07:46 am
امن و سلامتی کے سب سے عظیم پیغمبرﷺ

امن و سلامتی کے سب سے عظیم پیغمبرﷺ

07:46 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
... پس رسول اللہﷺ خیر کی سخاوت میں (خزائن رحمت سے مالا مال کرکے) بھیجی ہوئی ہوا سے بھی زیادہ پیش پیش ہوتے تھے... حضرت جابرؓ کا ارشاد ہے کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپﷺ سے کوئی چیز مانگی گئی ہو اور آپﷺ نے نہیں کہہ دیا ہو۔
یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تین حروف کے اس چھوٹے سے لفظ ’’امن‘‘ کے معنی میں چاشنی ‘ مٹھاس ‘ سکون اور حسن پیدا ہی اس وقت ہوا جب رسول مدنیﷺ نے سلامتی والے مذہب اسلام کی تبلیغ شروع کی ‘ جس مذہب  اسلام کا مطلب ہی سلامتی ہو … جس مذہب کی سب سے مقدس کتاب قرآن حکیم کا ایک ایک لفظ ‘‘امن‘‘ کا پیامبر ہو … جس قرآن پاک کی ایک ایک سطر سے امن و سکون کے دریا بہتے ہوں ، جو قرآن مقدس بے سکون دلوں کیلئے راحت کا انتظام فرماتا ہو… اس اسلام اور قرآن کے ماننے والے بھلا امن کے دشمن کیسے ہوسکے ہیں؟
 
  آج دنیا حیران و پریشان ہے ظلم و تشدد کی اس آگ کو کیسے بجھا جائے؟ ان دگرگوں حالا ت پر کیسے قابو پایا جائے؟ اور شاہین امن کو زیر دام کیسے لایا جائے؟  قیام امن کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ تمام لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو ، کیونکہ ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے مذہب و عقیدے میں آزاد ہو۔ جب  کبھی مذہبی آزادی چھیننے کی کوشش کی گئی نتیجتاً فساد  شروع ہوا۔ اس لئے آپﷺ نے تمام لوگوں کو مذہبی آزادی کا حق دیا ہے۔ جس کی مثال یہود مدینہ کے ساتھ تاریخ ساز معاہدہ ’’ میثاق مدینہ‘‘ ہے  جس سے شرکائے معاہدہ میں گروہ اور فرد کو اپنے اپنے عقیدے  و مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہوا۔  
اطراف عالم میں قیام امن کے لئے تمام طبقات انسانی میں مساوات انتہائی ضروری ہے۔ اگر اقوام عالم میں سے بعض اپنے آپ کو دوسروں سے بلند و برتر خیال کرے تو امن عالم کو برقرار رکھنامشکل ہو جائے گا۔ اس لئے پیغام محمدی نے ان تمام تفرقوں کو مٹا دیا۔  جن کی بنیاد حسب و نسب ، مال و دولت  ، رنگ و روپ اور شکل و صورت پر ہو۔ وہ قریش جن کو اپنے حسب و نسب پر غرور و ناز تھا، فتح مکہ کے دن کعبہ کے صحن میں کھڑے ہو کر ان کو آپﷺ نے یہ بتایا : ’’ اے قریش کے لوگو ، اب جاہلیت کا غرور اور نسبت کا فخراللہ تعالیٰ نے مٹا دیا۔  تمام انسان آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔‘‘
 جان ، مال اور عزت کی حفاظت:  جان ، مال اور عزت آدمی کی ایسی چیزیں ہیں جب تک ان کی حفاظت کا سامان نہ کیا جائے، دنیا امن کا گہوارہ نہیں بن سکتی۔ اس لئے اس باب میں آپ نے بڑے  سخت قوانین دئیے جیسے حدود و قصاص کے قوانین ، تاکہ کسی کو جرات نہ ہو کہ وہ کسی کی جان ، مال یا عزت پر ہاتھ ڈال سکے۔
آپﷺ نے تفرقہ بازی اور گروہی سیاست کے ذریعے انتشار اور  انارکی پھیلانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ چنانچہ بے شمار احادیث میں آپﷺ نے تفرقہ بازی سے بچنے ، امیر کی اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑنے کا زور دار حکم دیا ہے۔  یہ تو تھے عام حالات میں قیام امن کے لئے آپﷺ کے احکامات۔ اب آتے ہیں جنگ کی حالت میں .... جس میں ظلم و تشدد کا بازار گرم  ہوتا ہے اور جائز و ناجائز کی تمیز نہیں رہتی .... آپﷺ کے احکامات کیاہیں؟
 محمد عربیﷺ نے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ غیر مسلموں پر بغیر کسی پیشگی اطلاع اور مہلت کے اچانک دھاوا نہ بولیں بلکہ انہیں حکم دیا :  سب سے پہلے ان کے سامنے اسلام کو پیش کیا جائے، اگر اسلام قبول کریں تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیں تو انہیں جزیہ دینے کیلئے کہا جائے۔ اگر مدمقابل کو یہ بھی قبول نہ ہو تو پھر لڑائی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔
 مسلمان میدان کار زار میں:  اگر صلح کی کوئی بھی صورت نہ بن پڑے اور جنگ کی نوبت آہی جائے تب بھی محمد عربیﷺ اپنے ماننے والوں کو جنگلی درندوں کی طرح  آزاد نہیں چھوڑتے جو جی میں آئے کر گزریں۔  جس کی گردن اڑانا چاہے اڑا دیں۔ جس کی عزت تار تار کرنے چاہیں کر دیں۔  بلکہ عین میدان کار زار میں بھی ان پر کڑی شرائط عائد کرتے ہیں جن میں کسی قسم کی کوئی  کوتاہی یا خامی کو برداشت نہیں کیا جاتا۔  ان  میں یہ احکام شامل ہیں:  بوڑھوں، عورتوں ، بچوں ، معذور ، گوشہ نشین راہبوں اور ان لوگوں کو جو کسی  اور وجہ سے جنگ میں حصہ لینے کے قابل نہ ہوں، قتل کرنا منع ہے۔ اس کے  لئے  اہل حرب اور غیر اہل حرب کی تخصیص کی گئی اور صرف ان کے خلاف  تلوار اٹھانے کی اجازت  ہے  جو لڑ رہے ہوں ، جاسوسی کر رہے ہوں یا کسی اور طریقے سے  جنگ میں شامل ہوں۔ اس طرح آپﷺ نے جنگ اور قتل عام کا فرق واضح کر دیا۔
 اسی طرح تمام عبادت گاہیں قانوناً جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہیں۔ مقتول دشمن کا چہرہ بگاڑنا یا اس کے اعضاء کاٹنا  ممنوع ہے۔ عہد کی پابندی مسلمان کے لئے مذہبی فریضہ ہے۔ کسی بھی مصلحت ، کسی بھی بہانے اور کسی بھی چال سے عہد سے روگردانی جائز نہیں۔
آپﷺ نے اسیران جنگ  کے ساتھ انتہا درجے کی ملائمت اور نرمی کے سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔  اسلامی قانون ہے اختتام جنگ کے بعد حسب مصلحت۔  (1 )  اپنے جنگی قیدیوں کے ساتھ ان کا تبادلہ  کر لیا جائے۔ (2)   فدیہ لئے بغیر انہیں  آزاد کر دیا جائے ۔ (3 ) فدیہ لے کر  آزاد کر دیا جائے ۔ (4 )  جن کو قتل کئے بغیر چار ہ نہیں، انہیں قتل کرنے کی بھی اجازت ہے۔ صلح کے متعلق آپؐ  کے احکام:  مسلمان بادشاہ کو یہ اختیار ہے  اگر وہ اسلام یا مسلمانوں کا نفع اور مصلحت سمجھے تو صلح کرلے۔ عند الضرورۃ کافروں سے  بلامعاوضہ ، مال دے کر اور مال لے کر تینوں طرح صلح کرنا جائز ہے۔ شرائط  صلح میں سے کسی شرط کے خلاف کرنا بدعہدی اور عہد شکنی ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔
 یہ ہیں آپ ﷺ کے پیغام امن کے دہ آبدار  موتی جن کی چمک اور دمک مغرب کو ایک آنکھ نہیں بھاتی  اور انہیں دھندلانے کے لئے انواع و اقسام کے پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں، مگر پھونکوں  سے یہ چراغ بجھا یا نہ جائے گا۔ ان میں سے بڑی شدومد کے  ساتھ جو پروپیگنڈا کیا گیا وہ یہ ہے کہ اسلام تلوار  سے پھیلا ہے لیکن اگر اسلام کے مذکورہ بالا قوانین جنگ پیش  نظر ہوں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اس پروپیگنڈے کی کوئی حقیقت  نہیں۔ 
سوا چودہ سو سال قبل ربیع الاول کے مہینے میں خالق کائنات نے روئے زمین والوں کو اپنے پاک پیغمبر کی دولت سے مالا کر کے جو احسان عظیم فرمایاتھا، اسی پیغمبر المرسلﷺ کے لائے ہوئے اسلام کی بدولت آج دنیا میں کہیں کہیں امن نظر آرہا ہے۔ دنیا میں مستقل اور پائیدار امن  قائم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ محسن انسانیت ﷺ کے دامن شفاعت میں پناہ ڈھونڈلی  جائے۔

تازہ ترین خبریں