط  صلح میں سے کسی شرط کے خلاف کرنا بدعہدی اور عہد شکنی ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔
 یہ ہیں آپ ﷺ کے پیغام امن کے دہ آبدار  موتی جن کی چمک اور دمک مغرب کو ایک آنکھ نہیں بھاتی  اور انہیں دھندلانے کے لئے انواع و اقسام کے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں، مگر پھونکوں  سے یہ چراغ بجھا یا نہ جائے گا۔ ان میں سے بڑی شدومد کے  ساتھ جو پروپیگنڈا کیا گیا وہ یہ ہے کہ اسلام تلوار  سے پھیلا ہے لیکن اگر اسلام کے مذکورہ بالا قوانین جنگ پیش  نظر ہوں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس پروپیگنڈے کی کوئی حقیقت  نہیں۔ 
سوا چودہ سو سال قبل ربیع الاول کے مہینے میں خالق کائنات نے روئے زمین والوں کو اپنے پاک پیغمبر کی دولت سے مالا کر کے جو احسان عظیم فرمایاتھا، اسی پیغمبر المرسلﷺ کے لائے ہوئے اسلام کی بدولت آج دنیا میں کہیں کہیں امن نظر آرہا ہے۔۔۔ دنیا میں مستقل اور پائیدار امن  قائم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ محسن انسانیت ﷺ کے دامن شفاعت میں پناہ ڈھونڈلی  جائے۔

 

تازہ ترین خبریں