07:04 am
                                       سیرۃ النبیﷺ

                                       سیرۃ النبیﷺ

07:04 am

حضرت ابراہیم کی اولاد:بانی کعبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک فرزند کا نام نامی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہے
(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت ابراہیم کی اولاد:بانی کعبہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک فرزند کا نام نامی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہے جو حضرت بی بی ہاجرہ کے شکم مبارک سے پیداہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو اوران کی والدہ حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مکہ مکرمہ میں لاکر آباد کیا اور عرب کی زمین ان کو عطافرمائی۔ 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے فرزند کا نام نامی حضرت اسحاق علیہ السلام ہے جو حضر ت بی بی سارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مقدس شکم سے تولد ہوئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو ملک شام عطافرمایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی حضرت قطورہ کے پیٹ سے جو اولاد مدین وغیرہ ہوئے ان کو آپ نے یمن کا علاقہ عطافرمایا۔
اولاد حضرت اسمٰعیل:حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہوئے اوران کی اولاد میں خدا وند قدوس نے اس قدر برکت عطافرمائی کہ وہ بہت جلد تمام عرب میں پھیل گئے یہاں تک کہ مغرب میں مصر کے قریب تک ان کی آبادیاں جاپہنچیں اورجنوب کی طرف ان کے خیمے یمن تک پہنچ گئے اورشمال کی طرف ان کی بستیاں ملک شام سے جاملیں۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ایک فرزند جن کا نام قیدارتھا بہت ہی نامور ہوئے اوران کی اولاد خاص مکہ میں آباد رہی اوریہ لوگ اپنے باپ کی طرح ہمیشہ کعبہ معظمہ کی خدمت کرتے رہے جس کو دنیا میں توحید کی سب سے پہلی درسگاہ ہونیکا شرف حاصل ہے۔ انہی قیدار کی اولاد میں ''عدنان'' نامی نہایت اولوالعزم شخص پیداہوئے اور ''عدنان''کی اولاد میں چند پشتوں کے بعد ''قصی''بہت ہی جاہ وجلال والے شخص پیدا ہوئے جنہوں نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ حکومت کی بنیاد پر 440 میں ایک سلطنت قائم کی اورایک قومی مجلس (پارلیمنٹ)بنائی جو ''دارالندوہ' 'کے نام سے مشہور ہے اور اپنا ایک قومی جھنڈا بنایا جسکو ''لواء ''کہتے تھے اور مندرج ذیل چار عہدے قائم کئے۔ جن کی ذمہ داری چار قبیلوں کو سونپ دی۔ 
(1)رفادۃ (2)سقایۃ (3)حجابۃ (4)قیادۃ
''قصی '' کے بعد ان کے فرزند ''عبد مناف''اپنے باپ کے جانشین ہوئے پھر ان کے فرزند ''ہاشم ''پھر ان کے فرزند ''عبدالمطلب ''یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کے جانشین ہوتے رہے۔ انہی عبدالمطلب کے فرزند حضرت عبداللہ ہیں۔ جن کے فرزند ارجمند ہمارے حضور رحم?للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں۔ جن کی مقدس سیرت پاک لکھنے کا خداوند عالم نے اپنے فضل سے ہم کو شرف عطافرمایا ہے۔
حضور تاجدارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مکی زندگی
محمد وہ کتاب کون   کا  غرائے پیشانی
محمد وہ  حریم قدس   کا   شمع شبستانی
مبشر جس کی بعثت کا ظہورِ عیسیٰ مریم 
مصدق جس کی عظمت کا لب موسٰی عمرانی
(علیہم الصلوٰۃ والسلام)
نسب نامہ:  حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا نسب شریف والد ماجد کی طرف سے یہ ہے:
(۱)حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم (۲) بن عبداللہ (۳) بن عبدالمطلب (۴) بن ہاشم (۵)بن عبد مناف (۶)بن قصی(۷)بن کلاب(۸)بن مرہ(۹) بن کعب (۰۱)بن لوی(۱۱)بن غالب(۲۱) بن فہر (۳۱)بن مالک(۴۱) بن نضر (۵۱) بن کنانہ(۶۱) بن خزیمہ(۷۱) بن مدرکہ(۸۱) بن الیاس (۹۱) بن مضر (۰۲) بن نزار(۱۲) بن معد(۲۲)بن عدنان اور والدہ ماجدہ کی طرف سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا شجرۂ نسب یہ ہے:
(1) حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم(2) بن آمنہ(3)بنت وہب(4) بن عبد مناف(5) بن زہرہ(6) بن کلاب(7) بن مرہ۔ 
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والدین کا نسب نامہ ''کلاب بن مرہ '' پر مل جاتا ہے اور آگے چل کردونوں سلسلے ایک ہو جاتے ہیں۔ '' عدنان'' تک آپ کا نسب نامہ صحیح سندوں کیساتھ باتفاق مؤرخین ثابت ہے اس کے بعد ناموں میں بہت کچھ اختلاف ہے اورحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب بھی اپنا نسب نامہ بیان فرماتے تھے تو ''عدنان'' ہی تک ذکر فرماتے تھےمگر اس پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ ''عدنان'' حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیںاور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرزند ارجمند ہیں۔
خاندانی شرافت:حضورِاکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان و نسب نجابت و شرافت میں تمام دنیا کے خاندانوں سے اشرف و اعلیٰ ہے اور یہ وہ حقیقت ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن کفار مکہ بھی کبھی اس کا انکار نہ کر سکے۔ چنانچہ حضرت ابو سفیان نے جب وہ کفر کی حالت میں تھے بادشاہ روم ہر قل کے بھرے دربار میں اس حقیقت کا اقرار کیا کہ ''ھو فیناذونسب'' یعنی نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ''عالی خاندان'' ہیں۔ 
حالانکہ اس وقت وہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدترین دشمن تھے اور چاہتے تھے کہ اگر ذرا بھی کوئی گنجائش ملے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات پاک پر کوئی عیب لگا کر بادشاہ روم کی نظروں سے آپ کا وقار گرا دیں۔
1…صحیح البخاری ، کتاب بدء الوحی ، باب 6، ج1،ص10مفصلاً
مسلم شریف کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ''کنانہ'' کو برگزیدہ بنایا اور ''کنانہ'' میں سے ''قریش'' کو چنا ،اور ''قریش'' میں سے ''بنی ہاشم'' کو منتخب فرمایا،اور ''بنی ہاشم'' میں سے مجھ کو چن لیا۔
ہر حال یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ… ’’حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خاندان اس قدر بلند مرتبہ ہے کہ کوئی بھی حسب و نسب والا اور نعمت و بزرگی والا آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مثل نہیں ہے‘‘۔
قریش:حضورِاقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خاندانِ نبوت میں سبھی حضرات اپنی گوناگوں خصوصیات کی وجہ سے بڑے نامی گرامی ہیں۔ مگر چند ہستیاں ایسی ہیں جو آسمان فضل و کمال پر چاند تارے بن کر چمکے۔ ان با کمالوں میں سے ''فہر بن مالک'' بھی ہیں ان کا لقب ''قریش'' ہے اور ان کی اولاد قریشی ''یا قریش'' کہلاتی ہے۔
''فہر بن مالک '' قریش اس لئے کہلاتے ہیں کہ ''قریش'' ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور ہوتا ہے، اور سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے یہ تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا چونکہ ''فہر بن مالک'' اپنی شجاعت اور خداداد طاقت کی بنا پر تمام قبائلِ عرب پر غالب تھے اسلئے تمام اہل عرب ان کو ’’قریش‘‘ کے لقب سے پکارنے لگے۔ 
(جاری ہے)
 

تازہ ترین خبریں